علامہ اقبال کی فکر اور کلام ہماری رگ وپے میں سرایت کئے ہوئے ہے ۔ڈاکٹر یونس حسنی
علامہ اقبال کی لفظیات نے بلامبالغہ اردوزبان کے ذخیرہ الفاظ کو ثروت مندکیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل
جس قدر انسان کی خالق سے دوری ہوگی اتنی ہی اس کی شخصیت ادھوری ہوگی ۔ ڈاکٹراسد شہزاد
نسیم امروہوی صاحب کی مرتب کردہ فرہنگ اقبال، اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے تفہیم ِاقبال کا اہم ذریعہ ہے ۔ ڈاکٹرصدف تبسم
علامہ اقبال کا کلام جذبہء عشق رسالت مآبؐ سے معمور ہے اور ان کا انتخاب الفاظ اس کے شایانِ شان ہے۔ڈاکٹر فرحانہ اویس*
ادارے کے زیر اہتمام لغت نویسی اور فرہنگ نویسی کی تربیتی ورک شاپس کا انعقاد کیا جانا چاہیے ۔ ڈاکٹریاسمین سلطانہ
افضل رضوی صاحب کی کتاب در برگ لالہ و گل کلام اقبال کی نباتاتی زاویے سے مرتبہ فرہنگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹرشاہد ضمیر
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیر اہتمام یوم اقبال کی سہ روزہ تقریبات کے تسلسل میں اُردو لغت بورڈ، کراچی میں فرہنگ اقبال: ضرورت و اہمیت کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت نامور محقق و قلمکار، استاذ الاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر یونس حسنی نے کی. ڈاکٹر صاحب نے ناسازیِ طبع کے باوجود تقریب کو رونق بخشی۔ سیمینار کا آغاز حسب روایت تلاوت کلام ربانی سے ہوا. تلاوت کی سعادت ادارے میں شعبہ حسابات و انتظامیہ کے رکن وصی اللہ خان نے حاصل کی. اس کے بعد معروف ثنا خوان اور مدیر نعت نیوز محمد زکریا شیخ الاشرفی نے کلام اقبال سے حمد و نعت کا نذرانہ پیش کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی. مہمان مقررین میں سب سے پہلے سینٹر فار پالیسی اینڈ ایریا اسٹڈیز "آئی او بی ایم” کے قائم مقام صدر شعبہ ڈاکٹر اسد شہزاد نے اقبال کے تصور عشق کو بنیاد بناکر موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اقبال، خالق و مخلوق کے درمیان رشتے کو مضبوط کرنے کے خواہش مند تھے ان کا ماننا تھا کہ جس قدر انسان کی خالق سے دوری ہوگی اتنی ہی اس کی شخصیت ادھوری ہوگی .ڈاکٹر صدف تبسم نے نسیم امروہوی صاحب کی مرتب کردہ فرہنگ ِاقبال کا اجمالی تعارف پیش کیا اور تفہیمِ اقبال کے ضمن میں اساتذہ اور طلبہ کیلئے اس کی اہمیت کو بیان کیا. ڈاکٹر شاہد ضمیر نے اپنی گفتگو میں کلام اقبال پر منفرد زاویے سے ہونے والے کام در برگِ لالہ و گل کا تعارف پیش کیا. انھوں نے کہا کہ افضل رضوی صاحب کی یہ کتاب کلام اقبال کی نباتاتی زاویے سے مرتبہ فرہنگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مقررین کی گفتگو کے بعد مہانان ِ اعزاز میں سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر فرحانہ اویس نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کا کلام جذبہء عشق رسالت مآبؐ سے معمور ہے اور ان کا انتخاب الفاظ اس کے شایانِ شان ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کی صدر شعبہ ء اردو ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے اپنی گفتگو میں ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر کی دلچسپی کی بدولت ادارے کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں اضافے پر خراج تحسین پیش کیا اور اس سلسلے میں فیلڈ دفتر کے انچارج اللہ رکھیو سانگی کے حوصلہ افزا کردار کو بھی سراہا. انھوں نے مزید تجاویز پیش کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ادارے کے زیر اہتمام لغت نویسی اور فرہنگ نویسی کی تربیتی ورک شاپس کا انعقاد کیا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں شعبہء اردو کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی. پروفیسر ڈاکٹر یونس حسنی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ علامہ اقبال کی فکر اور کلام ہماری رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے ۔انھوں نے کلام ِ اقبال کی آفاقیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی تفہیم کیلئے فرہنگ کی اہمیت اور صحیح زاویہ ء نظر کی جانب رہنمائی کی، جس کی بدولت موجودہ زمانے میںکوتاہ بینی کے سبب فکر اقبال کی بابت جنم لینے والے خیالات کی تطہیر ممکن ہوسکتی ہے. مقررین کی گفتگو کے دوران وقفے وقفے سے تحت اللفظ خوانی بھی پروگرام کی حسن ترتیب میں شامل رہی. اردو لیکچرر سید قدیس علی رضا نے تصنیف درد اور مانوس یادوں کے خالق اپنے والد انیس لکھنوی مرحوم کے کلام سے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے حضور خراج عقیدت پر مبنی رباعیات اور کلام پیش کیا جبکہ جواں سال شاعر و استاد جوہر عباس نے خوبصورت ادائیگی کے ساتھ کلام اقبال سے دو نظمیں اور دو غیر مردف غزلیات حاضرین کی سماعت کی نذر کیں اور اپنی پڑھت کے انداز پر خوب داد وصول کی. دوران تقریب اقبال کی نوجوانوں سے محبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے صدر محفل کی اجازت سے کم سن سید زہیر عالم رضوی کو بھی شاعر ِمشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے بارے میں خطابت کے جوہر دکھانے کا موقع دیا گیا اور اپنی کم عمری کے باوجود پُر اعتماد انداز میں علامہ اقبال کے بارے میں جذبات کا اظہار کرنے پر حاضرین نے بھرپور تالیوں سے ان کی حوصلہ افزائی کی. تقریب کے اختتام سے قبل ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر صاحب کا پیغام اور کلماتِ تشکر بھی حاضرین کے سامنے پیش کیے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل نے اپنے پیغام میں کہا کہ علامہ اقبال کی لفظیات نے بلا مبالغہ اردو زبان کے ذخیرہ الفاظ کو ثروت مند کیا ہے۔ سیمینار میں ادارے کے سابقہ ارکان، شعبۂ اُردو کراچی یونیورسٹی اور شعبۂ اُردو وفاقی اُردو یونیورسٹی کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اساتذہ و طلبہ کیساتھ ساتھ دیگر حاضرین کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئے.
