BBC Urdu TV

عنوان:اسمگلر کو حب الوطن اور مذہب اسلام پر جانثار دیکھا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:اسمگلر کو حب الوطن اور مذہب اسلام پر جانثار دیکھا۔۔۔۔!!

پروفسر محمد ظریف خان صاحب کی تحریر نے میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس سے قبل کہ میں پروفیسر صاحب کی تحریر کو اپنے کالم کی زینت بناؤں یہ بتاتا چلوں کہ اگر پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا اعتراف جب جب کیاجائے گا تب وطن عزیز پاکستان اور اسلام سے والہانہ محبت و عقیدت کرنے والے مسلم اسمگلروں کی کاوشوں خدمات اور عظیم جذبات کو ہمیشہ قدر کی منزلت سے دیکھا جائیگا اور اُن لوگوں کو شدید نفرت حقارت اور دھتکارتے رہیں جو وطنِ عزیز پاکستان اور اسلام کے خلاف قوتوں کی پسِ پشت سہولتکاری کے مرتکب ہوئے ہیں اور ھورہے ہیں جانے انجانے میں ہماری سادھ لوح قوم سہولتکاروں کی چپری چکنی باتوں اور سازشوں کا شکار ھوجاتے ہیں لیکن دوسری جانب وطن سے عشق اور اسلام سے دیونگی کی حد تک لگاؤ بھی دکھائی دیتا ھے۔ پروفسر محمد ظریف خان صاحب کی تحریر سے اس حقیقت کا ایک دریچہ نظر آتا ھے۔ معزز قارئین! پروفسر محمدظریف خان صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ستمبر سنہ انیس سو اڑتالیس کی بات ہے جب ہندوستان نے ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ کرلیا کہ ریاست کا حکمران نواب مہابت خان لاکھ مسلمان سہی مگر ریاستی عوام کی اکثریت تو ہندو ہے جبکہ اس استعماری ریاست نے جموں و کشمیر پر قبضہ کرتے ہوئے۔
خیر قصہ مختصر یہ ھے کہ جونا گڑھ پر بھارتی قبضہ کے بعد نواب مہابت خان بروقت تمام اپنی اور اپنےاہلِ خانہ کی جان بچا کر اور مختصر ضروری سامان لےکر کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔یہاں انہوں نے اُس ‏وقت کے دارالحکومت کراچی کے مشہور علاقے کھارادر میں قیام کیا. یہ وہی علاقہ ہے جہاں کی ایک سڑک پر وزیر مینشن نام کی وہ سہ منزلہ عمارت واقع ہے جسے قائد اعظم کی جائے پیدائش ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ نواب صاحب اپنے سرکاری خزانے میں اڑتالیس من سونا چھوڑ آئے تھے اور وہ ایسی جگہ پر محفوظ تھا جسکا علم نواب صاحب کےسواکسی کو نہیں تھااگر ہندوستانی افواج پورا محل بھی کھود کر پھینک دیتیں تو انہیں سونا نہ ملتا۔ نواب صاحب کی خواہش یہ تھی کہ وہ سونا کِسی طرح پاکستان لایا جاسکے تو وہ اُسکا نصف حصہ سرکار پاکستان کے خذانہ میں جمع کرادیں گے ‏اِس امر سے تو ہر ذی علم واقف ہے کہ اُن دِنوں پاکستان انتہائی بحران کا شکار تھا اگر چند محبِ وطن لوگ اس نوزائیدہ ملک کی مدد نہ کرتے تو خاکم بدہن چند ماہ کے اندر ہی اسکا وجود ختم ہوسکتا تھا۔ نواب صاحب خلوص دل کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے اگر وہ چوبیس من سونا پاکستان کے خزانے میں جمع کرادیتے تو ملکی معیشت خاصی بہتر ہوسکتی تھی مگرسوال یہ تھا کہ اُسے لایا کس طرح جائے اور کون لے کر آئے؟ ہندوستان جیسا کمینہ ملک شرافت کیساتھ تو ریاست کی امانت اُسکے حکمران کے حوالے نہ کرتا اب تو ایک ہی صورت باقی بچی تھی غیر قانونی ذریعہ مگر حقیقتاً سونے کو خفیہ طریقے سے پاکستان منتقل کرنا بھارت کی نظر میں تو غیر قانونی ہوسکتا تھا مگر پاکستان یا نواب مہابت خان کیلئے نہیں کیونکہ یہ زرِ کثیر نواب صاحب کی ملکیت تھی اب کردار شروع ہوتا ہے کھوٹے سکے کا وہ تھے اُس دور کا مشہور اسمگلرحاجی عبداللّٰه بھٹی جو سمندر پار بستی صالح آباد میں رہائش پذیر تھے۔ یہ بستی کراچی کی بندرگاہ کیماڑی سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ عبد الله بھٹی اُس وقت اَسی برس کے تھے اور اپنا پیشہ ترک کرکے یاد الہی میں مصروف تھے۔ نواب مہابت خان کو جب اِس بارے میں علم ہوا تو انہوں نے پاکستان ‏کی ایک نہایت قابلِ احترام اور اعلیٰ ترین شخصیت سے درخواست کی کہ وہ اپنے اثرِ و رسوخ سے عبداللّٰه بھٹی کو اِس بات پر راضی کرلیں کہ وہ کسی بھی صورت اُنکا سونا جونا گڑھ کے خزانے سے نکال لائے اُس محترم ہستی نے عبداللّٰه بھٹی کو اپنے روبرو طلب کرکے ملک و قوم کی خاطر ‏یہ کام کرنے پر آمادہ کرلیا۔ جونا گڑھ سمندر کے راستے کراچی سے تین سو میل دور ہے۔ عظیم شخصیت کے حکم پر بوڑھے مگر پرعزم عبداللّٰه بھٹی اپنے بیٹوں قاسم بھٹی اور عبد الرحمٰن بھٹی کو ساتھ لے کر تیز رفتار لانچوں کے ذریعے جونا گڑھ روانہ ہوگئےپاکستانی فوج کے چند کمانڈوز بھی ‏اُن کےساتھ تھے
اِن لوگوں نے ایک بجے دوپہر کو بحری سفر شروع کیااور خفیہ راستوں سے ہوتے ہوئے جونا گڑھ کےساحل پر پہنچ گئے اُس وقت شب کے دس بجے تھے شاہی محل ساحل سمندر سے کچھ زیادہ دور نہ تھا پاکستانی کمانڈوز نے محل پر متعین بھارتی فوج کے افسران اور سپاہیوں کا خاتمہ کیا ‏اب دیکھئے اسمگلر کا حُسنِ کردار جب اُنہوں نے انتہائی اعلیٰ شخصیت کی موجودگی میں اڑتالیس من سونا نواب مہابت کو پیش کیا تو جہاں نواب صاحب نے حسب وعدہ چوبیس من سونا حکومتِ پاکستان کی نذر کیا وہیں اپنے حصے میں آنے والے چوبیس من سونے میں‌ سے چار من سونا حاجی عبداللّٰه بھٹی کو بطور ‏اِنعام پیش کیاحاجی عبداللّٰه بھٹی نے یہ سونا لینے سے انکار کردیا اور زار و قطار روتے ہوئے بولے”بابا” میں نے ساری زندگی اسمگلنگ کی مگر وہ انگریز کا زمانہ تھا اب میں نے اسمگلنگ نہیں کی بلکہ پاکستان کا حق حاصل کیا ہے۔ میں اسمگلر ضرور ہوں مگر مادرِ وطن کی دولت نہیں لوٹوں گا ‏پھر دوبارہ رونے لگ گئے۔ کچھ دیر بعد خاموش ہوئے اورسلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے میں یہ چار من سونا بھی حکومتِ پاکستان کے خزانے کیلئے پیش کرتا ہوں۔ اِسکے علاوہ میرے پاس ذاتی تین من سونا ہے جو اِس مقدس وطن عزیز پاکستان کی نذر ہے ‏پھر اُس عظیم ہستی اور نواب مہابت خان کے آنسو بھی نہ رک سکے لیکن یہ خوشی کے آنسو تھے فخر و انبساط کے آنسو اور ایک ہمارے اِس دور کے کھوٹے نہیں بلکہ گندے غلیث خبیث سکے ہیں جو پاکستان کی دولت کو لوٹ کردوسرے ملکوں میں لے گئے مگر نہ ان میں شرم ہیں نہ حیا تو ان جیسوں کو کیا نام دیا جائے۔حرام کی نسل۔؟معزز قارئین! یہاں اِن بدبخت لٹیرے سیاستدانوں اور گمراہ کرنے والے انتہا پسند لسانی تنظیموں کا کون محاسبہ کریگا جو حقیقت کا انکار شیطان ابلیس کی طرح کرتے ہیں جس طرح الله نے ابلیس کو ذلیل و رسوا کیا ھے اسی طرح حق تلفی کرنے والوں کی گرفت بھی بہت سخت رکھی گئی ھے سلام ھے ان تمام محبانِ وطنوں پر سلام ھے محبانِ اسلام پر جنھوں نے ملک پر اپنی جان و مال نچاور کئے اور لعنت ھو ان خبیث سور ناجائز اولادوں پر جنھوں نے ملک لوٹا اور غداری کے مرتکب ھوئے وطنِ پاکستان میں جئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جئے پاکستان کا نعرہ رہنا چاہئے اور یہی نعرہ تاابد جاری رہیگا انشاء الله ۔۔۔۔!!

پاک آرمی زندہ باد پاکستان پائندہ باد!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version