BBC Urdu TV

عنوان:دنیا کی ناکارہ ترین حکومت

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:دنیا کی ناکارہ ترین حکومت ۔۔۔!!

جھوٹ اور منافقت پر چلنے والی حکومتیں کھوکھلے دعوے اور عمل پر مبنی ھوتی ہیں۔ ایسی حکومتیں جن میں اپنی عوام اپنی رعایا کیساتھ فریب جھوٹ دھوکہ اور گمراہی کا عمل اپنایا جائے تو تاریخ ہمیں بتاتی ھے کہ ایسے حکمرانوں بادشاہوں اور سپہ سالاروں کی نسلیں کا وجود اور نام و نشان تک مٹ جاتا ھے اور وہ تاریخ میں تاریک کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر پاکستان و ہند کی ستر سالہ سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو کئی ایک سیاسی خاندان کا وجود صفہ ہستی سے مٹ چکا ھے کچھ آرٹیفیشل سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں وہ بہت جلد اس غلط فہمی سے باہر آجائیں گے۔ الله ہمیشہ اپنے پسندیدہ بندوں کو دونوں جہاں میں بلند مقام اور عزت سے نوازتا ھے اور وہ الله کے پسندیدہ بندے دونوں جہاں میں انکا نام و ذکر زندہ جاوید رہتا ہے۔ جیسے خلفائے راشدین’ اصحاب اجمعین’ اہل بیت و مطہرات’ تمام شہدائے اسلام’ تمام اسلافین صوفیائے کرام و بزرگان دین وغیرہ اور تاریخ نے مسلم سپہ سالاروں کو بڑی عزت و مرتبے پر رکھا جو دین الہیٰ و دینِ محمدی کے سپہ سالار رہے جیسے نورالدین زنگی’ طارق بن زیاد وغیرہ ۔۔۔۔ معزز قارئین!! بیشک دلوں کا حال الله ہی جانتا ھے مگر انسان کے دل میں جو پیوست ھوتا ھے وہ کبھی زبان سے تو کبھی عمل سے باہر نکل ہی جاتا ھے آپ اپنی زندگی میں نوٹ کرلیجئے گا کہ جس کیلئے آپ بغض رکھتے ہیں اس کی غیر خواہی میں نہ آپ کے الفاظ شامل ھونگیں اور نہ ہی عمل اب میں آپ کو ایسی تحریر کی جانب لیئے چلتا ھوں جو آجکل شوشل میڈیا میں گردش کررہی ھے اور مجھ تک بھی پہنچی ہے
اب دیکھنا یہ ھے کہ اس میں کس قدر صداقت موجود ھے اور کس قدر جھوٹ یہ فیصلہ آپ یعنی میرے معزز قارئین پر ھے شوشل میڈیا میں وائرل ھونے والی تحریر یہ ھے ۔۔۔۔۔
حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی میں کورونا کے مریضوں کیلئے مختص بستر بھر چکے ہیں اور کورونا کے نئے مریضوں کے علاج کی مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔ اس صورتحال میں سوال ذہن میں آتے ہیں کہ کیا واقعی کورونا کراچی میں وبا کی صورت میں پھیل گیا ہے۔ کراچی کی آبادی غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا تین کروڑ ہے۔ وبا کی کم از کم تعریف یہ کہ مجموعی آبادی کا صرف ایک فیصد یعنی تین لاکھ مریضوں کو اسپتال میں ہونا چاہئے۔ان تین لاکھ داخل مریضوں کا دس فیصد اگر انتہائی شدید بیمار ہو اور اسے آکسیجن کے علاوہ وینٹی لیٹر کی بھی ضرورت ہو تو شہر میں کم از کم تیس ہزار مریض وینٹی لیٹر پر ہونے چاہیں۔ اب حقیقی صورتحال کیا ہے، اسے دیکھتے ہیں۔ جس کراچی ایکسپو سینٹر کا بار بار تذکرہ کیا جارہا ہے کہ وہاں پر کورونا کے مریضوں کیلئے صرف ایک سو چالیس بستر موجود ہیں ان میں سے کتنے وینٹی لیٹر ہیں اور کتنے آکسیجن بیڈ اور بھی کم ہیں، کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح اسپتال میں کورونا کے مریضوں کیلئے صرف اور صرف نوے بستر موجود ہیں۔ رہے کراچی کے نجی اسپتال تو ان کی صورتحال کا خود اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جس شہر کی آبادی تین کروڑ ہو اور وہاں پر کورونا کے مریضوں کیلئے صرف پانچ سو کے قریب بستر موجود ہوں اور اس کے بعد کہا جائے کہ اسپتالوں میں گنجائش ختم ہوگئی تو اسے شہر کے ساتھ حکومت کا مذاق ہی سمجھنا چاہئے۔ اس وقت کراچی کی صورت حال یہ ہے کہ امراض قلب کے قومی اسپتال میں دل کے آپریشن کیلئے آٹھ آٹھ ماہ کی تاریخ نہیں ملتی تو کیا یہ کہا جائے کہ پورا کراچی دل کے مرض میں مبتلا ہوچکا ہے۔ امراض اطفال کے قومی اسپتال میں اتنے مریض بچے ہوتے ہیں کہ اکثر اوقات ایک بستر پر دو مریض بچے نظر آتے ہیں تو کیا یہ کہا جائے کہ کراچی کے سارے ہی بچے بیمار ہیں ڈاکٹر ادیب رضوی کے معروف ادارے ایس آئی یو ٹی میں ایمرجنسی میں اتنے مریض ہوتے ہیں کہ کوریڈور میں بھی ان کے بیڈ لگے ہوئے ہیں تو کیا کراچی کے سارے شہری گردے کے مریض ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ کراچی میں آبادی کے تناسب سے طب کی سہولیات ہی موجود نہیں ہیں۔ اتنے بڑے شہر میں اتنے مریض ہوناکوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ سرکار میں بیٹھے لوگوں کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ انہیں اپنے کمیشن سے مطلب ہے، انہیں بیرون ملک اپنےاثاثوں کی ضبطگی کا بھی خوف ہے۔ آغاخان اسپتال، ضیاء الدین اسپتال، لیاقت نیشنل اسپتال، انڈس اسپتال اور دیگر اسپتالوں کی بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ان میں سے ہر کسی کو اربوں روپےفنڈ مل رہے ہیں مندرجہ بالا اعداد وشمار کا مطلب یہ ہے کہ کورونا کا پھیلاؤ اس حد تک نہیں ہے جسکا خوف دلا کر شہر بند کردیا جائے اور سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈی بند کردی جائیں۔ یہ ہزاروں مریض جو اسپتال جا کر روز اپنا علاج معالجہ کرتے ہیں، ان کی اموات کا ذمہ دار کون ہوگا۔ صنعتیں، کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند کردی جائے، اس سے پھیلنے والی بے روزگاری اور مفلوک الحالی کا ذمہ دار کون ہوگا۔ انتظامیہ کو مارکیٹوں اور صنعتوں کو تالا لگانے کی آزادی دے دی جائے اور پھر فی مارکیٹ اور فیکٹری لاکھوں روپے رشوت لے کر انہیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے نتیجے میں شہر میں نفرت کی جوآبیاری کی جارہی ہے، اسکے خوفناک نتائج کا ذمہدار کون ہوگا۔کیا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نفرت بوئی جارہی ہے ؟ اس وقت کراچی مقبوضہ کشمیر یا فلسطین کا نقشہ پیش کررہا ہے جہاں پر سگ آزاد ہیں اور سنگ مقید مگر اسکے بارے میں کوئی عملی طور پر آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ ہر طرف صرف اور صرف بیانات ہیں اور بس۔۔!! معزز قارئین میرے اکثر اساتذہ کرام جب کلاس کے بچوں پر خفگی کرتے تھے تو کہتے تھے تم گدھے بنتے جارھے ھوں گویا ان کا کہنا تھا کہ گدھے پر ہزاروں کتابیں بھی لاد دو گدھا گدھا ہی رہے گا کیا سمجھے آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے پڑھنے والا بھی گدھا ہی رہ سکتا ھے۔ میرے دوست مجھے کہہ رہے تھے کہ جناب جاوید صدیقی صاحب کیا آپ کو پتا ھے اندرونِ سندھ گدھے وافر مقدار میں ہیں اس وقت تو میں سمجھ نہیں سکا مگر اب ۔۔۔۔۔ کیا سمجھے آپ!! یہ تو ھونا ہی تھا اور ھوتا رہے گا جب تک انسانوں کے ہاتھوں نظام کی ڈور نہ آئے۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version