ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:اسلامی معاشرے و اقدار کے مجرم ۔۔۔!!
اسلامی جمہوری پاکستان آئینی و قانونی طور پر مکمل اسلامی شعائر تشخص پر سختی سے پابند رہنے کا حکم صادر کرتا ھے۔ دکھ و افسوس کا مقام ھے کہ ھماری پولیس و سولین ادارے جان بوجھ کر غفلت اور قانون شکنی کے مرتب ھوتے ہیں۔ آج بھی تھانے کسی طوائف خانے سے کم نہیں کسی شریف النفس کا تھانے داخل ھونا ہی عزت کی موت ھوتا ھے میرا ہر بار تجربہ رھا ھے کہ تھانوں میں داخل ھوکر معمولی معمولی گزارش پر بناء رشوت حرام کے ممکن نہیں جو پولیس میں حرام کھانے سے باز نہ آئے وہ حرامی نہیں تو کیا حلالی ہیں کیا حکومت پاکستان ھو یا صوبائی حکومتیں بلخصوص سندھ مفت میں کام لیتی ھیں ستر سال سے پولیس اصلاحات کا سنتے چلے آرھے ہیں مگر آج تک کسی حکومت نے اس بابت سنجیدگی کا مظاہرہ پیش نہیں کیا ھے۔ پاکستان اور پاکستانی معاشرہ اس وقت تک درست نہیں ھوسکتا جبتک کہ ھمارا پولیس اور عدلیہ نظام درست نہ ھو کیونکہ پولیس کیس دائر کرتی ھے اور عدالتیں فیصلے دیتی ہیں جس ریاست میں یہ دونوں وزراتیں محکمے ہی بگڑے ھوئے ھوں تو وہاں کیونکر ممکن ھوسکتا ھے کہ قانون کی پاسداری ممکن ھو اور انصاف یقینی ھو۔۔۔معزز قارئین!! پاکستان کے معاشرے کا بگاڑ شوشل بھی ھے اس ملک میں اس بابت نہ صرف سختی بلکہ مستقل پابندی عائد کردینی چاہئیے کیونکہ اس قوم کی نسل قابل نہیں کہ انہیں حد سے زیادہ آزادی فراہم کی جائے کیونکہ پاکستان مخالف قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ اس قوم کی نئی نسل کو مادر پدر آزاد کرکے تباہ کردیا جائے یہاں حکومت کی سب سے زیادہ ذمہداری عائد ھوتی ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!!
اب میں دو تحریریں آپ کی خدمت میں پیش کررھا ھوں جو شوشل میڈیا میں وائرل ہیں ان میں ایک تحریر یہ ھے ۔۔۔۔گوگل و ٹک ٹاکری معلومات کے مطابق
لڑکی کا نام ہے عائشہ اکرم اور عمر ہے اٹھائیس سال وہ اپنے دوست کے ساتھ جی مکرر پڑھیے دوست کے ساتھ ٹک ٹاک بناتی ہے اس کا نام ہے سہیل اور ایک انکا کیمرہ مین بھی صدام نام کا اور ٹک ٹاک کس ٹائپ کی ہیں کسی میں ڈانس ہے تو کسی میں سہیل محترمہ کےگالوں پہ ہاتھ پھیرتا ہے تو کہیں محترمہ سہیل کے یہ سب پاکستان میں ہورہا ہے۔محترمہ کی والدہ ان سے ناراض ہیں اور ٹک ٹاک پر ایک لاکھ بیس ہزار کےقریب محترمہ کے فالورز ہیں۔محترمہ ٹک ٹاک پر بتاتی ہیں کہ وہ مینار پاکستان جائیں گی تاکہ ان کے فالورز یعنی تماش بین پہلے ہی مینار پاکستان پہنچ جائیں پھر محترمہ وہاں دوستوں کے ساتھ انٹر ہوتی ہیں اور سہیل کی بانہوں میں لپٹ کر ٹک ٹاک بناتی ہیں ہرطرف لڑکوں کا ہجوم ہے دور دور تک کوئی اور لڑکی نہیں ہے اور لڑکے بھی سب ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر ہیں جو پاں پاں کرنے اور کسی ایسی ویڈیو کی تلاش میں ہیں جو انہیں وائرل کرسکے کچھ ویوز مل سکیں۔ سو ایسے لڑکوں میں ایک لڑکی جس کے سینے کے گرد دوست نے بازو لپیٹے ہوں نشان عبرت بنے تو حیرت کیسی؟ لیکن رکیے نشان عبرت کیسی؟ وہ تو وائرل ہوچکی ہے اس کی فین فالونگ ایک لاکھ سے بیس لاکھ تک جائے گی اور یہی تو ٹک ٹاکرز کی منزل ہے اسی مقصد کے لیے کبھی وہ اپنی جھوٹی موت کی خبر دیتے ہیں تو کبھی اپنے سچے اسکینڈل وائرل کرتے ہیں اور یہ واقعہ محترمہ نے خود وائرل کیا ہے دو دن تک تو کسی کو پتا ہی نہ تھا کہ کیا واقعہ ہوگیا پھر محترمہ تھانے پہنچی ایف آئی آر کروائی اور مین اسٹریم میڈیا کا ہائی لائٹ موضوع بن گئی۔ اب ان کی فین فالونگ دیکھ کر نہ جانے کتنی لڑکیاں بھرے مجمعوں میں گھسیں گے تاکہ ان کے ساتھ بھی کچھ ہو اور وہ بھی وائرل ہوں اور حد یہ ہے کہ گالیاں ہمارے معاشرے کو پڑ رہی ہیں اور وہ لوگ دے رہیں جو اس سب فساد کی جڑ ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! دوسری تحریر یہ ھے۔۔۔ میں مینار پاکستان والے واقعے پر خاموش تھا لیکن اب متاثرہ لڑکی کی یوٹیوب چینل دیکھ لیا تو اصل گیم سمجھ اگیا پہلٕے اسکرین شوٹ میں ویڈیو کے ویووز کو دیکھو سو دو سو سے اوپر نہیں جب یہ حادثہ یا ڈرامہ کہوں گا نہیں ہوا تھا جبکہ دوسرے اسکرین شوٹ میں دیکھو اس ڈرامے کے بعد کی ویڈیوز کی ویووز کو جو ہزاروں تک پہنچ گٸی اس سے اندازہ ہوجائے گا۔ سب سے اہم بات کہ حادثے کے بعد اپلوڈ کئے ہر ویڈیو پر لکھا ہے کہ مینار پاکستان والی لڑکی یہ اس لیے لکھا تاکہ لوگ اس ڈرامے کی وجہ سے میرے چینل کی طرف متوجہ ہوجائے اور ہو بھی گٸے۔ جس چینل پر کوٸی ویڈیو ہزار سے زیادہ ویووز حاصل نہیں کرسکی اس پر ویڈیو پر یہ لکھ کر مینار پاکستان والی لڑکی نے ہزاروں ویووز حاصل کئے ہیں۔ ڈیلی پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے لڑکی نے کہا انکی جسم کی ایسی کوٸی جگہ نہیں بچی جہاں نشان نہیں ہے لیکن اس کے برعکس اس کے چہرہ یا ہاتھ پر دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں ارہا جبکہ سب سے زیادہ نشانات ہاتھ اور چہرے پر ہونی چاہیے تھی کیونکہ ایسے مار پیٹ میں یہی اعضا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ سارا چکر فیمیس ہونے کیلئے اور سسکراٸپ بڑھانے کیلئے کیا گیا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! اسلامی جمہوریہ پاکستان موجودہ مدینہ ثانی کے وزیراعظم عمران خان صدرِ مملکت پاکستان عارف علوی صاحب اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحبان آپ سب کے علم میں لانا چاہتا ھوں کہ مینارِ پاکستان میں ھونے والے واقعات میں ٹک ٹاک گرلز کو بھی اتنا ہی قصوروار قرار دیا جائے جتنا انسانیت کے دشمنوں پر عائد ھو تاکہ دعوت دینے والی ہر فحاشہ باز آسکے میرا دعویٰ ھے کہ اس بگڑتے حالات کے باوجود کسی میں ہمت نہیں کہ وہ تن تنہا عورت پر جبر کرسکے اگر وہ جبر کرنے کی کوشش کرتا ھے کہ شریف عورت میں اتنا حوصلہ ھونا چاہئے کہ وہ اپنا دفاع کرسکے۔ اس سانحہ سے بہت ذمہداروں پر جہاں سوالیہ نشان پیدا ھورہے ہیں وہیں ریاست کی رٹ پر بھی شدید تشویش و پریشانی کا اظہار بھی پیدا ھورہا ھے۔ وقت ضرورت ھے کہ قومی و سینیٹ اجلاس طلب کرکے شوشل میڈیا پر سختی برتنے کے احکامات فی الفور جاری کیئے جائیں تو دوسری جانب مہنگائی کے طوفان کو ہر قیمت ہر صورت ختم کرکے عوام کو بنیادی ضروریات کا حصول ممکن بنایا جاسکے گر مہنگائی پر قابو نہ کیا گیا اور روزگار کے مواقع فوری فراہم نہ کیئے گئے تو مجھے خدشہ ھے کہ اس ریاست میں اس سے بھی بڑھ کر برے حالات سامنے آسکتے ہیں افسوس کا مقام ھے کہ ریاست کے ذمہدار حالات کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں بس بےتکی اور بے ترتیب احکامات دیکر بری ذمہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ھے کہ اس طرح کے حالات نہ معاشرے کو اور نہ ہی حکومتوں کا پیچھا چھوڑتے ہیں۔ قانون بنانا کوئی مہارت نہیں قانون پر عمل درآمد کرانا وہ بھی راست راہ کیساتھ تاکہ قانون کی روح زندہ رہ سکے بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک ھے جہاں کے ادارے نا اہل کرپٹ سیاستدانوں کے ماتحتی میں کام کرتے ہیں تو لازماً ھے کرپٹ کا نتیجہ بھی کرپٹ ہی برآمد ھوگا مجھ سمیت نئی نسل کو انقلاب کا انتظار ھے جب کوئی الله کا ولی نیک پرہیزگار عاشقِ رسول غلامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہترین سپہ سالار آئے جو سب سے پہلے مورثی سیاستدانوں کے خاندانوں کا سرقلم کردے پھر غداروں کا تب ایک پاک شفاف پاکستان برآمد ھوسکے گا تب تک ھم سب دعا ہی کرسکتے ہیں اس وطن عزیز کی سلامتی و بقا کیلئے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
