ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:جسٹس ریٹائرڈ وجہہ الدین صدیقی کا منہ توڑ جواب۔۔۔!!
قادیانی نواز کافر اور برطانوی غلام لکھاری طارق فاتح نے توڑ موڑ کر تاریخ کو بیان کرتے ھوئے قائداعظم محمد علی جناح, علامہ محمد اقبال, سرسید احمد خان سمیت دیگر معتبر عظیم شخصیات کی ہرزہ سرائی کی اور پاکستان کی تاریخ کو نئی نسل بلخصوص برطانوی مسلم نوجوانوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مسخ پیش کرنے کی کوشش کی ھے وہ شائد بھول گیا ھے کہ پاکستان کے سچے اور عاشق اس کے ایک ایک نقطہ کو برہنہ کرکے چوراہے پر بے نقاب کردیں گے۔ قادیانی کافروں کو شائد یاد نہیں رہا کہ وہ اسلام اور پاکستان کے خلاف جتنی سازشیں کرلیں وہ خود اوندھے منہ گرتے جائیں گے۔ قادیانی کافر برطانوی نواز طارق فاتح کے جواب میں نہایت مستند دلائل حقائق کیساتھ جسٹس ریٹائرڈ وجہہ الدین احمد صدیقی نے تحریر فرمائی میں نے وہ انٹرویو بھی دیکھا اور جسٹس صاحب کا جواب بھی پڑھا بڑی کمال اور خوبصورتی سے لکھا ھے۔معزز قارئین!! جسٹس ریٹائرڈ وجہہ الدین احمد صدیقی کا تعلق ایک رئیس اور علمی گھرانے سے ھے۔ آپ کے گھرانے نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیکر مسلمانانِ ہند ھوکر بہترین فریضہ نبھایا پاکستان کے معروض وجود میں آنے کے بعد انڈیا سے پاکستان ہجرت کی تھی یوں آپ نے پاکستان کے ابتدائی سالوں کا بخوبی تجربات اور حقائق پر مبنی معلومات کا خزینہ ھے۔ میری آپ سے دوبدو صرف ایک بار ملاقات ھوئی تھی جب وہ اےآروائی میں ریکارڈنگ کیلئے آئے تھے اور وہ میرے آفس میں آئے۔ آپ نڈر سچے ایماندار کھرے بےباک شخصیت کے مالک ہیں آپ پاکستان کا اثاثہ و سرمایہ ہیں۔ حب الوطنی سے سرشار اور قوم کا دکھ درد رکھنے والوں میں سے ایک ھیں۔۔۔۔معزز قارئین!!جسٹس ریٹائرڈ وجہہ الدین احمد صدیقی اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ 1949 کی پیدائش اور جوانی ہی میں 1978سمندر پار رہائش اختیار کرنے والا شخص، وطن عزیز کے بارے میں محدود معلومات ہی رکھ سکتا ہے۔ ذہنی رجحان کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں لگتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پاکستان بنا تو کراچی میں مقیم سندھی ہندو، جو ایک نہایت ہی اہل قومیت کا درجہ رکھتے ہیں، تقریباً منہاس القوم سندھ کے شہروں کو خیر آباد کہ گئے اور صرف اپنی اہلیت کی بنیاد پر انہوں نے بھارت، ہانگ کانگ، سنگاپور اوردبئی وغیرہ میں منفرد مقام حاصل کیا۔ برخلاف اس کے سندھ کے اسوقت کےمسلمان یا تو بڑے بڑے وڈیرے تھے یا پھراکثریت تعلیم سےمحروم رکھی گئی تھی۔ ان میں سے عام لوگ کراچی میں اونٹ گاڑی، گدھا گاڑی یا بگھی چلاتے تھے۔ پھلوں کی ٹوکریاں سروں پر رکھ کر یا پھر بانس پر دو ٹوکریاں ترازو کی طرح لٹکا کر جگہ جگہ فروخت کرتے نظر آتے تھے۔دیگر یہ کہ وہ سائیکلوں کے اوپر صبح کے وقت ڈیری پروڈکٹ تقسیم کرنےکادھندہ کرتے تھے۔ کراچی کے رہائشی علاقے ہوں یا پھر کاروباری مراکز تقریباً کل جائیدادیں ہندؤں کی ملکیت میں تھیں۔ فریئر ہال کے نزدیک صرف چند بنگلے سر غلام حسین ہدایت اللہ اور سر عبداللہ ہارون کے پاس تھے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمان صرف نچلی سطح پرمحدود کردیئے گئے تھے۔ مسلمان وکلاء بھی صرف چند تھے۔ کراچی میں رہائش کی بات کریں تو سندھی مسلمان زیادہ تر لیاری، کیماڑی، چاکیواڑہ اور ملیر تک رسائی رکھتے تھے۔ میٹھادر اور برنس روڈ جیسے علاقوں میں مسلمان مرد داخل تک نہ ہوسکتا تھا کیونکہ وہاں اکثر ہندو خواتین گھروں کے باہر بیٹھتی تھیں اور یکجا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ گفت شنید میں مصروف رہا کرتی تھیں۔ اس دور میں مندر اور چرچ لا تعداد تھے جبکہ جمشید روڈ سے کیماڑی تک بندر روڈ کے آس پاس صرف سندھ مدرسے میں ایک اہل سنت اور دوسری اہل تشیع کی مسجدیں تھی، یا پھر سٹی کورٹ کے مقابل ایک بوہری مسجد۔ یادر رہے کہ اس وقت کراچی کی آبادی تقریباً تین لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ان حالات میں جب پاکستان بنا تو سرحد پار سےمسلمانانِ ہند کی پاکستان آمد شروع ہوئی، ان میں سر فہرست مسلمان آئی سی ایس افسران و دیگر سرکاری ملازمین تھے جنہوں نے پاکستان کیلئے آپشن کیا تھا۔ پناہ گزینوں میں، کیونکہ پاکستان بنانے کے صلے میں ہند میں مسلمانوں کی حیات تنگ کردی گئی تھی، اکثر پڑھے لکھے لوگ تھے اور کسی حد تک اپنی جمع پونجی بھی یہاں لانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ کراچی کو پاکستان کا دارالخلافہ اور فیڈرل علاقہ بنانے کا اعلان پہلے ہی ہوچکا تھا۔ سرکاری اداروں کی نوعیت یہ تھی کہ معمولی سیفٹی پن بھی میسر نہیں تھی اور ملازمین جھاڑیوں سے کانٹے چن چن کر پن کے طور پر استعمال کرنے پر مجبورتھے۔ دوسری طرف بھارت نے پاکستان کےاثاثے منتقل کرنے میں روکاوٹیں لگادی تھیں اور یہ مسئلہ گاندھی جی کے مرن برت کے نتیجے میں ہی کچھ استوار ہوسکا۔ اس اثناء میں یہ سرحد پار سے آئے ہوئے حبیب بینک کے مالکان وغیرہ تھے جنہوں نے پاکستان کی مالی داد رسی کی، کیونکہ یہاں تو سرکار چلانے کیلئے حکومت کے پاس ٹکہ بھی نہیں تھا۔محمد علی ٹراموے کی بات ہوئی ہے، دراصل یہ ایسٹ انڈیا ٹرانسپورٹ کمپنی تھی جسے پاکستان بننے کے بعد خرید پر محمد علی ٹراموے کی شکل ملی۔ کہا گیا ہے کہ ہندؤں کی چھوڑی ہوئی جائیدادیں مہاجروں نے ہتھیا لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 1958 تک، جب بے گھرافراد کے قوانین لاگو ہوئے، صرف الاٹمنٹ کی بنیاد پر لوگ مکانوں و دوکانوں پر متمکن یعنی قانونی اختیار رکھتے تھے جن میں مقامی بھی شامل تھے۔ 1958 کے بعد حقوق ملکیت مہاجرین اور مقامی لوگوں کو قیام کی بنیاد پر یکساں مختص ہوئے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جہاں تک زرعی آراضی کا تعلق ہے وہاں مہاجرین کو ٹکنے بھی نہ دیا گیا اور یا تو اونے پونے بیچ کر وہ فارغ ہوئے یا پھر جو کچھ بچ رہا ہے اس کا خریدار تک میسر نہیں۔ یاد رہے کہ سرحد پار مسلمانوں کے بڑے بڑے زرعی قطعات تھے، کیونکہ کبھی وہاں وہ حکمراں رہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ آزادی کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں نہرو نے زرعی اصلاحات کے ذریعے پچاس ایکڑ سے زیادہ زمین پر قدغن لگادی۔ فرمایا ہے کہ سندھی زبان کی کراچی میں تالہ بندی کردی گئی، جو ایک بلکل غلط بیانیہ ہے۔ زبان کا تعلق افراد سے ہوتا ہے۔ اس وقت کراچی میں اردو ایک عام فہم زبان ہے، جبکہ آبادی کے تناظر میں کچھ علاقوں میں سندھی، کچھ میں بلوچی، کچھ میں پشتو اور کچھ میں پنجابی بولی جاتی ہے۔ حقیقت میں کراچی منی پاکستان ہے اور یہاں کی آبادی پوری طرح شیروشکر ہوچکی ہے۔اسی طرح بھارت کے صدر مقام دہلی کو لے لیجئے،جو تقسیم سے پہلے اردو کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا۔ وہاں اس وقت صرف چند مسلمان محلوں میں اردو بولی جاتی ہے کیونکہ آبادی کا تناسب اب یہی رہ گیا ہے۔ عام طور پر لوگ پنجابی بولتے اور سمجھتے ہیں، ہندی بھی زیر استعمال ہے مگر زیادہ تر سرکاری دفاتر یا تعلیمی اداروں میں۔ قصہ مختصر، موجودہ دہلی کا اردو زبان سے دور دور کا واسطہ بھی مشکل سے ہوگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ سوسائٹی میں تبدیلیاں ناگزیر صحیح مگر بنیادی بات آبادیوں میں ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ لازم و ملزوم ہیں۔ بصورت دیگر فتنہ و فساد کسی بھی تعمیری عمل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ موصوف نے نسل پرستی کی باتیں بھی کی ہیں مگر اپنے بیانیے میں خود ہندوستانی نسل کی لپیٹ میں آگئے۔ قائد اعظم، علامہ اقبال اور سر سید میں لاکھ خامیاں صحیح، کانگریسی یا یونینسٹ افراد میں سب اچھا ہی اچھا رہا ہے۔ بلوچستان پر پاکستان کے قبضے کی بات بھی کی گئی ہے جبکہ قیام پاکستان کے وقت صوبہ بلوچستان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس علاقے کی اشرافیہ کو انگریز بلا مبالغہ اپنے دور میں پال رہے تھے اور تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے ہندوستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں کہ جہاں سے انگریز محصولات وصول نہ کرتے ہوں، جبکہ بلوچوں کا وہ واحد علاوہ تھا جہاں سرداروں پر انگریز الٹا خرچ کرتے تھے۔ جس کا منافع آج پاکستان کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! قادیانی نواز کافر طارق فاتح جیسے بیشمار امیر سادقین کوپیک کا کردار ادا کررھے ہیں۔ ماضی قریب میں ایک امیر سادقین کوپیک نے پاکستان کا ایک حصہ جدا کر ڈالا اور اس کی باقیات بھی اسی زمرے میں موجود ہیں۔ اسے پاکستانی قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یا بدعقلی کہ یہ امیر سادقین کوپیک جیسے مکار فریبی جھوٹے چالاک کے دھوکے میں بار بار آجاتے ہیں یاد رکھیئے تاریخ بتاتی ھے کہ امیر سادقین کوپیک نے اسلام اور ریاست کو بار ہا بار ناتلافی نقصان سے دورچار کیا تھا جبتک اس فتنے باز کا سرقلم نہیں ھوا وہ فتنے باز اپنی عادت سے باز نہیں آیا ھمیں بحیثیت منحاصل قوم ہمیں امیر سادقین کوپیک اور اسکے حواریوں پر قدغن لگایا لازم ھوگیا ھے کیونکہ ایسے موذی عناصر ریاست پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ الله تاقیامت پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔ پاکستان زندہ باد, پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
