BBC Urdu TV

عنوان:حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام تُبّع خمیری کا خط

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام تُبّع خمیری کا خط۔۔۔!!

الله نے تعریف کو اس قدر سحر انگیز بنایا ھے کہ جس کی تعریف کی جائے وہ کیفیت و حساس کی منزل پر چڑھ جاتا ھے اس منزل پر خوشی و مسرت سکون و توانا اور روحانی لذیت کے انبار دیکھائی دیتے ہیں۔ تعریف کی جنس ہیں ایک سچ و حق پر مبنی دوسری جھوٹ و نفاق پر محیط ان دونوں تعریفوں کی جنس کی کیفیات بھی جدا جدا رب نے پیدا کی ہیں ایک اپنی جانب سے جو سچ و حق پر متعین ھے دوسری ابلیس اور اس کے چیلوں کیلئے ہے جس میں جھوٹ و نفاق اور منافقت بے پناہ بھرا ہوا ہے۔ آج میں حقیر و فقیر کم تر بے وقعت انسان اپنے محبت و عشق کے آگے دیوانہ وار اپنے آقا و مولیٰ ختم النبین و خاتم المرسلین امام الانبیاء اول و آخر نورِ مجسم نورِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں پیش کی جانے والی تعریفیں جو خود خدا سے حسین انداز میں پیش کی ہیں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کرکے دلی سکون اور روحانیت محسوس کررہا ہوں جو بحوالہ کُتب: میزان الادیان، کتاب المُستظرف، حجتہ اللہ علےالعالمین، تاریخ ابن عساکر، تفسیر جلالین، جلال الدین سیوطی۔ تفسیر صراط الجنان، سورہ الدخان آیت ۳۷ سے حاصل کی گئیں ہیں۔معزز قارئین!! حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع خمیری تھا، ایک مرتبہ وہ اپنی سلطنت کے دورہ کو نکلا، بارہ ہزار عالم اور حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوقِ خدا چاروں طرف نظارہ کو دیکھنے جمع ہوجاتی تھی، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہلِ مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں، اس کی اور اس کے خادموں کی جو یہاں کے باشندے ہیں تمام لوگ بے حد تعظیم کرتے ہیں اور جتنا آپ کا لشکر ہے اس سے کہیں زیادہ دور اور نزدیک کے لوگ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کی خدمت کر کے چلے جاتے ہیں، پھر آپ کا لشکر ان کے خیال میں کیوں آئے۔ یہ سنکر بادشاہ کو غصہ آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں اس گھر کو کھدوا دونگا اور یہاں کے باشندوں کو قتل کروا دونگا، یہ کہنا تھا کہ بادشاہ کے ناک منہ اور آنکھوں سے خون بہنا شروع ہوگیا اور ایسا بدبودار مادہ بہنے لگا کہ اس کے پاس بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی اس مرض کا علاج کیا گیا مگر افاقہ نہ ہوا، شام کے وقت بادشاہ ہی کے علماء میں سے ایک عالمِ ربانی تشریف لائے اور نبض دیکھ کر فرمایا، مرض آسمانی ہے اور علاج زمین کا ہورہا ہے، اے بادشاہ! آپ نے اگر کوئی بری نیت کی ہے تو فوراً اس سے توبہ کریں، بادشاہ نے دل ہی دل میں بیت اللہ شریف اور خدام کعبہ کے متعلق اپنے ارادے سے توبہ کی،توبہ کرتے ہی اس کا وہ خون اور مادہ بہنا بند ہوگیا، اور پھر صحت کی خوشی میں اس نے بیت اللہ شریف کو ریشمی غلاف چڑھایا اور شہر کے ہر باشندے کو سات سات اشرفی اور سات سات ریشمی جوڑے نذر کئے۔ پھر یہاں سے چل کر مدینہ منورہ پہنچا تو ہمراہ ہی علماء نے جو کتبِ سماویہ کے عالم تھے وہاں کی مٹی کوسونگھا اور کنکریوں کو دیکھا اور نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ کی جو علامتیں انھوں نے پڑھی تھیں، ان کیمطابق اس سرِ زمین کو پایا تو باہم عہد کر لیا کہ ہم یہاں ہی مر جائیں گے مگر اس سر زمین کو نہ چھوڑیں گے، اگر ہماری قسمت نے یاوری کی تو کبھی نہ کبھی جب نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے ہمیں بھی زیارت کا شرف حاصل ہوجائے گا ورنہ ہماری قبروں پر تو ضرور کبھی نہ کبھی ان کی جوتیوں کی مقدس خاک اڑ کر پڑ جائے گی جو ہماری نجات کیلئے کافی ہے۔
