BBC Urdu TV

عنوان:جنرل ظہیر الاسلام ڈائریکٹر آئی ایس آئی

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:جنرل ظہیر الاسلام ڈائریکٹر آئی ایس آئی۔۔۔!!

جنرل ظہیر الاسلام ڈائریکٹر آئی ایس آئی جنکا ایک قدم بھارت، را اور اس کے حامی پاکستان کے اندرونی غداروں پر بہت بھاری ثابت ہوا تھا۔بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ہیڈکوارٹر میں آئی ایس آئی کے گمنام شہزادوں نے گھس کر بھارت کی مکار لومڑیوں کے ناپاک عزائم بلوچستان کو توڑ کر الگ کرنے کےخواب کو کیسے خاک میں ملادیاتھا ڈائریکٹرجنرل ظہیر الاسلام، جہنوں نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کی طرح پاکستان کے دشمنوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کروایا اور سارے بھارت سمیت اس کے یاروں کی چیخیں نکلوائی تھیں۔ آئی ایس آئی کے خفیہ آپریشنز کی تمام رپورٹس کو کاش منظر عام پر لایا جاتا، تو پاکستانیوں سمیت تمام دنیا ششدر رہ جائے۔ ایسے ہی نہیں جنرل ظہیر الاسلام سمیت آئی ایس آئی کے گمنام ہیروز پر الزامات کی بارش ہر دور میں بھارت نواز سیاستدان کرواتے رہے ہیں۔اس گمنام ہیرو پر وہ جھوٹے بے بنیاد الزامات بھارتی نواز میڈیا چینل جیو نیوز نے لگائے تھے۔ جس چینل کی فنڈنگ بھی بھارت سے ہوتی رہی ہے۔ جنرل ظہیر الاسلام ڈی جی آئی ایس آئی کا میڈیا ٹرائل آٹھ گھنٹے جیو نیوز پر چلتا رہا تھا۔ حامد میر پر جعلی حملے، جعلی ڈرامہ کرنے کے پیچھےبھارت را کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر وہ خفیہ آپریشن تھا۔جس سے بھارت کی اور اس کے حامی سیاستدانوں اور ایک چینل جیو کی چیخیں نکل گئیں تھیں، جو آپریشن جنرل ظہیر الاسلام نے را کے ہیڈ کوارٹر میں کروایا تھا لیکن آخر میں جیو نیوز والے آٹھ گھنٹے میڈیا ٹرائل کےبعد معافیوں پر اتر آئے تھے کیونکہ سامنے آئی ایس آئی تھی جسکا مقابلہ جیو چینل کا باپ اجیت دوول اور بھارتی سرکار آج تک نہ کرسکی تھی۔ یہاں تک کہ جب جیو کا فلاپ ڈرامہ ناکام ہوا تو پھر بھارتی سرکار کے ایک یار، غدار نواز شریف نے بھارت کی نمک حلالی کرتے ہوئے، جنرل ظہیر الاسلام کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹوانے کیلئے ایک اور پنترا کھیلا عمران خان کے دھرنے کے پیچھے جنرل ظہیر الاسلام کا ہاتھ ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا اور مزید جعلی ریکارڈنگ جنرل راحیل شریف کو سنائی گئی کہ ڈی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام نے مجھے سے استعفی مانگا اور مجھے کہا کہ میری حکومت ختم کرکے مارشل لاء لگایا جانے والا ہے۔ یہ سب محض من گھڑت الزامات تھے اور پاک فوج کے جنرل راحیل اور آئی ایس آئی جواہر لال نواز نہرو کے ناپاک کھیل کو سمجھتے تھے اس لئے خاموشی سے پہلے جنرل ظہیر الاسلام اور بعد ازاں جنرل راحیل مستعفی ہوئے تو انکی اپنے عہدوں سے دستبرداری کے بعد غدار نواز شریف اور اس کے حواریوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور خوشیاں منائی کہ آج ہم نے پاک فوج کو عبرتناک شکست دیدی ہے لیکن پھر ان کا اصلی باپ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب آ گئے اور ان کی منجیاں، ان وطن فروش سیاسی فصلی بٹیروں کا جو حشر نشر ہورہا ہے وہ آپ کے سامنے جاری و ساری ہے۔