BBC Urdu TV

صحت مندانہ خوراک انسانی جسم کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

صحت مندانہ خوراک انسانی جسم کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

دنیا بھر میں ہر سال ایک اعشاریہ تین ارب ٹن کھانا ضائع ہو جاتا ہے:گفتگو
بھوک کے شکاردنیا کے 121ممالک میں پاکستان کا 99واں نمبر ہے:چیئرمین
تھر میں آج بھی غذائی قلت کے شکار بچے موت کے منہ میں جانے پر مجبور ہیں:اظہار خیال
غذائی قلت سے متاثرہ نسل کمزور بچوں کو جنم دے کر آئندہ نسلوں کو پیدائشی طور پر کمزور بنا رہی ہے
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کا 16اکتوبر خوراک کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے خوراک کے عالمی دن پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ صحت مندانہ خوراک انسانی جسم کی ضرورت ہے،دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد خوراک کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دن کو منایا جانے لگا تاکہ ہر شخص کوبنیادی انسانی مل سکیں،غذائی قلت سے متاثرہ نسل کمزور اورلاغر بچوں کو جنم دے کر آئندہ نسلوں کو بھی پیدائشی طور پر کمزور بنا دیتی ہے،دنیا بھر میں ہر سال ایک اعشاریہ تین ارب ٹن کھانا ضائع ہو جاتا ہے جس کی مالیت ایک کھرب امریکی ڈالر بنتی ہے،مجموعی طور پر سیر شکم دنیایومیہ 35 لاکھ ٹن خوراک ضائع کر رہی ہے اور دوسری جانب آدھی دنیا ایک ایک لقمہ کو ترس رہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر گھر میں اور ہر جگہ ضرورت کے مطابق ہی کھانا پکایا جائے اور اگر ایک لقمہ بھی زائد ہے تو اسے اس شکم تک پہنچایا جائے جسے اس کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بھوک کے شکار 121 ممالک میں 99واں نمبر مگر اس کے باوجود حکمران طبقہ خوراک کی کمی کے مسئلے کے حل کے لئے وہ اقدامات نہیں اٹھا رہا جنہیں اٹھانے کی ضرورت ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ تھر میں آج بھی غذائی قلت کی وجہ سے مائیں کمزور بچے جنم دے رہی ہیں اور وہ موذی امراض میں مبتلا ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خوراک کی کمی کا مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے بہت سارے ممالک اس سے متاثر ہیں، فوڈ سیکورٹی کے مسائل کے حل کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اس پر قابو پایا جا سکے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
16-10-2024

Exit mobile version