ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:بے شرم اور ڈھیٹ سربراہان اور اقوام
جنوبی ایشیا کے علاقے ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭﮨﻨﺪ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ پر جب ہم نظر دوڑاتے ہیں تو ان تینوں ممالک کے سربراہان اور اقوام میں عادت فطرت عمل میں کئی مماثلت یکساں دیکھتے ھیں۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ پندرہ ویں صدی ہجری میں بھی پڑھے لکھے مفکر و دانشور تاجر و آجر علماء و اطباء سیاستدان و بیوروکریٹس اور خصوصاً اشرفیہ اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی اپنی عادات اور ڈگر پر اسی طرح قائم ہیں جس طرح انکے آباؤاجداد رہے۔ دنیا و کائنات کی عظیم و مقدس الہامی و لافانی کتاب المبین قرآن الحکیم و الفرقان المجید نے ان عادات اور معاملات کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے کیونکہ حقیقی و سچی کتاب قرآن پاک جو تاقیامت تک قائم و دائم رہے گی اس میں ہدایات بھی ہیں اور حیاتِ زندگی کے درست اطوار بھی۔ یہ اطوار ہی امن و سکون سلامتی کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہیں۔معزز قارئین! برصغیر ﭘﺮ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ زمانہ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺁﻓﯿﺴﺮ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﮩﺬﺏ ﻋﻼﻗﮯ ﺳﮯ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﮬﻮگیا۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺍﺱ ﻏﻼﻡ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺁﻓﯿﺴﺮ ﺷﺪﯾﺪ ذہنی ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺎﺷﮑﺎ ﺭھنے لگا۔اس نے ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭨﺮﺍﻧﺴﻔﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﺷﺮﻭﻉ ﮐردیں۔ ﺟﺐ ﮨﺮﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮬﻮﺍ ﺗﻮﻣﻠﮑﮧ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺧﻂ ﻟﮑﮭ ڈالا، "ﻣﻠﮑﮧ ﻋﺎﻟﯿﺠﺎﮦ۔۔۔۔!!ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺮﺍﻧﺴﻔﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻏﻠﻂ ﮐﺎﻡ ﯾﺎﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﭘﺮﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﮯ۔” ﻭﺿﺎﺣﺖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﮩﺎ کہ: "ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﯾﺎ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﭘﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺎﺗﺤﺖ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻡ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭩﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮬﻮﻧﮯ کےﺑﺠﺎئے ﺩﺍﻧﺖ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ دیتا ھے۔ یہاں کے لوگ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺑﺠﺎئے ﻏﻠﻄﯽ ﺩﮨﺮﺍﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻓﻄﺮﺕ کے خلاف ھے ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﺎﺟﺬﺑﮧ ذرا بھر ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ۔” ﺧﻂ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﭨﻮﮎ ﺑﺎﺕ لکھی: "ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﯾﻮﺭﭖ ﭨﺮﺍﻧﺴﻔﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎئے، ﯾﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﺧﻂ ﺍﺳﺘﻌﻔﯽٰ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎئے۔” ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮑﮧ ﻋﻈﻤٰﯽ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ: ” ﺍﮔﺮ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮬﻮﺗﮯ ﮐﻮﺗﺎہی ﭘﺮ ﻧﺎﺩﻡ ﮬﻮﺗﮯ؛ ﻏﻠﻄﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﭘﺮ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎئے ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮﺗﮯ،ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ لوگ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﻼﻡ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ پاﺗﮯ؛ ان پر ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﻧﮧ ﮐﺮسکتے۔ ﮨﻢ ﺣﺎﮐﻢ اور ﯾﮧ ﻣﺤﮑﻮﻡ ﻧﮧ ﮬﻮﺗﮯ۔ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮬﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﮯﯾﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺳﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﻧﮯ ﮬﻤﯿﮟ ﺁﻗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﻼﻡ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﺎ ﻣﻨﺼﺐ ﺩﯾﺎ ھے۔ ﻏﻠﻂ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﮧ ﮬﻮ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮬﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺩﻭﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻤﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ۔ﺟﻨﮓ ﻋﻈﯿﻢ ﺩﻭئم ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ۔ ﭼﭙﮍﺍﺳﯽ ﺳﮯﻟﯿﮑﺮ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺗﮏ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ۔ ﻏﻠﻄﯽ ﺗﻮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮬﮯ ﮬﻢ ﺗﻮ ﺟﮭﻮﭦ، ﺟﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﻏﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ھوتے۔۔۔۔ معزز قارئین!! دنیا جانتی ہے کہ پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کی قوم اور حکمران عقل سے کوتاہ اور جذبات میں اندھی ہے ان ممالک کی تنزلی اور پستی کی سب سے بڑی وجہ بھی جھوٹ جرم غداری اور منافقت کے سحر میں بسے رہنا ہے یہاں میں بات کرونگا صرف اپنے وطن عزیز پاکستان کی کہ جس کو ایماندار سچی عوام اور سچے سیاستدانوں نے اپنے قول و فعل سے ثابت کیا تھا کہ وہ اصل میں الله اور اسکے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت محبت رکھنے والے ہیں اسی سبب نظریہ پاکستان کی بنیاد بھی دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھی گئی تھی کفار و مشکرین سے حقائق کیساتھ مقدمہ پاکستان جیتا اور دنیا کو بتادیا کہ ہم سچے مسلمان ہیں اور ایسی ریاست کا قیام رکھ رہے ہیں جو مدینہ ثانی ثابت ہوگا انشاءالله ۔۔۔ معزز قارئین!! اس میں کوئی شک نہیں اور کوئی دوہراہ نہیں کہ قیام پاکستان کے بانی اور رفقائے کار حقیقی معنوں میں پر عزم سچے ایماندار اور نیک تھے اسی لیئے دشمنانان پاکستان نے کسی کو شہید کردیا کسی کے خلاف ساذشی محاذ کھڑے کردیئے بالآخر اپنے غلام داخل کرکے ریاست پاکستان اور نظام پاکستان کی باگ ڈور انکے ہاتھوں تھمادی۔ پھر کیا تھا نیچے سے اوپر تک بےغیرتی بے شرمی بے حیائی منافقت جھوٹ غداری اور منفی سازشوں کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا جو تاحال جاری ہے۔
جبتک کہ یہ قوم شرمندگی اور احساس ذمہداری کو اپنی زندگی میں شامل نہ کرلیں اور اپنے اندر انسانیت کو بیدار نہ کرلیں تب تک یہ اچھے انسان اور اعلیٰ قوم نہیں بن سکے گی لازم ہے کہ انہیں حضور اکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی اطاعت اور ریاست کو نظام مصطفیٰ کو رائج کرکے ہی ہم اس سرزمین پاکستان کو مضبوط اور جنت النظیر بنا سکتے ہیں یقیناً اس کیلئے ہمیں ماضی کی بری عادتوں ڈھیٹ پن سے نکل کر ہر ایک فرد کو خود کو بدلنا ہوگا تاکہ نیا پاکستان وجود میں آسکے بصورت ہم بھی ماضی کی طرح منافقت اور ریا۔کاری کررہے ہونگے۔ وزیراعظم عمران خان بغیر عدل و انصاف مساوات کے ہر گز ہرگز مدینہ ثانی نہیں بنا سکتا ہے اس کیلئے اسے سخت ترین فیصلے فی الفور کرنے ہونگے تین سال ہونے کے ہیں ابھی تک نہ ماڈل ٹاؤن کے شہداؤں کو انصاف مل سکا اور نہ ہی اٹھارہ ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کیلئے کوئی قدم بڑھایا گیا ہے۔ عمران خان اٹھارہ ویں ترمیم کے خاتمے کے بغیر بے بس لاچار اور کمزور ہے اس حالت میں کوئی خواب نہ دکھائی۔ گرجنے والے بادل برستے نہیں۔ نافع بننے کیلئے بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں جو سچ کیساتھ ثابت قدم رہتے ہیں الله انکا ساتھ دیتا ہے جو جھوٹ اور منافقت کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
