BBC Urdu TV

عنوان:سول سے عسکری قیادت تک

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:سول سے عسکری قیادت تک

مسلم سپہ سالار کا جب نام لیا جاتا ہے تو دین اسلام یعنی دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا دور سب سے پہلے روشن قندیل کی طرح سامنے آتا ہے کیونکہ دین الہٰی کے محبوب ترین دین محمدی کو آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب اور پسند فرماتے ہوئے دین محمدی رائج کیا اور دین محمدی کو پھیلاؤ کیلئے جہاد کا حکم فرمایا آپ صلی الله علیہ وسلم نے کفار و مشکرین منافقین اور یہود و نصاریٰ کی سرکشی اور اسلام دشمنی کو خاک میں مٹانے کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف غزوات میں سپہ سالاری کی کمان سنبھالی اور دنیا نے دیکھا کہ چند ایمان افروزمجاہدوں نے ہزاروں مشرکین و کفار کو جہنم واصل کیا۔۔ جہاد فی سبیل الله یعنی جہاد فی اسلام کا حکم باری تعالیٰ نے اپنی مقدس ترین کتاب قرآن الحکیم والفرقان المجید میں دین کا رکن قرار دیتے ہوئے اس جانب بار ہا بار رغبت اور متوجہ کیا ہے۔ تاریخ اسلام اور دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی سربلندی کیلئےلڑی جانےوالی فتوحات سے بھری پڑی ہیں یہ سلسلہ دو قومی نظریہ ہندو اور مسلم سے جا ٹکرایا اور 14 اگست 1947 ء میں خالصتاً دین محمدی یعنی دین اسلام کیلئے معروض وجود میں آیا اور قائداعظم نے انگریز حکومت کے سامنے دین محمدی کا نظریہ پیش کرکےثابت کردیا تھا کہ برصغیر میں دو قومیں آباد ہیں جو کبھی بھی ہندو اور مسلم یکجا نہیں رہ سکتے ہیں اسی لیئے مسلم اکثریتی علاقوں کو شامل کرکے ایک الگ مسلم ریاست قائم کرنے کیلئے دنیا کے خطے میں قبول کیا جائے اور آزاد مسلم ریاست کی درجہ بندی یعنی باؤنڈری متعین کی جائے اس بابت انگریز حکومت نے قائد اعظم کے اس نظرئیے کو قبول کیا لیکن بددیانتی کرکے کئی مسلم حصوں کو آزاد مسلم ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان سے محروم رکھا۔۔۔۔ معزز قارئین!! دنیا نے دیکھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے وصال کے بعد انکے مخلص سچے رفقائے کاروں کو سازش و منافقت کے ساتھ بیرونی قوتوں نے اندرونی قوتوں بلخصوص قادیانوں کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیاسی اور ماضی کی چند ایک عسکری قوتوں کے ذریعے ناتلافی نقصان سے دوچار کیا اس نقصان میں سقوط ڈھاکہ بھی شامل ہے۔ وقت گزرتاگیا ایکطرف پاکستان بڑھ رہا تھا تو دوسری جانب اسکے پاؤں میں رکاوٹ اورآگ (ایندھن) سلگائے جارہے تھے سازشوں اور منافقوں کے ساتھ کرپٹ بدکرداروں اورلٹیروں نےبھی خوب پاؤں جمائے۔ تین سے چار بار مارشلا آئے لیکن سوائے ریاست کی تباہی و بربادی کیلئےکوئی سنہرا لفظ نہیں ملتا انکے لیئے۔ دوسری جانب جمہوری شہنشاہوں نے جس قدر قومی دولت کو لوٹنے اور کرپشن میں دنیا کے تمام ممالک کو شکست دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی موجودہ حالات میں ادارے،شعبے،محکمے کوئی بھی کرپشن،لوٹ مار،رشوت خوری سے باز نظر نہیں آتے دکھائی دیتے ہیں حتیٰ کہ عدالتی، انتظامیہ اور مقننہ یعنی ایوان سب کے سب تباہ و بربادی کی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں ان حالات میں 18 ویں ترمیم کا عمل پیش پیش ہےکیونکہ اس ترمیم کے ذریعے سیاسی لٹیروں نے خود کو محفوظ دیوار کا حصار میں باندھ لیا ہے۔ رہی سہی کسر عوام کے ایک بہت بڑے حلقے نے بھی پوری کردی ہے وہ یوں کہ قانون نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی عوام سے ہی مافیا پیدا ہوئے اور نظام کی کمزوری، ناکامی، بدنظمی اور کرپشن میں لپٹنے کی وجہ سے بیشمار مافیاؤں نے اپنے نہ صرف پنجے گاڑ دیئے ہیں بلکہ اپنی پنجوں سے ریاست کے نظام کو بھی تار تار کر ڈالا ہے جس سے ہرطرف مہنگائی کا طوفان، ہرطرف طاقتور کمزور پر حاوی، ہر طرف لاقانونیت، ہرطرف اقربہ پروری، ہرطرف لوٹ مار، ہرطرف قتل و غارت گری، ہرطرف ظلم و تشدد و بربریت اور ہرطرف تعصب، عصبیت، نفرت اور مسلکی جنگیں ہی نظر آتی ہیں گویا پاکستان جہاں بیرونی دشمنوں سے نبردآزما ہےوہیں دوسری جانب اندورنی دشمنوں کے وار سے بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتا ۔۔ معزز قارئین!! سول انتظامیہ اور سیاسی اقتداروں کے منفی و ناکام طریق نے مجبور کردیا ہے کہ پاکستان کے محکوں، شعبوں، اداروں اور وزارتوں کی اصلاحات کی جائیں اس مد میں انتہائی قابل، ذہین، ماہر عسکری افسران کی خدمات حاصل کی جاری ہیں تاکہ بگڑتے، بکھرتے، تباہ و برباد پاکستان کو سنبھالا جائے اور جس طرح عسکری انتظامیہ میں بہترین نظام کےاصولوں پر کاربند ہوتی ہیں اب اسی قدر سول محکمے، شعبے، ادارے، وزارتیں بھی نظم و ضبط کیساتھ بہتر درست خطوط پراستوار کرنے کیلئے اعلیٰ عسکری قیادتوں پرذمہ داری عائد کی گئی ہیں۔ معزز قارئین!! پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اگلے چیئرمین لیفٹینٹ جنرل(ر) جناب ظفر اقبال صاحب ہونگے، وزارت سدباب منشیات بریگیڈیئر اعجاز شاہ، محتسب پنجاب، میجر ریٹائرڈ سلیمان اعظم
چیئرمین سی پیک اتھارٹی، لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ چیئرمین پی آئی اے، ایئر مارشل ارشد محمود
چیئرمین واپڈا، لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین این ڈی ایم اے چیرمین، لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز ممبر آپریشنز، بریگیڈئیر وسیم الدین ڈائریکٹر ایڈمن، کرنل عبدالشکور ڈائریکٹر، ریسپانس، میجر نعمان الحق
ڈائریکٹر امپلیمنٹیشن، لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ رضا اقبال ڈپٹی ڈائریکٹر ریسپانس، لیفٹننٹ کموڈور محمد سلیمان ڈائریکٹر پروکیورمنٹ، اسکوارڈن لیڈر محمد قاسم ڈپٹی ڈائریکٹر ریکوری، میجر ذیشان حیدر ڈائریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی، فلائٹ لیفٹننٹ ریٹائرڈ خاقان مرتضٰی ممبر، ائرمارشل احمر شہزاد ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس، میجر جنرل عارف ملک ڈائریکٹر ایرپورٹ سیکیورٹی فورس، میجر جنرل ظفر الحق چئیرمین پنجاب پبلک سروس کمیشن، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظفر اقبال
ممبر، میجر جنرل ریٹائرڈ مسرت نواز ملک، ممبر فیڈرل پبلک سروس کمیشن میجر جنرل عظیم ڈائریکٹر سپارکو، میجر جنرل قیصر انیس خرم ڈائریکٹر ایرا، لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل
اسٹیل مل چئیرمین، بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) شجاع حسن چئیرمین پی ٹی اے، میجر جنرل (ریٹائرڈ) عامر عظیم باجوہ وزارت دفاعی پیداوار، سیکریٹری، لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد اعجاز چوہدری