بحرحال ان سب الزامات کے پیچھے بھارت تھا، آخر کیوں تھا ؟؟؟؟ صرف آئی ایس آئی کا وہ ایک آپریشن جس کے پیچھے جنرل ظہیر الاسلام کا دماغ تھا۔ اس آپریشن نے انڈین سرکار اور خفیہ ایجنسی را کی نیندیں حرام کردی تھیں۔ جنرل ظہیر الاسلام کی حاضر دماغی، جس نے بھارت کی چیخیں نکلوا دی۔ آج بھی گمنام جنرل ظہیر الاسلام کا نام سنتے ہی بھارتی خفیہ اداروں کی ٹانگیں تھر تھر کانپنے لگ جاتی ہیں۔ جس وقت بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو پاکستان میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے ایران کے راستے آکر دہشتگردی کروارہا تھا تو وہ بھارتی لومڑیاں سمجھ رہی تھیں کہ پاکستان بے وقوف ملک ہے۔ لیکن وہ مارخور کے اسٹائل سے بے خبر تھے۔ کلبھوشن یادیو ہماری ایجنسیوں کی نظر میں اس وقت سے تھا جب وہ پہلی بار جنرل شجاع پاشا کے دور میں براہ راستہ ایران سے بلوچستان غیر قانونی داخل ہوا تھا۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ پھر اس کو تب کیوں نہیں پکڑا گیا؟؟
مارخور جب کسی سانپ کو زندہ رکھتے ہیں یا موقع دیتے ہیں تو صرف اس لئے کہ وہ اس کے ٹھکانوں، منصوبوں اور مہروں تک پہنچ سکے اور اس دوران سانپ بے پروا ہو کر اپنی کاروائیاں جاری رکھتا ہے کہ مجھے کون دیکھ رہا ہے، مجھ تک کون پہنچے گا۔ مار خوروں نے را کے سانپوں کا سارا نیٹ ورک پکڑا اور انڈیا کی انٹیلیجنس کی چیخیں نکلوا دی۔ جب کلبھوشن یادیو بلوچستان میں ناراض بلوچوں سے خفیہ میٹنگز کی اور انکو اسلحہ اوراربوں ڈالر کی پیشکش دیکر پاکستان میں دہشتگردی، بم دھماکے کروانے کا عمل تیز کیا تو اس وقت کے جنرل ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام نے اپنے پچاس کے قریب مارخوروں کو ناراض بلوچوں کے بھیس یعنی دوسرے روپ میں حسین مبارک پٹیل یعنی کلبھوشن یادیو حاضر سروس را ایجنٹ کے پاس بھیج دیئے، ایک منظم خفیہ پلاننگ کے تحت ان ناراض بلوچوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کلبھوشن نے انڈیا رابطہ کیا اور ان کو انڈیا لانے کیلئے اپنی ایجنسی راء کو کہا کہ وہ ان ناراض بلوچوں کو کسی طریقے سے انڈیا لانے کا بندوبست کریں،تاکہ پاکستان کوجلد از جلد ختم کریں پھر ان کو بلوچستان سے دوبئی لایا گیا۔ وہاں سے انکو دہلی ائیرپورٹ لایا گیا پھر وہی سے را کے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا۔ جہاں پر انکو مزید ٹریننگ اور پاکستان کے نئے خفیہ نقشے دیئے گئے، وہ سب خفیہ پلان دیئے کہ کیسے پاکستان کو سنہ دو ہزار پندرہ سے پہلے پہلے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے ذریعے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔کراچی اوربلوچستان کو پاکستان سے الگ کرکےدو نئے ملک بنانا ہے اور ساتھ ہی بچ گئے پاکستان یعنی پنجاب اور سندھ پر کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے ذریعے سے بھارتی نو لاکھ فوج گھس کر سنٹر سے حملہ کریگی جس سے پنجاب اور سندھ بھی علیٰحدہ ہوجائیں گے اور مغربی سرحد سے امریکہ، نیٹو، ا،سرائیل، بھارت اور افغانستان کی آرمی کےحملے سے کے پی کے کو اٹک سمیت افغانستان میں شامل کردیا جانا تھا تاکہ پاکستان کوہمیشہ کیلئے ختم کرکے گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کیلئے راہ کو ہموار کیا جاسکے لیکن جیسے ہی یہ پچاس مارخور ناراض بلوچ پاکستان واپس پہنچتے ہیں ان کو جدید اسلحہ و افر مقدار میں اور اربوں روپے کی فنڈنگ جو بھارتی سرکار اور انکی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں دہشتگردی کروانے کیلئے فراہم کی تھی، یہ پچاس مارخور جو ناراض بلوچوں کے روپ میں واپس دوبئی کے راستے پاکستان داخل ہوئے۔ یہ ناراض بلوچ، تمام بھارتی اہم رازوں، پاکستان کے خفیہ نقشوں، اسلحے و بارود اور اربوں روپے کی فنڈنگ سیمت ایسے غائب ہوئے کہ آج تک بھارتی را کی لومڑیوں پر سکتہ طاری ہے کہ وہ کون تھے ؟؟؟ کہا سے آئے تھے ۔ !!! جو دن دھاڑے اکھنڈ بھارت کو چونا لگا گئے بس اتنا ہی کہنا ہے ابے او ہندو بنئے !!! سن "آئی ایس آئی کے مارخور کسی بھی وقت، کہیں بھی، دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچ سکتے ہیں اور پاکستان کے دفاع کی خاطر کسی بھی حد کو جاسکتے ہیں، وہ بھی اپنی زندگی اور موت کی پروا کئے بغیر ” پاکستان کی عوام سلام پیش کرتے ہیں اپنے آئی ایس آئی کےشیروں کو جو را کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر پاکستان کے خلاف ناپاک بھارتی عزائم اور اہم خفیہ رازوں کو لے آئے۔ ورنہ دشمنان پاکستان نے ہمارا انجام تو فلسطین، شام، عراق، افغانستان، لیبیا، سوڈان اور برما سے کم نہ سوچا ہوا تھا، جنرل ظہیر الاسلام کی حاضر دماغی نے ثابت کیا کہ پاک فوج پروفیشنل ہونے کیساتھ ساتھ اس کھیل، خفیہ پروکسی وار کی بے تاج بادشاہ ہے۔ امریکہ، انڈیا، اسرائیل کا خواب کراچی اور بلوچستان کو توڑ کرالگ کرنا اور پھر پاکستان کے ٹکڑے کرنا پورا نہ ہوسکا۔ جنرل ظہیر الاسلام نے ایک وقت میں انڈیا، امریکہ اسرائیل اور ان کے حواریوں کیساتھ وہ گیم کھیلی جو آج تک انڈیا ہاتھ لگا، لگا کر دیکھ رہا ہے کہ خون کہاں کہاں سے نکل رہا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو بیوقوف بنانا اور اس کی اور اس کے پورے نیٹورک کی گرفتاریاں مکمل ثبوتوں کے ساتھ کرنا، پاک فوج کے شیروں کا کارنامہ ہے، یہ سب ایک لمبی پلاننگ تھی جو مارخوروں کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ہمیشہ کی طرح آج بھی بھارتی ایجنسیوں کی ٹانگیں تھرتھر کانپتی ہیں،ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام کا نام سن کر۔۔!! افواج پاکستان زندہ باد، آئی ایس آئی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version