ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:امریکی جھوٹ پر مبنی بیس سالہ افغان رپورٹ ۔۔۔!!
دو سو بیس اعشاریہ چھ کھرب ڈالرز کی جھوٹ اور مکاریوں پر مبنی فاشٹ رپورٹ جو ایک تیر میں دو شکار کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ھے۔ امریکی اداروں نے بیس سالہ افغان وار کے اخراجات اور ہلاکتوں کی رپورٹ جاری کی ھے جو سراسر جھوٹ بدیانتی غلط بیانی اور حقائق سے بالکل برعکس ھے رپورٹ میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے ہی امریکہ کی غلط بیانیوں کا تعین ھوجاتا ھے۔ پاک افغان دونوں جانب امریکہ نے دو لاکھ سے زیادہ تو صرف عورتیں، بوڑھے، معزور افراد اور معصوم بچے مار ڈالے۔ نہ اسپتال و اسکول بخشے اور نہ ہی پارک اور کھیل کے میدان چھوڑے۔ جہان حرکت نظر آئی وہاں بم گرائے۔ پوری امریکی قوم سر سے پاؤں تک انسانیت کی قتل و غارت گری اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں لتھڑی ھے۔ اب بڑی ڈھٹائی سے دو ٹریلین ڈالر پر ٹسوے بہائے جارھے ہیں۔ جو ہائیڈن سے سوالوں کےجواب مانگے جارھے۔ جان لیجئے وہ وقت دور نہیں جب ان دو سو بیس کھرب ڈالر اخراجات کے پول کھلتے چلنے جائیں گے۔ میری طرح کے وہ لوگ جو سوشل مارکیٹنگ جیسی دو دھاری معاشی پالیسیوں کی شد بد رکھتے ہیں، اندازہ کرسکتے ہیں کہ کس طرح پہلے پیسہ دے کر کسی ملک کو غلام بنایا جاتا ھے اور پھر خود ہی کرپشن کے نت نئےطریقے اور آسانیاں پیدا کرواتےھوئے منی لانڈرنگ کے زریعے رقم کا بہت بڑا حصہ واپس امریکی بینکوں میں محفوظ کرلیا جاتا ھے۔ جس سے معشیت کا قلعہ مضبوط رہتا ھے۔ امریکہ جب افغانستان سے نکل ہی بھاگا ھے تو زرا سوچئے کہ ان سفاک قاتلوں کو وہ کون سی مجبوری مارے جارھی ھے جو یہ اڑتیس ہزار افغانیوں کے ایک مخصوص گروہ کو امریکہ ساتھ لے جانا چاہتے ہیں؟
گلالئی جیسی پڑھنے والی بچیوں، غیر مسلم اقلیتی عورت مردوں یا پڑھے لکھے ذہین افراد کو کیوں نہیں ؟؟ صرف ایک وجہ یہ ہے کہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے یہ وہی کرپٹ اڑتیس ہزار ہیں جنہوں نے منی لانڈرنگ سے دو سو بیس کھرب کا آدھے سے زیادہ واپس امریکی بینکوں میں پھینکا۔ یہ ایک تیر سے دو شکار والی صورتحال ھوتی ھے۔ ایک طرف یہ اڑتیس ہزار افغانی امریکہ پہنچتے ہی معاشی سائیکل میں فٹ ھوجائیں گے، دوسرا یہ کہ اڑتیس ہزار لبرل افعال ایکٹیوسٹ کے طور پر سامنے آئیں گے۔ جو ایک طرف موجودہ افغان طالبان حکومت کے ظلم و بربریت کے خلاف بطور ژندہ ثبوت پیش کئے جائیں گے جبکہ دوسری طرف امریکا کے احسانات و خدمات کا ڈھول بجا کر اسے افغانستان کا مسیحا ثابت کرتے رہیں گے۔اللّٰہ دنیا کو امریکی مکاریوں سے پناہ بخشے۔۔۔۔آمین یا رب العالمین ۔۔۔ معزز قارئین!! اب سوال پیدا ھوتا ھے کہ عالم دنیا خاص طور پر نیٹو جو امریکہ کی مسلسل مسلم ممالک کو تہس نہس کرنے پر خاموش کیوں رہیں○ عراق• شام• اردن• مصر اور افغانستان کیساتھ ساتھ پاکستان شدید جانی و مالی نقصان سے دوچار کیا۔ آج پاکستان جس قدر تجارتی و اقتصادی طور پر بدحالی کا شکار نظر آرہا ھے اسکی سب سے بڑی وجہ امریکہ کا ڈو مور حکم ماننا تھا اب امریکہ ایک مکار و عیار و شاطر لومڑی کیطرح مکارپن سے کام لے رہا ہے اپنی ضد اکڑ اور غرور کے توسط سے دیگر ممالک کے بعد اب افغانستان میں بری طرح شکست سے دوچار ھوا ھے اپنی ناکامی و نامرادی کو تسلیم کرنے کے بجائےامریکی صدر اپنی عوام سے مسلسل جھوٹ بول کر جواب طلبی سے بچنا چاہتے ہیں لیکن تاریخ امریکہ کی بیس سالہ افغانستان میں جارحیت پر ناکامی کو سیاہ باب سے ہمیشہ قلم بند کریگا۔ سی آئی اے• موساد• را• این ڈی ایف سمیت دیگر نیٹو کی خفیہ ایجنسیاں افغانستان میں بری طرح ناکام و رسوا ھوکر بھاگ نکلی جبکہ دنیا کی نمبر ون مارخور نے اپنے تیز دھار سینگھوں سے ان سب کا افغانستان میں قلع قمع کردیا اور بھارت کو بآور کردیا ھے کہ مقبوضہ جموں کشمیر سے اپنا غاضبانہ رویہ فی الفور ختم کرکے وہاں سے چھاونی ختم کردی جائے بصورت بھارت اپنے انجام کو دیکھ لے کہ سپر پاور ننگے پاؤں بھاگتا نظر آیا سوچو تمہارا کیا حشر ھوگا۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
