ٹائٹل: بیدار ھونے تک
طوائفیں حکمرانوں کو جنم لیں گی۔۔!!
تحریر: جاوید صدیقی
ھم دنیا کی آخیر صدی میں داخل ھوچکے ھیں یعنی پندرہ ویں صدی ہجری اس صدی میں طوائفیں حکمرانوں کو جنم لے رھی ھیں، ان حکمرانوں و سربراہوں کے بھڑوے اور دلال خاص دست راست ھونگے، عوام کنجر پن اور کمینگی کی تمام حدیں پار کررھی ھونگی، ناحق نا انصاف، فسطانیت و دجالیت کی اطاعت گزاری کو فخر سمجھیں گے، اس پندرہ ویں صدی میں مولوی ملا دین محمدی ﷺ کو باپ کی جاگیر بنائے بیٹھا ھوگا، انسانیت اور شرم و حیا کوچ کرجائیگی، صرف تحریری و زبانی مسلم ھونگے اور حقیقتاً مجسمہ شیطانیت و ابلیس بن چکے ھونگے، شعور سے لابلد اور جاہلیت میں یکتا و اعلیٰ مقام پر ھونگے، دولت کی پوجا اور عورت کے سجدے عام ھوچکے ھونگے، زمانے میں شر اور فساد پھیلانے کیلئے میڈیا ہر مکاری و عیاری جھوٹ و نفاق اور عریانیت کو پھیلانے میں خاص کردار ادا کرتا رہیگا۔ اس دور میں چند دانوں کے برابر مسلمان توکل اللہ والے رہ جائیں گے ان میں سادگی غربت و مفلسی ٹپک رھی ھوگی درحقیقت یہی لوگ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار ھوچکے ھونگے کیونکہ ان کے صبر و شکر قناعت و انکساری و عاجزی اور اللہ و رسول پاک ﷺ سے سچی محبت اور خلوص ہی انہیں برگزیدہ بنادیگی۔ یاد رکھئے اب پاکستان مکمل غلاظت و خباثت سے بھر چکا ھے ہر سو جب نظر پڑتی ھے تو بداخلاقی، تکبر، غرور، اکڑ، ریاکاری، منافقت، دھوکہ دہی، چاپلوسی، موقع پرستی، خودغرضی، شہوت پرستی، خودنمائی اور دین سے دوری نظر آتی ھے، افسوس کہ آج کا کافر مشرک یہودی عیسائی ہندو بت پرست آتش پرست لادین اور غیر مسلم امہ اور مسلمانوں پر ہنستہ ھے طعن کرتا ھے اور ان کے مسخ شدہ کردار پر لعنت بھی بھیجتا ھے اور کہتا ھے کہ جس مقدس ترین کتاب قرآن پاک پر تم صرف ایمان تو لے آئے مگر عمل میں نہیں لاتے ھم ایمان تو نہیں لاتے مگر اس مقدس کتاب کے اصولوں کو اپنا کر دنیا بھر میں ہر نعمت و برکت سے محظوظ ھورھے ھیں اور عزت و وقار بھی پا رھے ھیں۔
