*شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد*
*کسی بھی شعبہ میں تحقیق دستیاب معلومات تک رسائی کی بدولت ہی ممکن ہوتی ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کسی بھی شعبہ میں تحقیق دستیاب معلومات تک رسائی کی بدولت ہی ممکن ہوتی ہے۔ نالج بیسڈ سوسائٹی اور اکنامی کے لئے مطالعہ ناگزیر ہے جس کا بہترین ذریعہ لائبریریاں ہیں۔ مغرب میں آج بھی کتاب کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہاں پر لوگ دوران سفر، انتظار گاہ اور فارغ اوقات میں کتاب پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں اور زندگی کی تیز رفتاری میں انٹرنیٹ ہمارا خاصا وقت بچا لیتا ہے۔ آج معلومات حاصل کرنے کے بے شمار ذرائع ہیں جن میں انٹر نیٹ ایک کارآمد ذریعہ ہے کتابوں اور لائبریریز کے مقابلے میں انٹرنیٹ سے استفادہ کرنا آسان ہے۔ اگرچہ موجودہ دور میں لائبریریاں تبدیل ہوگئیں ہیں لیکن ان کا کردار نہیں بدلا، لائبریریاں تعلیمی نظام کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے اور ساراتعلیمی نظام لائبریوں پر مبنی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے طلبہ تحقیق کے بجائے کٹ اینڈ پیسٹ کو فوقیت دیتے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جامعہ کراچی کے زیراہتمام اور پاکستان لائبریری کلب، کوہا کمیونٹی پاکستان کے اشتراک سے چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”ڈیجیٹل ہورائزن: انفارمیشن سوسائٹی اینڈ فیوچر لینڈ اسکیپ آف لائبریرین شپ“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ لائبریریوں اور کتابوں کا قوموں کے عرو ج و زوال میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لائبریری کلچر ختم ہوتا جارہا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ لائبریریاں صرف ضعیف اور ریٹائرڈ لوگوں کے لئے ہیں جو اپنا وقت وہاں جا کر گزارتے ہیں۔ لائبریریاں نالج حب ہوتی ہیں لیکن ہماری نوجوان نسل لائبریریوں سے دور ہوتی جارہی ہے۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن مینجمنٹ یونیورسٹی آف پنجاب لاہور کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نوشین فاطمہ وڑائچ نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی اب 21 ویں صدی کے انسانوں کے ذہن اور سوچ کا حصہ ہے اور انہیں بہترین کارکردگی کے لئے ٹیکنالوجی درکار ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کردیا ہے کہ ہم کس طرح رہتے ہیں، کام کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔ آج کے طلبہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھے ہیں اور اس کے بغیر ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہے۔ طلباء کو ڈیجیٹل شہریت سکھانے کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ان کی ڈیجیٹل حفاظت کو بہتر بنانے میں مدد کرنے والے طریقوں کو سمجھنے اور ان میں مشغول ہونے میں ان کی مدد کرنا ہے۔ دنیا تیزی سے ایک دوسرے سے جڑرہی ہے 85 فیصد امریکی روزانہ آن لائن ہوتے ہیں جبکہ 50 فیصد سے زیادہ دن میں کئی بار آن لائن ہوتے ہیں اور 31 فیصد تقریباً مسلسل آ ن لائن ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر نوشین نے مزید کہا کہ 18 سے 29 سال کی عمر کے 48 فیصد امریکی تقریباً مسلسل آن لائن رہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ طلباء ایک ایسی دنیا میں داخل ہورہے ہیں جہاں وہ توقع کرسکتے ہیں کہ وہ باقاعدگی سے ایسے حالات کا سامنا کر سکتے ہیں جو ان کی ذاتی معلومات سے سمجھوتہ کرسکتے ہیں اور انہیں لاتعداد خطرات کے خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ معروف امریکی لائبریرین لوئیڈا گارسیا فیبو (Loida Garcia-febo) نے کہا کہ لائبریریاں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں جس سے معاشرتی فوائد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے ذریعے لائبریریوں کی فہرست سازی اور تلاش کے افعال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ کانفرنس کے پہلے روز دوسرے اجلاس میں قومی و بین الاقوامی اسکالرز نے مختلف عنوانات پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کئے۔ کانفرنس دوسرے روز بھی جاری رہے جس میں قومی و بین الاقوامی اسکالر اپنے مقالہ جات پیش کریں گے۔
