BBC Urdu TV

صدرِ پاکستان نے ڈاکٹر مسعود اختر کو یونیورسٹی آف بلتستان کا وائس چانسلر مقرر کر دیا

صدرِ پاکستان نے ڈاکٹر مسعود اختر کو یونیورسٹی آف بلتستان کا وائس چانسلر مقرر کر دیا۔

یاد رہے کہ ان کی تقرری چار سال کی مدت کیلئے ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق حکومتِ پاکستان، وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران نے یونیورسٹی آف بلتستان، اسکردو کے نئے وائس چانسلر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ پاکستان نے یونیورسٹی آف بلتستان آرڈر 2016 کے سیکشن 8(3) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر مسعود اختر کو یونیورسٹی آف بلتستان کا نئے وائس چانسلر مقرر کیا ہے۔ ان کی تقرری چار (04) سال کی مدت کے لیے ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ڈاکٹر مسعود اختر اس سے قبل بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز کے ڈین کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور شعبۂ تعلیم و تحقیق میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
نوٹیفکیشن پر سیکشن آفیسر، پارس مہیسر کے دستخط موجود ہیں اور اسے آئندہ شمارے میں گزیٹ آف پاکستان پارٹ-I میں شائع کیا جائے گا۔نوٹیفکیشن کی نقول متعلقہ اعلیٰ سرکاری شخصیات اور اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں، جن میں سیکریٹری ٹو پریزیڈنٹ، اسپیشل سیکریٹری ٹو پرائم منسٹر، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، رجسٹرار یونیورسٹی آف بلتستان، اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر PID شامل ہیں پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلتستان، اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے ایک ممتاز محقق، استاد، اور منتظم ہیں جنہیں 33 سال سے زائد پیشہ ورانہ تجربہ حاصل ہے۔ آپ نے تدریس، تحقیق، ادارہ جاتی ترقی اور تعلیمی قیادت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ڈاکٹر اختر نے 1991 میں ایم۔ ایس سی (آنرز) اور 1995 میں پی ایچ ڈی مکمل کی، جبکہ 2005 میں لنکن یونیورسٹی، نیوزی لینڈ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کی۔ پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے دوران انہوں نے اینٹی پیراسائٹک ویکسینز کی تیاری پر کام کیا اور پاکستان میں امیونو پیراسائٹولوجی کے شعبے کی بنیاد رکھی۔بعد ازاں انہوں نے امیونو پیراسائٹولوجی کے موضوع پر 10 سے زائد پی ایچ ڈی اور 110 سے زیادہ ایم فل/ایم ایس سی (آنرز) تحقیقی مقالات کی نگرانی کی اور ملک میں اس شعبے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے PSF، PARB، ALP، NSLP اور HEC سمیت مختلف اداروں سے 10 سے زیادہ تحقیقی منصوبے جیتے اور مکمل کیے۔ تحقیق میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں انہیں AMBO فیلوشپ (جاپان)، پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ (HEC)، متعدد ریسرچ پروڈکٹیویٹی ایوارڈز، اور PAMS گولڈ میڈل سمیت کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ڈاکٹر اختر کے 130 سے زیادہ تحقیقی مقالے عالمی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کی متعدد درسی کتب اور مونوگرافس کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر اداروں نے نصابی حوالے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے لائیوسٹاک انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے پالیسی پیپرز بھی مرتب کیے۔
آپ نے یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد اور بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں تدریسی و انتظامی خدمات انجام دیں اور سینیٹ، سنڈیکیٹ، اور اکیڈمک کونسل سمیت اہم فورمز کا حصہ رہے۔ 2013 میں بی زیڈ یو میں پروفیسر آف پیتھوبائیولوجی کے طور پر شمولیت اختیار کی اور 2014 سے 2023 تک تین مسلسل مدتوں کے لیے ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز مقرر ہوئے۔اپ کی قیادت میں بی زیڈ یو کے ڈی وی ایم پروگرام کو 2014 میں پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل، اور 2019 میں امریکن ایسوسی ایشن آف ویٹرنری میڈیکل کالجز سے الحاق کی منظوری ملی۔ آپ نے فیکلٹی میں چار نئے شعبہ جات، ایکسپیریمنٹل لائیوسٹاک فارم، پیرا ویٹرنری اسکول، یونیورسٹی ڈائیگناسٹک لیبارٹری اور پروفیسر ڈاکٹر سکندر حیات آڈیٹوریم جیسے نمایاں منصوبے قائم کیے۔ آپ کی کاوشوں سے سیمین پریزرویشن اور کرائیو پریزرویشن لیبز کو پنجاب حکومت کی جانب سے تجزیاتی اداروں کے طور پر منظوری ملی۔ان کی خدمات کے اعتراف میں فیکلٹی کی ایک مرکزی ہائی ٹیک لیبارٹری کو “پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر سینٹرل ہائی ٹیک لیبارٹری” کا نام دیا گیا۔ڈاکٹر اختر نے قومی سطح پر نصاب سازی، پیشہ ورانہ اداروں میں نمائندگی، اور تحقیقی فنڈنگ پروگرامز کی جانچ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے جرمنی، امریکہ، ترکی، کینیا اور آئیکارڈا سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں بھی قائم کیں۔علمی حلقے پُراعتماد ہیں کہ ان کی متحرک اور وژنری قیادت میں یونیورسٹی آف بلتستان شگر وادی میں اعلیٰ تعلیم کا نمایاں مرکز بن کر ابھرے گی۔

Exit mobile version