BBC Urdu TV

شعرا کی فرہنگوں کی تدوین ادارے کے وظائف کار میں شامل ہے، تقدیسی ادب سے وابستہ شعراءکو نظر

شعرا کی فرہنگوں کی تدوین ادارے کے وظائف کار میں شامل ہے، تقدیسی ادب سے وابستہ شعراءکو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈائریکٹر جنرل

قومی زبان کی خدمت پر مامور اداروں کے لیے دامے درمے قدمے سخنے ہمارا تعاون ہر وقت حاضر ہے۔ حاجی رفیق پردیسی

نعت گو شعرا ء کی فرہنگوں کی تدوین کے عمل میں تلمیحات کا بیان بھی لازماََ شامل ہونا چاہئے۔ ڈاکٹرعزیز احسن

کراچی(رپورٹ: جاوید صدیقی) گزشتہ روز ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے اُردو لغت بورڈ، کراچی میں اکابر اُردو نعت گو شعرا کی فرہنگوں کی ضرورت کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار اور محفل نعت کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا آغاز تلاوت کلام ربانی سے ہوا. تلاوت کی سعادت معروف قاریِ قرآن و ثنا خوان قاری اسد الحق نے حاصل کی۔ مہمان مقررین میں ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے گفتگو کرتے ہوئے ادارے کے سابقہ ڈائریکٹر اور بالخصوص موجودہ ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کو خراج تحسین پیش کرتے ھوئے کہا کہ ادارے کی جانب سے اکابر اردو نعت گو شعرا کے کلام کی فرہنگوں کے سلسلے میں پیش رفت اردو ادب میں بریک تھرو کے مترادف ہے. علامہ فیصل بیگ عزیزی نے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒ کیساتھ ساتھ اکابر اردو نعت گو شعرا میں محسن کاکوروی اور امیر مینائی کا تذکرہ کیا اور اس جانب توجہ دلائی کہ تینوں شخصیات کا زمانہ تقریباََ ایک ہی ہے. ڈاکٹر عزیز احسن نے اپنے صدارتی خطاب میں تقدیسی ادب کے باب میں ماضی میں روا رکھنے جانے والے عمومی رویوں کا ذکر کیا اور اردو لغت بورڈ میں ڈاکٹر فرمان فتحپوری سے اپنی ملاقاتوں اور تقدیسی ادب اور تنقید کے عنوانات سے ہونے والی گفتگو کا تذکرہ کیا. انھوں نے نعت گو شعرا کی فرہنگوں کی تدوین میں تلمیحات کی شمولیت اور بیان کو لازمی قرار دیا۔ حاجی رفیق پردیسی نے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ قومی زبان کی خدمت پر مامور اداروں کیلئے دامے درمے قدمے سخنے ہمارا تعاون ہر وقت حاضر ہے۔ مقررین کی گفتگو کے دوران وقفے وقفے سے ثنا خوانی کا سلسلہ بھی جاری رہا. خوش الحان ثنا خواں قاری اسد الحق نے اپنے مخصوص انداز میں گلہائے عقیدت پیش کئے.جس نے سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری کردی. زکریا شیخ اشرفی نے ثنا خوانی کی سعادت حاصل کرنے سے قبل فرہنگ حدائق بخشش کی تیاری کے عمل میں ڈیجیٹل کارڈ نویسی کے اختیار کردہ طریقے کی اہمیت اور کارپس کی بنیاد پر تیار کردہ فرہنگوں کی ایپ کی صورت میں فراہمی کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی. زکریا شیخ اشرفی نے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کی چار مختلف زبانوں میں لکھی معرکہ آرا نعت اور سید ادیب علی رائےپوری کا کلام پیش کیا. محفل میں نعت گو شاعر نظر فاطمی نے ترنم سے اپنا کلام پیش کیا اور داد وصول کی. جبکہ دفتر کے اراکین میں سے سید عاقب علی اور ندیم الدین نے بھی بارگاہِ رسالت میں اپنی عقیدت پیش کئے. تقریب کے اختتام پر مہمانان گرامی کی خدمت میں مطبوعات کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔ اس سے قبل ادارے کے افسر حسابات وصی اللہ خان نے ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر صاحب کا پیغام اور کلماتِ تشکر بھی حاضرین کے سامنے پیش کئے۔ ڈائریکٹر جنرل صاحب نے اپنے پیغام میں کہا کہ شعرا کی فرہنگوں کی تدوین ادارے کے وظائف کار میں شامل ہے، اس ضمن میں تقدیسی ادب سے وابستہ شعراء کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تقریب کے شرکاء میں ثمر فاؤنڈیشن کے روح و رواں چودھری ثمر سراج، ڈاکٹر حسن امام ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، وفاقی اردو یونی ورسٹی، ڈاکٹر ناصر الدین، پروفیسر ڈاکٹر کرن سنگھ، اقبال اختر القادری، معروف صحافی و کالمکار جاوید صدیقی اور کامران مغل، ادارے کے سابقہ ارکان ڈاکٹر شاہد ضمیر، عقیل احمد صدیقی، محمد علی خان لودھی، سید عامر عالم رضوی، فہیم الدین، سید معراج علی نواب کے نام نمایاں ہیں جبکہ شعبۂ اُردو کراچی یونی ورسٹی اور شعبۂ اُردو وفاقی اُردو یونی ورسٹی کے ایم فل، پی ایچ ڈی کے طلبہ کیساتھ ساتھ دیگر حاضرین کی بڑی تعداد بھی سیمینار میں شریک رہی.

Exit mobile version