کابل: افغان وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کابل میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں، طالبان کی پیش قدمی کے پیش نظرشہریوں میں شدید خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی۔ امریکی صدر نے طالبان جنگجوؤں کو وارننگ دیدی کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔
طالبان نے افغانستان کے تمام بارڈرز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کے حملوں کے پیش نظر دارالحکومت میں عمارتوں کوخالی کیا جا رہا ہے۔ترجمان طالبان نے کہا کہ جنگ کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں، جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئےعام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔
قبل ازیں کابل کی جانب طالبان کی پیش قدمی کے پیش نظر افغان قیادت کی سیاسی سرگرمیاں جاری تھیں، افغان صدر اور عبداللہ عبداللہ کی افغان سرداروں اور سیاستدانوں سے الگ الگ ملاقات ہوئیں، طالبان نے جلال آباد اور مزار شریف پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ طالبان سے جنگ کے دوران بعض افغان فوجی سرحد پار کرکے ازبکستان بھاگ گئے ، طالبان صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں بھی داخل ہوگئے، پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی قبضہ ہو گیا، زابل کے گورنر نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔
صوبہ دایکندی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے بغیر لڑے قبضہ کرلیا، افغان فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت پناہ کے لئے ایران جانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔
کابل میں صدر اشرف غنی کی سیاسی رہنماؤں اور سابق جنگی سرداروں سے ہنگامی ملاقات ہوئی جس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے بااختیار ٹیم تشکیل دینے پر اتفاق ہوا، اس سے قبل عبداللہ عبداللہ کی اہم افغان رہنماؤں سے ملاقات ہوئی جس میں عبوری حکومت کے قیام کا معاملہ زیر بحث آیا۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
دوحہ میں قطر کے وزیر خارجہ کی طالبان رہنما عبدالغنی برادر سے ملاقات ہوئی، شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے طالبان پر فوری جنگ بندی کرنے پر زور دیا۔
