BBC Urdu TV

عنوان:ترکیہ سوسالہ معاہدہ اختتام، مستقبل کیا ھے؟

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:ترکیہ سوسالہ معاہدہ اختتام، مستقبل کیا ھے؟

کالمکار: جاوید صدیقی

دنیا شاہد ھے اور تاریخ سے بھری پڑی ھے کہ نبی کریم ﷺ کے دور سے لیکر آج تک مسلم امہ میں ہمیشہ سے اسلامی ریاستوں کو منافقین اور بے دینوں نے اپنی غلیظ سیاسی سوچ لالچ نفس پرستی میں قوم تو قوم سلطنتیں ریاستیں اور ممالک برباد کردئے۔ دنیائے عالم کی غیر مسلم قوتوں کو روز ازل سے ہی دین الہٰی کی مخالفت اور رکاوٹ میں رھے، کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار اللہ واحد لاشریک کی جانب سے بھیجے گئے پیغمبروں نے دین الہٰی کو پھیلانے میں اپنا کلیدی موثر نایاب کردار ادا کیا لیکن شیاطین اور خباثت ذہنوں نے کبھی بھی اپنے اندر کی گند غلاظت کو ختم کرنے کی کوشش بھی نہ کی بلکہ سرکشی ضد اور ظلم سے اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد ہی بپا کئے رکھا۔ ان غلیظ سوچ اور عادات میں کئی مسلمان بھی بہکتے رھے ان گمراہ کن مسلمانوں کے سبب شیطانی و ابلیسی طاقتوں کو تقویت ملتی رہی۔۔۔۔ معزز قارئین!! جنھوں نے ایمان کو تھامے رکھا انہیں رسولِ خدا ﷺ کی جانب سے براہِ راست حکم ملا ان میں چند ایک سپہ سالار کا ذکرِ پیش ھے، سپہ سالار عظیم خالد بن ولید ؓ، سپہ سالار اعظم نورالدین زنگی ؒ، یوں تو ہزاروں مجاہدینِ اسلام ہیں جنہیں آپ ﷺ نے خود جنگ کی ہدایات بخشیں، مسلمان وہ ہو ہی نہیں سکتا جو جذبہ شہادت نہ رکھتا ھو کیونکہ دین محمدی ﷺ میں جہاد بہت زیادہ اہمیت کا حامل ھے مجاہد جب جنگ میں شہید ھوتا ھے تو اس کا غسل واجب نہیں کیونکہ تاریخ اسلام اور احادیث و واقعات بتاتے ھیں کہ شہیدوں کا غسل فرشتے کررھے ھوتے ھیں۔ آج ھم مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ ارب کی تعداد سے بھی بڑھ کر ہیں مگر ایمان بہت کم مسلمانوں میں رہ گیا خاص کر اقتدار اور بااختیاروں میں نہ دین رھا نہ ایمان یہی سبب ھے کہ اسلام اور دینِ محمدی ﷺ کے غدار یذید سے لیکر ابتک چلے آرھے ھیں جو حسینیوں پر ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔ معزز قارئین!! آج کا کالم معاہدہ لوازن ھے ذرا اس پر پہلے نظر ڈال لیتے ھیں۔
ترکی اور یورپ کے مابین سو سالہ معاہدہ لوزان گزشتہ روز چوبیس جولائی سنہ دو ہزار تیئس کو اپنی مدت مکمل کرچکا ھے۔
ترکی اور یورپ کے مابین جبر کے ماحول میں چوبیس جولائی سنہ انیس سو تیئس عیسوی کو طے پانے والا سو سالہ معاہدہ لوزان بالآخر اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ سنہ انیس سو اٹھارہ عیسوی میں پہلی عالمی جنگ کے اختتام نے جب ترکی کی شکست و ریخت پر مہریں ثبت کردیں، تب برطانیہ کی سربراہی میں فاتح قوتیں ترکی کے بڑے حصے پر قابض ہوگئیں اور پھر فاتح اور مفتوح کے درمیان رسوا کن شرطوں کیساتھ جبر کے ماحول میں ایک ظالمانہ معاہدہ ہوا، جسے ” معاہدۂ لوزان” اور انگریزی میں ٹریٹری آف لوزان کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ معاہدہ پورے سو سال پر محیط تھا۔ معاہدۂ لوزان کا انعقاد سوئیزر لینڈ کے شہر”لوزان“شہر میں چوبیس جولائی سنہ انیس سو تیئس عیسوی کو اتحادیوں اور ترکی کے درمیان ‏طے پایا گیا تھا۔ اس معاہدہ کی رو سے ترکی کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے اور ترکی اگلے سو سال کیلئے اس معاہدہ پر عمل درآمد کا پابند قرار پایا، معاہدہ کی دفعات اور ان دفعات میں پوشیدہ یورپ کی مسلم دشمنی اور تعصب بھی ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔!! اول :۔ اسلامی خلافت ختم کی جائے گی اور اس کی جگہ سیکولر ریاست قائم ہوگی۔ "سیکولرزم جو مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ قرار دیتا ہے وہ ایک مذہب کے ماننے والوں پر اجتماعی سطح پر اس کے نہ ماننے کی پابندی عائد کر رہا ہے” دوئم:۔ عثمانی خلیفہ کو انکے خاندان سمیت ملک بدر کیا جائے گا۔ ” کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اس سے زیادہ کھلم کھلا مثال کیا ہوسکتی ہے۔ جب بھی مغرب کا بس چلا انھوں نے مسلمانوں کے ان لیڈروں کو ضرور رسوا کیا جو امت مسلمہ کے مفادات سے مخلصانہ تعلق رکھتے ہیں” سوئم:۔ خلافت کی تمام مملوکات ضبط کر لی جائیں گی جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل ہوں گی۔ چہارم:۔ ترکی پٹرول کیلئے نہ اپنی سر زمین پر اور نہ ہی کہیں اور ڈرلنگ کرسکے گا، اپنی ضرورت کا سارا پٹرول اسے امپورٹ کرنا ہوگا۔ پنجم:۔ باسفورس عالمی سمندر شمار ہوگا اور ترکی یہاں سے گذرنے والے کسی بحری جہاز سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کرے گا یعنی سو سال تک۔ واضح رہیکہ باسفورس کی سمندری کھاڑی بحراسود، بحر مرمرہ، بحر متوسط کالنک ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عالمی ‏تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی نہر سویز کے ہم پلہ قرار دی جاتی ہے یعنی یورپین ممالک اور ایشین ممالک کو ملانے والا سمندری راستہ
اس معاہدہ کیساتھ ہی مسلمانوں کی عظیم سلطنت ”خلافت عثمانیہ“ کی بساط لپیٹ دی گئی اور افریقہ، ایشیا اور یورپ تک پھیلی ہوئی عظیم سلطنت بندر بانٹ کا شکار ہوگئی، الف:۔ عراق، اُردن اور فلسطین برطانیہ کے کنٹرول ‏میں چلا گیا۔ ب:۔ شام، لبنان، الجزائر اور لیبیا فرانس کے قبضہ میں آئے۔ ج:۔ اناطولیہ اور آرمینیا کو ترکی سے کاٹ کر آزاد ملک بنا دیا گیا۔ ص:۔ حِجاز مُقدس آل سعود کے قبضہ میں (موجودہ مملکت سعودی عرب کی صورت میں) چلا گیا۔ ط:۔خلیفہ کی ملک و بیرون ملک جائیدادیں ضبط کر کے ملک بدر کر دیا گیا، اسی پر بس نہیں۔ ع:۔ خلیفہ کی معزولی کا‏ پروانہ لے کر اسی صہیونی لیڈر رہرزل کو بھیجا گیا جسے خلیفہ نے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کے مطالبہ پر اپنے دربار سے دُھتکار کر نکالا تھا۔ صہیونیوں کی جانب سے یہ لہراتا ہوا وہ خنجر تھا جو خلافت کی قُبا چاک کرتا ہوا فلسطین کے سینے میں اتر گیا۔
ظُلم کی یہ داستان جو مسلمانوں کی یکجہتی پر کھلا وار تھی، گزشتہ دن چوبیس جولائی سنہ دو ہزار تیئس عیسوی کے تاریخی اہمیت کے حامل دن میں انجام کو پہنچ گئی، اب دیکھنا ھے کہ کیا ترکیہ اب اپنے علاقے مانگے گا؟ اب حکومت ترکیہ آزادی کیساتھ اپنے ملک میں سے تیل نکالنے کی کوشش کرسکتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اسلام کے نفاذ اور خلافت کی واپسی کی بات کرسکتا ہے۔‏ اللّٰہ کریم نے تمام شیطانی مکاریوں کو ناکام بناتے ہوئے اس معاہدہ کے ختم ہونے سے قبل ہی وہاں پھر اسلام پسندوں کو غلبہ عطا کردیا ہے اور ان کو دبانے کی امریکی کوششیں دم توڑ چکی ہیں، ترکیہ کی محب وطن عوام کے حسنِ انتخاب نے ایک دفعہ پھر طیب اردگان کی صورت میں بالغ لیڈر کو منتخب کرلیا ہے لہٰذا وہاں اب قیادت بھی جی دار ہے، یہی سبب ہے کہ استعماری قوتوں اور یہودیوں کے سینوں میں آگ لگی ہوئی ہے، یاد رکھیں کہ گزشتہ صدی شیطانی قوتوں نے خلافت عثمانیہ کیساتھ جیسی واردات کی تھی اب وہی واردات پاکستان اور دیگر قدرے بڑے مسلم ممالک کیساتھ کرچکے ہیں۔ یہ بڑے مسلم ملکوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تا کہ امت مسلمہ دنیا میں کوئی رول ادا کرنے کے قابل نہ رہے، پاکستان جس سیاسی و سماجی و اخلاقی و مذہبی تنزلی کا شکار ھے ایک بچہ بھی کہہ سکتا ھے کہ سب کے سب بے دین بے ضمیر بے حس اور غدار اسلام و غدار وطن ٹہر چکے ہیں۔ پی ڈی ایم سمیت پی ٹی آئی و دیگر نئی جماعتیں بھی یہ جمہوریت ناپید نابلد اور زہر ریاست ھے پاکستان مزید متحمل نہیں ھوسکتا ھے اس جمہوری نظام کیساتھ چلے۔ ہر بار اختیار اپنے جامعے سے باہر اچھل رھا ھے نہ قانون ھے نہ انسانیت اور نہ ہی دین، سپہ سالار ذرا رسولِ خدا ﷺ کی سوانح حیات کا مطالعہ کریں آپ ﷺ خود بھی سپہ سالار رھے ھیں آپ ﷺ کے اصحاب بھی سپہ سالار تھے اور ولی کامل بھی سپہ سالار گزرے ھیں انھوں نے اللہ و رسول ﷺ اور قرآن کے احکامات کی پیروی کی تھی یہی ھماری زندگی ھے اور یہی ھماری موت اس کے سوا دھوکہ اور شیطانی و ابلیسی و دجالی اطاعت آپ فور اسٹار پاکستانی سپہ سالار خود غور کریں سوچیں کہ وہ کس کی اطاعت کررھے ھیں اللہ پاکستان کا حامی و ناظر رھے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version