ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:دینِ اسلام امن و تحفظ کا مذہب ہے۔۔۔!!
ایک منٹ کیلئے سیالکوٹ واقعہ کو ذہن میں رکھیں اور سوچیں کہ جنرل مشرف نے اپنے دورِ حکومت میں علماء مشائخ و مفتیان کرام، پیر عظام اور اسلامی اسکالرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دینِ اسلام امن کا مذہب ہے، دین ہمیں اخلاقی و ریاستی اقتدار کی تہذیب سیکھاتا ہے۔ ہمارا دین تلوار سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، شفاف و نفیس کردار، سچ و حق، عدل و انصاف سے پھیلا ہے ۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عدل و انصاف اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا۔ مذہبِ اسلام دنیا کو ایک اچھا انسان ہی نہیں بلکہ ایک اچھا معاشرہ بھی دیتا ہے کیونکہ اسلامی معاشرے میں تحمل، بردباری، عاجزی، صبر و شکر، ہمدردی اور خدمات کو نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ سابق جنرل پرویز مشرف نے مساجد و مدارس کے منتظمین اور مہتممین حضرات کی توجہ مبعوث کرتے ہوئے یاد دلایا کہ آپ حضرات ریاست کے ستون ہیں اور آپکی تعلیم و تربیت سے ہی بہترین اسلامی معاشرہ تشکیل پاتا ہے مگر وہ چند ایک جو ذاتیات و خواہشِ نفس کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں اپنا منفی کردار ادا کرتے ہیں ان سب کا محاسبہ اور احتساب آپ عماء مشائخ و مفتیان کرام اور پیر عظام ہی کرسکتے ہیں۔ پرویز مشرف کے خطاب میں کتنی سچائی ہے وہ آج بھی ہم پاکستانی معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! انتشار انتہا پسندی کٹر پن کو ہمارے دین کا حصہ بنانے کی کوشش کون کر رہا ہے کیا اسلام نے ہمیں مسلم اور غیر مسلم سب کے ساتھ انصاف کرنے کا حکم نہیں دیا؟؟؟ کچھ مذہبی سیاسی جماعت نے انتہا پسندی اور نفرت کو فروغ دیا ان افسوس ناک واقعات کے زمہدار بھی یہی ہیں اور انکے ساتھ ساتھ وہ مکتبہ فکر کے علماء بھی ہیں جنہوں نے دین کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے توڑ مروڑ کر پیش کیا، فرقہ واریت کو ہوا دی اور انھوں نے عالمِ اسلام کی بھلائی کیلئے ایک اینٹ تک نہ رکھی، اگر کسی نے اسلام کا پرچم بلند کیا تو ریاست نے مجبوریوں کے تحت انہیں دیوار کیساتھ لگادیا۔ میں ہمیشہ سے ایسے گروہ، تنظیم، جماعت اور تحریک کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتا ہوں کیونکہ یہ منفی ایجنڈے والے ایسی نفرت اور سوچ کو جنم دے رہے ہیں جو ہمارے دین اور ہمارے ملک کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کر رہے ہیں۔ حق بات لکھنا اور لوگوں تک پہنچانا میرا فرض ہے ایک پاکستانی کی حثیت سے میں اپنا فرض پورا کرتا رہوں گا۔ منفعت ایک ہے اس قوم کی، مضرت بھی ایک، ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک، حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک، کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک، فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانے میں پَنپنےکی یہی باتیں ہیں؟؟؟ ۔۔۔۔ معزز قارئین!! دین الہیٰ کو مسخ پیش کرنے والے جاہل اور بد دیانت ہوتے ہیں۔ دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص انسان مسلمان کی ذاتی خواہش کی تکمیل کیلئے نہی کہ جو چاہے تحفظ اور ناموس کا نعرہ لگا کر قتل و خون ریزی کرے اور بناء تحقیق خود ہی فیصلہ کر بیٹھے۔ کسی بھی مسلم ریاست میں ایسے واقعات جن میں تحفظ ناموسِ رسالت اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ریاست کی ذمہداری عائد ہوتی ہے اور فیصلے میں علماء و مشائخ کی مشاورت بھی لی جاتی ہے یہی طریقہ کار دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سیکھایا ہے اور احکامات دیئے ہیں۔ ہندوستان میں ریاسٹ کی رٹ نہیں ہوتی ہے وہاں جنگل کا قانون ہے جو چاہے جب چاہے جدھر چاہے جس وقت چاہے اپنے نفس اور نفرت عصبیت دشمنی کی خواہشات کی تکمیل کیلئے مسلمانوں کیساتھ ظالمانہ جابرانہ بہمانہ انسانیت سوز عمل آئے روز پیش آتے ہیں۔ یقیناً غیر مسلم ممالک انسانیت کی تکریم و تحریم نییں جانتے اور نہ ہی انسانیت کی معراج کو سمجھتے ہیں مگر دینِ محمدی وہ پاک و شفاف مذہب ہے جو مسلمان تو مسلمان غیر مسلموں کو بھی امن و امان کا تحفظ عطا کرتا ہے۔ سانحہ سیالکوٹ نے سیالکوٹ کو اور پوری قوم کو شرم سے سر جھکا دیا اس طرح کی جاہلیت کے خاتمے کیلئے ہر ذی شعور پاکستانی کو اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ناگزیر ہوچکا ہے اگر اس جاہلانہ عمل کو روکا نہ گیا اور اس جاہلانہ مجرمانہ عمل میں ملوث پانے والوں کیلئے عبرتناک سزا وارد کی جائے تاکہ بدعقل اور جاہل عقل پکڑیں۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
