*صحافیوں کے تحفظ کے لیے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے، کراچی پریس کلب صحافیوں کا تحفظ کیئے بغیر آزادی صحافت کا تحفظ ممکن نہیں،صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے، اگر اس ستون کو مضبوط نہ کیا تو ریاست عدم توازن کا شکار رہے گی، سعید سربازی*
*انسانی حقوق اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کیساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی کیلئے صاف ستھری اور معیاری صحافت ضروری ہے، شعیب احمد خان*
*انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے از حد ضروری ہے کہ اس معاشرے میں صحافت آزاد ہو اور آزاد صحافت صرف اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں صحافت کے علمبرداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، صحافیوں کے خلاف جرائم کیلئے استثنٰی کے عالمی دن پر پیغام*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی اور سیکرٹری شعیب احمد نے کہا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کیلئے موثر قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ صحافیوں کا تحفظ کئے بغیر آزادی صحافت کا تحفظ ممکن نہیں۔ صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے اگر چوتھے ستون کو مضبوط نہ کیا گیا تو ریاست عدم توازن کا شکار رہے گی۔ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ازحد ضروری ہے کہ اس معاشرے میں صحافت آزاد ہو اور آزاد صحافت صرف اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں صحافت کے علمبرداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ صحافیوں کے خلاف جرائم کیلئے استثنیٰ کے عالمی دن پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کیساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی کیلئے صاف ستھری اور معیاری صحافت ضروری ہے لیکن اس وقت صحافت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ایک خطرناک پیشہ بن چکی ہے۔ بہت سے صحافی جنگ، قدرتی آفات یا دیگر خطرناک علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ قتل کے زیادہ تر مقدمات میں انہیں انصاف نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار چھ عیسوی سے سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی تک دنیا بھر میں سترہ سو صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ گذشتہ سال سے اب تک ایک سو تیس سے زائد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو اسرائیلی فوج گولیوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنہ انیس سو بیانوے عیسوی سے سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی تک چھیاسٹھ صحافی قتل کئے جاچکے ہیں۔پاکستان میں حکومتی سطح پر صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ اور ان کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ملنے والی دھمکیوں اور جعلی مقدمات میں ملوث کرنے کے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی موثر ادارہ موجود نہیں ہے، سندھ میں سنہ دو ہزار بائیس عیسوی میں سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن قائم کیا گیا لیکن یہ کمیشن غیر موثر نمائندگی، وسائل کی کمی اور اراکین کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تقریباً غیر موثر ہوچکا ہے۔ سعید سربازی اور شعیب احمد نے کہا کہ پاکستان آج بھی صحافت کیلئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ صحافیوں کو سنسرشپ، تشدد، دھمکیوں، اغوا اور قتل جیسے خطرے درپیش ہیں۔ وفاقی اور سندھ حکومتوں نے صحافیوں کے تحفظ کیلئے جامع قوانین کو قانون کا حصہ بنایا ہے تاہم ان قوانین پر عمل درآمد ہونا اب بھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان آزادی اظہار رائے، آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، شفافیت کے فروغ کیلئے آزادی صحافت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم میں ملوث افراد کو مستشنٰی قرار دینے کے باعث معاشرے میں مزید جرائم پیدا ہوتے ہیں اور یہ اچھی سوسائٹی کو بہت بری طرح متاثر کرتے ہیں، ان کے اثرات سے نہ صرف عوام بلکہ صحافی بھی نشانہ بنتے ہیں۔ سعید سربازی اور شعیب احمد نے کہا کہ کہنے کو تو پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود صحافیوں کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار تشویشناک حد تک زیادہ ہیں۔ وفاقی اور سندھ حکومت صحافیوں کے تحفظ کیلئے مزید موثر قانون سازی کے ساتھ اس پر عملدرآمد بھی کرائے۔
