ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:سپریم کورٹ اور میڈیا کا کردار۔۔۔!!
موجودہ سپریم کورٹ بمعہ موجودہ ٹیلیویژن چینلز کی واردات ثابت ھوئیں ہیں کہ کس طرح تیئس کروڑ عوام کو دونوں نے مل کر کیسے اندھا بنائے رکھا، آئین کے مطابق سپریم کورٹ قومی اسمبلی کو ہدایات یا حکم جاری نہیں کرسکتی اور جسٹس عطا بندیال نے جو آئین شکنی کی ہے اس سے اب یہ سوچا جائے کہ پانچوں ججز پر آئین کی خلاف ورزی پر آرٹیکل چھ بنتا ہے۔ نقطہ اول یہ کہ اسپیکر کھڑا ہو کر کہہ دے کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ مجھے آڈر نہیں کرسکتی کیونکہ میری رولنگ میں آئین کا نمبر شمار درج ہے، جسے سپریم کورٹ کے ججز نے ذاتی ایجنڈا پر نظر انداز کر کے آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ دوسرا اہم نقطہ یہ ھے کہ اسپیکر نے جس بنیاد پر آرٹیکل پانچ کے تحت کاروائی کی، اس پر بات کئے بغیر اور جانچے بغیر کیسے فیصلہ دے سکتے ہیں۔ یہ بھی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ ایویڈنس کو اگنور کرنا بھی جرم ہے اور آئین شکنی پر اسپیکر اپنی ایڈوانس صدرِ پاکستان کو بھیج سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ جسٹسز کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کے اس ثبوت پر آئینی کاروائی کی جائے۔ تیسرا اہم نقطہ یہ ھے کہ جب آپ پارلیمانی امور میں مداخلت کر ہی نہیں سکتے تو اس کے خلاف نِل اینڈ وائڈ کا حکم نامہ کیسے جاری کرسکتے ہیں۔ چوتھا اہم نقطہ یہ کہ جب آپ کے سائلین میں وہ پارٹی بھی شامل ہے جس کے اندر آپ کے گھر کے افراد موجود ہیں تو آپ کیسے اس کیس کو ہینڈل کرسکتے ہیں۔ آپکی خاندانی وابستگی اثر انداز ہوسکتی ہے بلکہ ہوئی ہے۔ پانچواں اہم نقطہ یہ ھے کہ یکم اپریل کو درخواست جو عدم اعتماد کی کاروائی روکنے پر آئی آپ نے رد کر دی، حکم لکھا کہ ہم پارلیمان میں مداخلت نہیں کرسکتے راتوں رات آئین میں ایسی کون سی شق آگئی جو آپ نے پارلیمان کی کاروائی کا از خود نوٹس لیکر اسے رول بیک کردیا؟؟؟ چھٹا نقطہ یہ کہ تریسٹھ اے کی تشریح کیلئے پیش کیا گیا صدارتی ریفرنس ابھی تک پینڈنگ پر کیوں ہے؟؟ کیا آپ خود کو صدرِ پاکستان سے بھی سپیرئیر تصور کرتے ہیں اور ڈیلے ٹیکٹکس استعمال کر کے اپوزیشن کی ہارس ٹریڈنگ کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں؟؟ ساتواں نقطہ یہ ھے کہ آپ کا اختیار نہیں کہ صدر کے آڈرز کو رول بیک کریں تو کس طرح فیصلہ میں اسمبلی بحال کی یہ وہ سات آئینی نقاط ہیں جو سپریم کورٹ کے پانچ ججز کو سیاسی جج یا امریکی گیم پلان کے ساتھی ثابت کرتے ہیں جو کہ اگر صدرِ پاکستان چاہیں تو اپنے ایک ٹیلیویژن بیان کے بعد ان ججز کو برخاست یا آرمی چیف کو ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے حکم دے سکتے ہیں اور ساتھ ہی ریفرینڈم کا حکم بھی صادر کرسکتے ہیں تو آپ کے اس حکم پر پورا ملک لبیک کہے گا اور ملک کے مخلصوں کے مددگار کے طور پر دیکھا جاسکے گا، ورنہ آج امریکی ایجنڈا کامیاب اور افواج پاکستان کے خلاف وہ وقت شروع ہو جائے گا جو یہ مافیا سنہ دو ہزار سات سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ الله پاکستان کی غیب سے مدد فرمائے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
