ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:امریکہ سمیت نیٹو کا افغانستان سے انخلاء
امریکہ سمیت نیٹو کا افغانستان سے انخلاء پر اقوام متحدہ ‘ امریکہ ‘ نیٹو ممالک سمیت انڈیا نے واویلا مچانا شروع کردیا ھے اور اپنی ناکامی اور شکست کو چھپاتے ھوئے افغانستان کی کٹ پتلی حکومت کی حمایت میں آئے روز نئے خدشات کا اظہار کرتے ھوئے طالبان کو بدنام کرنے کی ناکام کوششیں جاری رکھی ھوئی ھیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت اس خطے میں امن و امان ترقی اور تہزیب کی ضمانت سمجھی جارہی ھے البتہ بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیاں موساد’ سی آئی اے’ را ‘ ایم آئی سکس’ این ڈی ایس سمیت دیگر شرانگریز نیٹو کی خفیہ ایجنسیاں طالبان سے خائف ھوتے ھوئے واویلا مچا رہی ہیں ۔۔ معزز قارئین!!
اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے آخری دنوں میں طالبان کی طرف سے حملوں میں تیزی آسکتی ہے اور انہوں نے درجنوں اضلاع پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر ڈیبورا لائنز نے سلامتی کونسل کو سنگین نتائج کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا اور بتایا کہ مئی کے بعد سے جنگجوؤں نے افغانستان کے تین سو ستر اضلاع میں سے پچاس اضلاع پر قبضہ حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں لڑائی بڑھنے سے دور اور نزدیک کے بہت سے ملکوں پر اثر پڑیگا۔امریکہ اور نیٹو کے ملک ابھی تک گیارہ سمتبر تک انخلا مکمل کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ تاہم امریکی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ طالبان کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں کے پیش نظر غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کی رفتار کم کی جاسکتی ہے ڈبیورا لائنز نے پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو نیویارک میں طالبان پر الزام لگایا کہ ان کی حالیہ پیش رفت سے طالبان کارروائیوں میں تیزی کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ جن اضلاع پر طالبان قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان میں اکثریت ایسے اضلاع کی ہے جو صوبائی دارالحکومتوں سے اردگرد ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی افواج کے ملک سے نکلتے ہی وہ ان صوبائی دارالحکومتوں پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے گزشتہ روز تاجکستان کے ساتھ افغانستان کے انتہائی اہم سرحدی راستے پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ سرحدی راستے شمال مشرقی صوبے قندوز میں ہے جہاں حالیہ دنوں میں لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔ طالبان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے صوبے کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور صرف صوبائی دارالحکومت میں سرکاری فوجیں موجود ہیں۔ کابل میں افغان وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج نے بہت سے اضلاع پر قبضہ بحال کرلیا ہے اور اس کی کارروائیاں ابھی جاری ہیں۔امریکہ کی فوج کا کہنا ہے کہ طالبان کی حالیہ دنوں میں جنگی کامیابیوں کے پیش نظر افغانستان سے جاری غیر ملکی افواج کے انخلاء کی رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے۔ قبل ازیں امریکہ کی وزارتِ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کی آخری تاریخ گیارہ ستمبر ہی رہے گی لیکن فوجیوں کی واپسی کی رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی وزارتِ دفاع کے حکام نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ نصف انخلاء ہوچکا ہے۔ افغانستان سے نیٹو اور امریکی فوج کا جب سے انخلاء شروع ہوا ہے اس وقت سے ملک میں تشدد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ افغانستان کی حکومت کے ترجمان ان خبروں کی تردید کرتے ہیں کہ طالبان نے درجنوں اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اضلاع کو ایک جنگی حکمت عملی کے تحت خالی کردیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں کہ طالبان کو کتنا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولیس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ طالبان نے دفاعی نکتہ نگاہ سے اہم قندوز شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ یہ شہر جو ایک عرصے سے طالبان کے نشانے پر ہے سنہ دو ہزار پندرہ میں کچھ دنوں کیلئے طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا لیکن اس کے بعد سرکاری فوج نے نیٹو اور امریکی افواج کی مدد سے طالبان کو پسپاہونے پر مجبور کردیا تھا۔ افغان سکیورٹی فورسز نے گزشتہ دنوں شمال مشرقی صوبے تخار میں طالبان کے حملوں کو پسپا کردیا اور دو اضلاع پر اپنا قبضہ بحال کرالیا۔ امریکہ کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورت حال بدل رہی ہے کیونکہ طالبان ضلعی مراکز پر حملے کررہے ہیں اور تشدد جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انخلاء کی رفتار کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑے یا فوج کو کسی ہفتے یا دن واپس نکالنے کو روکنا پڑے تو اس میں وہ لچک رکھنا چاہتے ہیں۔ "ہم مستقل اور روزانہ کی بنیاد پر اس چیز کا جائزہ لے رہے ہیں کہ زمینی صورت حال کیا ہے، ہمیں کیا درکار ہوسکتا ہے اور ملک سے نکلنے کیلئے ہمیں کیا اضافی وسائل درکار ہوسکتے ہیں اور اس کی رفتار کیا ہونی چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ یہ سب اہم فیصلے وقت کے وقت کیے جارہے ہیں۔ امریکہ نے اکتوبر سنہ دو ہزار ایک میں طالبان کو اقتدار سے علیحدہ کردیا تھا۔ طالبان القاعدہ تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن اور دیگر سرکردہ ارکان کو پناہ دیئے ہوئے تھے۔ امریکہ کے صدر جوبائیڈن کہتے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کی افواج کے انخلا کا جواز ہے کیونکہ امریکی افواج نے اس بات کو یقنی بنادیا ہے کہ افغانستان میں اب غیر ملکی انتہاہ پسند مغرب ممالک کے خلاف سازشیں کرنے کیلئے جمع نہ ہوسکیں۔اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے گزشتہ سال اس بارے میں خبردار کیا تھا کہ القاعدہ کے بہت سے ارکان اب طالبان میں سرائیت کرچکے ہیں۔ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز طالبان کے حملوں کو روکنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں لیکن اکثر لوگوں کاخیال ہے کہ غیر ملکی افواج کے ملک سے نکلنے کے بعد ملک ایک مرتبہ پھر طالبان کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔
صدر جوبائیڈن نے اس بات کی یقنی دہانی کرائی ہے کہ فوجوں کے انخلاء کے بعد امریکہ افغان حکومت کی پوری مدد کرتا رہے گا لیکن اس میں فوجی مدد شامل نہیں ہوگی۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں منگل کو شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں امریکہ کا شراکت دار ہوسکتا ہے لیکن وہ افغانستان پر حملوں کے لیے امریکہ کو پاکستان کی سر زمین پر اڈے فراہم نہیں کریگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں افغانستان میں متحرب گروہوں کا ساتھ دے کر غلطی کی تھی۔ عمران خان نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ وہ ہر اس قوت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں جس کو افغان عوام کا اعتماد حاصل ہو۔افغانستان کے رہنما ایک عرصے سے پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائدکرتے رہے ہیں۔ افغانستان سے نیٹو اور امریکی فوج کے انخلاء کے اہداف کو حاصل کرنے میں پاکستان کی مدد اور تعاون ہمیشہ انتہائی اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔ عمران خان نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں امریکہ خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف فضائی حملے کرنے کیلئے پاکستان میں فوجی اڈے فراہم کرنے کے سوال کے جواب میں ‘قطعی نہیں’ کہہ کر سختی سے مسترد کردیا تھا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان مخالف دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں اور منافق حکومتوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اب پاکستانِ حکومت غداروں خودغرضوں موقع پرستوں کے ہاتھوں ریاست قید و سلاسل میں نہیں اب حکومت اور ریاستی ادارے ایک پیج پر ھونے سے پوری دنیا میں جہاں اپنا وقار اور عزت بحال کی ھے وہیں سپرپاور ملکوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ پیدا کیا ھے۔ یہ کس طرح گوارا ھے پاکستان مخالف قوتوں کو انھوں نے اپنے غلاموں کو پاکستان بھر میں شور مچانے فساد برپا کرنے اور انتشار پھیلانے کیلئے مالی و دیگر اعانت بڑھادی ہیں اور قریب ھے کہ لاہور جیسے واقعات مزید پیدا کریں اب قوم کی ذمہداری ھے کہ ان کے محبوبوں کے چہرے عیاں ھوچکے ہیں تو عوام خود ہی انکے مکروہ کردار پر سزا منتخب کریں۔ الله پاکستان کی ہمیشہ حفاظت کرے آمین یہاں اس امر کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی ہر لمحہ الله واحدہ لاشریک کی مدد سے مارخور’ آئی ایس آئی’ آئی ایس پی آر کی بہترین کاوشوں اور جذبہ جہاد سے ھم امن و امان میں ھیں۔۔۔۔
پاکستان زندہ باد, پاکسستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