یہ سن کر بادشاہ نے ان عالموں کے واسطے چار سو مکان بنوائے اور اس بڑے عالم ربانی کے مکان کے پاس حضور کی خاطر ایک دو منزلہ عمدہ مکان تعمیر کروایا اور وصیت کردی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو یہ مکان آپ کی آرامگاہ ہو اور ان چار سو علماء کی کافی مالی امداد بھی کی اور کہا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو اور پھر اس بڑے عالم ربانی کو ایک خط لکھ دیا اور کہا کہ میرا یہ خط اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دینا اور اگر زندگی بھرتمھیں حضور کی زیارت کا موقع نہ ملے تو اپنی اولاد کو وصیت کردینا کہ نسلاً بعد نسلاً میرا یہ خط محفوظ رکھیں حتٰی کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جائے یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے چل دیا۔
وہ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک ہزار سال بعد پیش ہوا کیسے ہوا اور خط میں کیا لکھا تھا ؟؟؟سنئیے اور عظمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دیکھئے: ”کمترین مخلوق تبع اول خمیری کی طرف سے شفیع المزنبین سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اما بعد: اے اللہ کے حبیب! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور جو کتاب آپ پر نازل ہوگی اس پر بھی ایمان لاتا ہوں اور میں آپ کے دین پر ہوں، پس اگر مجھے آپ کی زیارت کا موقع مل گیا تو بہت اچھا و غنیمت اور اگر میں آپ کی زیارت نہ کرسکا تو میری شفاعت فرمانا اور قیامت کے روز مجھے فراموش نہ کرنا، میں آپ کی پہلی امت میں سے ہوں اور آپ کے ساتھ آپ کی آمد سے پہلے ہی بیعت کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔“
شاہ یمن کا یہ خط نسلاً بعد نسلاً ان چار سو علماء کے اندر حرزِ جان کی حثیت سے محفوظ چلا آیا یہاں تک کہ ایک ہزار سال کا عرصہ گزر گیا، ان علماء کی اولاد اس کثرت سے بڑھی کہ مدینہ کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوگیا اور یہ خط دست بدست مع وصیت کے اس بڑے عالم ربانی کی اولاد میں سے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا اور آپ نے وہ خط اپنے غلامِ خاص ابو لیلیٰ کی تحویل میں رکھا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی اور مدینہ کی الوداعی گھاٹی مثنیات کی گھاٹیوں سے آپ کی اونٹنی نمودار ہوئی اور مدینہ کے خوش نصیب لوگ محبوب خدا کا استقبال کرنے کو جوق در جوق آرہے تھے اور کوئی اپنے مکانوں کو سجا رہا تھا تو کوئی گلیوں اور سڑکوں کو صاف کررہا تھا اور کوئی دعوت کا انتظام کررہا تھا اور سب یہی اصرار کررہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو جس گھر میں یہ ٹھہرے گی اور بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہوگی، چنانچہ جو دو منزلہ مکان شاہ یمن تبع خمیری نے حضور کی خاطر بنوایا تھا وہ اس وقت حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی تحویل میں تھا، اسی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جا کر ٹھہر گئی۔ لوگوں نے ابو لیلیٰ کو بھیجا کہ جاؤ حضور کو شاہ یمن تبع خمیری کا خط دے آؤ جب ابو لیلیٰ حاضر ہوا تو حضور نے اسے دیکھتے ہی فرمایا تو ابو لیلیٰ ہے؟ یہ سن کر ابو لیلیٰ حیران ہو گیا۔ حضور نے فرمایا میں محمد رسول اللہ ہوں، شاہ یمن کا جو خط تمھارے پاس ہے لاؤ وہ مجھے دو چنانچہ ابو لیلیٰ نے وہ خط دیا، حضور نے پڑھ کر فرمایا، صالح بھائی تُبّع کو آفرین و شاباش ہے۔۔۔۔معزز قارئین!! ہمارے نبی پاک حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ کسی ماں نے جنا اور نہ قیامت تک کوئی پیدا ہوگا۔ مدینہ ثانی کے حکمرانوں ریاست کے نگہبانوں اور پاکستانی قوم کے ہر مسلمان فرد کی آئینی اخلاقی دینی اور ایمانی ذمہداری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہماری جان سے زیادہ عزیز ہمارے محبوب و آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و شان کیلئے کوئی دقیقہ نہ چھوڑیں اور گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ریاست کے حوالے کرتے ہوئے اسے سزا لازماً دلوائیں اگر ریاست کے ذمہ دار اپنی ذمہ داری دینے سے کترائیں یا حیلے بہانے کریں تو پھر قرآن و سنت کے احکامات کی تعمیل ہر ایک کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نظریہ اسلام کے تحت وجود میں آیا ہے اور پاکستان کی ترقی و بقاء بھی نظامِ مصطفیٰ میں ھے۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version