BBC Urdu TV

عنوان:سرکاری ملازمین کے مستقبل کا فاومولا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:سرکاری ملازمین کے مستقبل کا فاومولا

پاکستان کے معروف صحافی و اینکر کامران خان نے اپنے پروگرام کامران خان کیساتھ میں بھی سرکاری ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے اشارے دیئے تھے گو کہ غیر حتمی غیر سرکاری طور پر جو سرکاری ملازمین کیلئے مستقبل قریب میں جاری ہونے والے فارمولے تیار کرلئے ہیں ان پر ایک نظر اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔۔۔۔ معزز قارئین !!حکومت وقت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی رقم اور پینشن صرف پچیس سال کی نوکری پر دیجائے گی۔چابے ملازم کی نوکری پینتیس سال تک پہنچ ہوچکی ہو۔ پچیس سال سروس کے بعد بیسک تنخواہ نہیں بڑھے گی چاہے اسکی نوکری چالیس ہوجائے جب نوکری پچیس سال ہوگی تو بنیادی تنخواہ روک دی جائیگی اور سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ ہونے کے بعد خالی پوسٹ پر آئندہ کیلئےکنٹریکٹ بنیادپر بھرتی کیا جائیگا اس طرح مستقبل میں دس سے پندرہ سال بعد پینشن والی نوکریاں ختم ہوجائیں گی اور جن کی نوکری ابھی پچیس یا اس سے اوپر ہوچکی ہیں ان کی بنیادی تنخواہ کو وہیں روک دیا جائیگا یہ قانون یکم جولائی سن دو ہزار اکیس سے لاگو ہوجائیگا گویا اگر کسی کی نوکری پچیس سال ہوئی اور اس کی بنیادی تنخواہ تیس ہزار ہے تو اسے اسی حساب سے پینشن ملے گی چاہے وہ مزید کئی سال نوکری کرلے اور اگر اس کی سروس تیس سال ہوجائے تو اسے پینشن پچیس سال والی سروس پر ہی ملے گی یعنی بنیادی تنخواہ تیس ہزار ہی رہیگی۔حکومت وقت سرکاری ملازمین کے ملازمت کی کشش کو مانند کرنے جارہی ہے مثالاً آج کسی سرکاری ملازم کی بنیادی تنخواہ چوالیس ہزار ہے تو اسے یہیں پر ہی روک دی جائیگا بیشک ملازم مزید تیرہ سال نوکری کرے یعنی تیرہ سال بعد بھی چوالیس ہزار بنیادی تنخواہ پر پینشن ملے گی۔اس سارے فارمولے کا مقصد یہ ہے کہ سرکاری ملازمین پچیس سال سروس کے بعد ریٹائرمنٹ لے لیں واضع رہے کہ بنیادی مشاہراہ زیادہ نا ہونے سے لوگوں کی پینشن بھی کم ہوگی اور کمیوٹیشن بھی کم بنے گی جس سے حکومت کو آئندہ خزانے میں بچت ہوگی ۔۔ معزز قارئین!! میرے ذرائع نے مجھے بتایا کہ اس فارمولےکو قبل از بجٹ رائج کردیا جائیگا تاکہ بجٹ بننے تک نوٹیفیکیشن جاری کرکے آئندہ بجٹ کو حتمی شکل دیدی جائیگی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ اور اپریل کے درمیان نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ٹائم اسکیل حاصل کرنے والے گریڈ اٹھارہ سے بیس سرکاری ملازمین نے بتایا کہ حکومت نے ہمیں گزیٹیٹ کرکے گریڈ انیس ٹائم اسکیل حاصل کرنے والوں کو گریڈ سترہ گزیٹیٹ دیدیا اور گریڈ بیس ٹائم اسکیل لینے والے کو گزیٹیٹ اٹھارہ دیدہا اس طرح تنخواہوں سمیت پینشن و دیگر مراعات میں قومی خذانے کو فائدہ تو پہنچا لیکن ہمیں بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ اس فارمولے سے سرکاری ملازمت کی کشش ختم ہوجائے گی اسی لیئے اب مشاہدے اور تجربے میں آیا ہے کہ سرکاری ملازمین جوق در جوق قبل از وقت ریٹائرمنٹ کیلئے درخواست دیئے بیٹھے ہیں ان ملازمین کا کہنا ہے کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہاتھ آئے کے محاورے کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فائدے کی خاطر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں۔ میرے ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی روک تھام کیلئے تمام صوبائی ویزاعلیٰ کو وفاق کی جانب سے بآور کرایا گیا ہے کہ اس بابت سختی برتیں بصورت قومی خذانے پر بڑا بوجھ پڑسکتا ہے۔۔۔ معزز قارئین!! ذرائع نے بتایا کہ سرکاری ملازمت کے نئے فارمولے کو تین سے چار کیٹیگریز میں منقسم کیا گیا ہے پہلی کیٹیگری پیش کرچکا ہوں دوسری میں تعلیمی دستاویزات کی جانچ پڑتال سیاسی حوالہ جات اور اہلیت و قابلیت کا ٹیسٹ شامل ہے جبکہ تیسرے کیٹیگری میں پروموشن کا طریقہ کار واضع کیا جائیگا گویا نوکر شاہی طبقے بشمول تمام اسکیل گریڈ گروپ کا احاطہ کرکے احستابی عمل سے بھی گزارا جائیگا جسے ہم نوکر شاہی اصطلاحات یا سرکاری ملازمت کی اصطلاحات کہتے ہیں یاد رہے ان میں ہر وہ ادارہ شامل ہے جو براہ راست قومی خذانے اور وزارت خذانے سے تعلق رکھتے ہوں ان میں اے جی پی آر سمیت اس کے ذیلی و صوبائی دفاتر کے ساتھ ساتھ سیمی گورنمنٹ و کارپروشن بھی شامل ہیں۔

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version