ایڈیشنل سیکریٹری، میجر جنرل عاقف اقبال ایڈیشنل سیکریٹری ڈیفنس ڈویڑن، ائروائس مارشل کاظم حماد سربراہ نیشنل کنسٹرکشن کمپنی، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر ڈائریکٹر جنرل ویجیلینس پاکستان ریلوے، بریگیڈئیر امجد علی نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی چئیرمین، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ انورعلی حیدر ڈپٹی چئیرمین، میجر جنرل عامر اسلم خان ڈائریکٹر ایڈمن بریگیڈئیر ناصرمنظور ملک ڈائریکٹر کوآرڈینیشن لیفٹیننٹ کرنل حافظ محمود سلطان جامعہ کشمیر وائس چانسلر، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محسن کمال
ریکٹر این یو ایس ٹی نسٹ، لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید محمود بخاری چئیرمین ہیوی انڈسٹری کمپلیکس ٹیکسلا، میجر جنرل سید عامر رضا سیکریٹری بورڈ، کرنل عقیل احمد چئیرمین پاکستان میڈیکل کمیشن، لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ آصف ممتاز وائس ایڈمرل ریٹائرڈ اطہر مختار، سفیر مالدیپ
جنرل ریٹائر بلال اکبر سفیر سعودی عرب میجر جنرل ریٹائرڈ عمر فاروق برکی، سفیر اردن میجر جنرل ریٹائرڈ عبدالعزیز طارق، ایلچی برونائی میجر جنرل ریٹائرڈ محمد خالد راؤ، ایلچی بوسنیا۔۔ کھیلوں کے سرکاری ادارے: لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید عارف حسن (تیراندازی)، میجر جنرل ریٹائرڈ اکرم ساہی (ایتھلیٹکس)، بریگیڈیئر ریٹائرڈ افتخار منصور (باسکٹ بال)، لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد ہلالہ (گالف)، بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر (ہاکی)،
ایڈمرل ظفر محمود عباسی (شوٹنگ)، وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی (کشتی رانی)، ائرمارشل عاصم ظہیر (سکیئنگ)، ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان (سکواش)، میجر ریٹائرڈ ماجد وسیم (سوئمنگ)، لیفٹیننٹ کرنل وسیم احمد (تائیکوانڈو )، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین (باکسنگ) کو ذمہداریاں عائد کی گئیں ہیں۔یاد رہیکہ ان ذمہداریوں میں ردبدل بھی ہوسکتا ہے۔ ایک جانب کچھ لوگ بغض رکھتے ہوئے عسکری افسران پر تنقید کرتے ہیں تو دوسری جانب بڑےحلقوں کاکہنا ہیکہ عسکری افسران کی بہترین صلاحیت اور سخت روئیے کے سبب ہی ہماری سول انتظامیہ بہتر راہ پر گامزن ہونگیں اور امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان بھر سے تمام مافیاؤں کا خاتمہ ناگزیر بن چکا ہے جو عسکری افسران سے ہی ممکن ہوسکتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ آئی ایس پی آر تمام پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کو سہرانے کی ساتھ ساتھ بناء تفریق اقربہ پروری کے پابند قانون و آئین پر کارپند رکھیں اور پیمرا کو ہدایت دیں کہ الیکٹرونک میڈیا نے ایک جانب اپنے دس سے بیس سال تک ملازمین کو ڈاؤن سائزنگ کے بہانے ملازمت سے فارغ کردیا تو دوسری جانب اربوں کھربوں کے تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ سب سے پہلے ان ڈاؤن سائزنگ سے متاثر ملازمین کو فی الفور واپس اسی عہدوں پر اسی مشاہراہ پر لیں بصورت انکی تمام تجارتی سرگرمیوں پر قدغن لگادیا جائے کیونکہ آئین کے ساتھ دھوکہ فراڈ بہت بڑا جرم ہے اور مجرموں کو چینل یا اخبارات کی اشاعت کی اجازت نہیں دی جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو تمام صحافی برادری اور میڈیا پرسن ان عسکری افسران کی تعیناتی پر افسوس کرنے کا حق رکھیں گے کیونکہ عدل و انصاف برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version