ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:خاندانی و غیر خاندانی کی نشانیاں ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
علامہ مولانا شبلی نعمانی اپنی کتاب میں سلطان محمود کا واقعہ لکھتے ھوئے بتانے کی کوشش کی کہ عوام اور رعایا اپنے شعور کو بیدار کرکے سوچ و افکار کی سربلندی پر پہنچا کے تحمل مزاجی کیساتھ تمام تحقیقات و مشاہدات جانچ پڑتال اور تجربات و مشاہدات کی روشنی میں اٹل فیصلے کریں تاکہ اصل خاندانی لوگوں کو اہم ترین مقام منصب اور چناؤ کا عمل لایا جاسکے حیقیت تو یہ ھے کہ محمود عزنوی کے دورِ اقتدار میں بھی وزراء کی ایک طویل فہرست موجود تھی جو غیر خاندانی کم ظرف اور گھٹیا سوچ کے مالک تھے۔ غیر خاندانی کم ظرف اور گھٹیا سے مراد وہ خاندان جس میں اخلاقیات تہذیب اور انسانیت نہیں ھوتیں وہ خودسر ضدی جاہل اور ظالم ھوتے ہیں یہی صورت حال عصر حاضر میں بے پناہ اور کثیر تعداد میں با اختیار و منصب اعلیٰ پر فائز ھونے والوں کی ھیں ان میں سرکاری نیم سرکاری کارپوریشن اور نجی اداروں کے وہ تمام با اختیار لوگ شامل ہیں جن کے احکامات سے ماتحتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ھے اور شدید نقصان بھی۔ خاندان اور خون کی پہچان کو جانے کیلئے ان شخصیات کے کردار عادل و اخلاق خود بتادیتے ہیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء اللہ, قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود غزنوی نے سب کو مخاطب کرکے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کراسکتا ہے۔ سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کراسکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا چھ ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہوگا لیکن میں اک غریب انسان ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہوگا۔ سلطان نے شرط منظور کرلی۔ اس شخص کو چلہ کیلئے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمہ ہوگیا۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا چھ ماہ مزید لگیں گے مزید چھ ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود غزنوی کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا.؟ یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہورہا تھا۔ بچے بھوک سے مررہے تھے اس لئے ایسا کرنے پر مجبور ہوا۔ سلطان محمود غزنوی نے اپنے ایک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ھونی چاہئے۔ وزیر نے کہا اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے. دربار میں ایک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا تم بتاؤ اس نے کہا اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ھے۔ سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے اور چہیتے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے ایک سال ایک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کردیں اگر اسے قتل کردیا تو اس کے بچے بھوک سے مرجائیں گے۔ ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائیں۔ بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے ایک قصائی کو وزیر بنا لیا دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیر ہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا۔ سلطان محمود غزنوی اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کے کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو۔ ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھول دیا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں ھیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! کیا آپ نہیں سمجھتے کہ حضرت خضر علیہ السلام موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی آہ و بکا برسرِ اقتدار عیش و تعائش میں مدہوش با اختیار و ذمہداران کو مختلف انداز سے جھنجھوڑتے رہے ھوں۔ وہ خوش نصیب ہیں جو آپ علیہ السلام سے شرفِ ملاقات با معنی و با مراد پاتے ہیں وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی ھے یا ہدایت بخشنے والا ھے۔۔۔۔۔!!
