BBC Urdu TV

شعبہ ارضیات کے زیر اہتمام ”کراچی میں حالیہ زلزلے: وجوہات، اثرات اور تدارک“ کے عنوان سے سیمینار

*شعبہ ارضیات کے زیر اہتمام ”کراچی میں حالیہ زلزلے: وجوہات، اثرات اور تدارک“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد*

*50 ارب ڈالر مالیت کا انفراسٹرکچر اور رہائشی اثاثے کراچی میں زلزلہ کے خطرات سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ سابق ایم ڈی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، معین رضا خان*

*بوٹ بیسن، کورنگی کریک اور ڈی ایچ اے فیز 08 ہائی رسک زونز علاقوں میں شامل ہے۔ معین رضاخان*

*صرف مسائل کی شناخت سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان کے حل کیلئے عملی اقدامات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر پالیسی سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹرخالد محمود عراقی*

*پاکستان کی ساحلی پٹی، جو تقریباً 1100 کلومیٹر طویل ہے، بحیرہ عرب میں سبڈکشن زون سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ ایسے زلزلوں کا شکار ہو سکتا ہے جو سونامی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چیف میٹرولوجسٹ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ امیر حیدر*

*پانی کے اندھا دھند اخراج کے باعث زیر زمین خلا پیدا ہورہے ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کے بیٹھنے (زمین دھنسنے) کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر ریاض حسین راجپر*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) سابق ایم ڈی / سی ای او پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ معین رضا خان نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن علاقے میں موجود دو کروڑ سے زائد افراد ایک ایسے ساحلی ڈیلٹا کے قرب میں رہائش پذیر ہیں جو نہ صرف زمین دھنسنے کے عمل کا شکار ہے بلکہ زلزلہ خیزی کے شدید خطرے سے دوچار بھی ہے۔ تیزی سے اور بغیر کسی ضابطے کے شہری آبادکاری نے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ زیر زمین پیچیدہ ارضیاتی و آبی نظام ان خطرات کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ملیر ندی کی کھدائی، ندی کے فرش سے چٹانی تہوں کا انکشاف اور ریچارج میں کمی واقع ہورہی ہے۔ زمین دھنسانے کی رفتار میں اضافہ اور زیرِ زمین دباؤ میں تبدیلی آرہی ہے جبکہ کھدائی کے بعد واپس بھرائی یا حجم کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بوٹ بیسن، کورنگی کریک اور ڈی ایچ اے فیز ایٹ ہائی رسک زونز علاقوں میں شامل ہے۔ پچاس ارب ڈالر مالیت کا انفراسٹرکچر اور رہائشی اثاثے کراچی میں زلزلہ کے خطرات سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ ارضیات جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ”کراچی میں حالیہ زلزلے: وجوہات، اثرات اور تدارک“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ صرف مسائل کی شناخت سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان کے حل کیلئے عملی اقدامات اور مقامی و زمینی حقائق کی بنیاد پر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ ہمیں قدرتی آفات جیسے زلزلے، سیلاب اور موسمی تبدیلیوں کے بارے میں بہت ساری عالمی تحقیقات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان موضوعات پر پہلے ہی کافی مواد موجود ہے، ہمیں علم کو دوبارہ ایجاد کرنے کے بجائے، اس کو اپنے مقامی حالات کے مطابق نافذ کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ مسئلہ علم کے فقدان کا نہیں بلکہ اسکے نفاذ کا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ رجحان عام ہوتا جارہا ہے کہ ہر فرد، بغیر مکمل علم یا مہارت کے، مختلف موضوعات پر رائے دینا شروع کردیتا ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف معلومات کی درستگی کو متاثر کیا ہے بلکہ اہم قومی و معاشرتی معاملات میں غلط فہمیوں کو بھی جنم دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شعبہ میں صرف متعلقہ ماہرین کی رائے کو اہمیت دی جائے تاکہ درست اور ذمہ دارانہ فیصلے ممکن ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ” حقیقی ماہرین صرف حقائق پر بات کرتے ہیں، ہمیں افسانوی باتوں کے بجائے سچائی پر یقین رکھنا چاہئے۔ جامعات کی سطح پر ایسے نصاب تیار کئے جانے چاہئیں جن میں نظریاتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ عملی اطلاق کی گنجائش بھی ہو اور خاص طور پر طلبہ کی عملی تربیت کو بھی نصاب کا حصہ بنانا نہایت اہم ہے۔” سندھ یونیورسٹی جامشورو سینٹر فار پیور اینڈ اپلائیڈ جیولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ریاض حسین راجپر نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے، جو ایک سنگین ماحولیاتی اور انسانی بحران کی طرف اشارہ ہے۔ کچھ دہائیاں قبل جو پانی پچاس سے سو فٹ کی گہرائی پر دستیاب ہوتا تھا، اب وہی پانی تین سو سے تین سو پچاس فٹ تک کھدائی کے بعد بھی بمشکل دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق، پانی کے اندھا دھند اخراج کے باعث زیر زمین خلا پیدا ہورہے ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کے بیٹھنے (زمین دھنسنے) کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق، شہر کراچی میں یومیہ تقریباً چار سو پچھہتر ملین گیلن گندہ پانی پیدا ہوتا ہے، جس میں سے چار سو بیس ملین گیلن (یعنی اٹھاسی فیصد) بغیر کسی صفائی کے براہِ راست خارج کردیا جاتا ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے امیر حیدر نے کہا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی، جو تقریباً گیارہ سو کلومیٹر طویل ہے، بحیرہ عرب میں سبڈکشن زون سے صرف پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ ایسے زلزلوں کا شکار ہوسکتا ہے جو سونامی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امیرحیدر نے بتایا کہ سنہ انیس سو پینتالیس عیسوی میں ایک شدید نوعیت کا زلزلہ، جس کی شدت آٹھ اعشاریہ تین ریکارڈ کی گئی، نے ایک تباہ کن سونامی کو جنم دیا تھا۔ اس سونامی نے ساحلی علاقوں میں بھاری تباہی مچائی اور تقریباً چار ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ زلزلہ پیما آلات سیسمومیٹر نے روس کے جزیرہ نما کامچاتکا میں آنے والے آٹھ اعشاریہ آٹھ شدت کے طاقتور زلزلے کی گزرنے والی لہروں کو ریکارڈ کیا۔ اس حرکت کو ایک متحرک نقشے انی میشن کی صورت میں پیش کیا گیا ہے، جس میں ہر نقطہ ایک زلزلہ پیما اسٹیشن کی نمائندگی کرتا ہے۔ سرخ نقطے اس مقام کو ظاہر کرتے ہیں جہاں زمین اوپر کی جانب اٹھی، جبکہ نیلے نقطے ان علاقوں کو ظاہر کرتے ہیں جہاں زمین نیچے کی جانب دھنس گئی۔ شعبہ طبیعیات جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر انتخاب الفت نے کہا کہ زلزلے صرف زمین کی پرتوں کی حرکت کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ یہ توانائی، دباؤ اور ساخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا مظہر ہوتے ہیں۔ تھرموڈائنامکس حرارت و توانائی کا علم ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ زلزلوں کے دوران توانائی، ترتیب اور ناقابل واپسی عمل کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ ارضیاتی دباؤ کی وجہ سے ممکنہ توانائی زمین کی پرتوں میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ جب فالٹ لائنز اچانک سرکنے لگتی ہیں تو یہ توانائی مختلف شکلوں میں خارج ہوتی ہے۔
ڈاکٹر انتخاب الفت نے بتایا کہ زمین کی پلیٹوں کی حرکت کے باعث دباؤ مسلسل بڑھتا ہے۔ چٹانیں وقت کیساتھ ساتھ لچکدار توانائی جمع کرتی ہیں۔ جب دباؤ چٹانوں کی قوتِ برداشت سے بڑھ جاتا ہے، تو فالٹ اچانک ٹوٹتا ہے، جس سے توانائی زلزلے کی صورت میں ارتعاش بن کر زمین میں سفر کرتی ہے۔ کراچی ایک عبوری ٹیکٹونک زون کے قریب واقع ہے، جہاں زمین کی پلیٹیں تبدیل ہورہی ہیں۔ اس علاقے میں چھپے ہوئے خطرات کی نشاندہی انٹروپی پر مبنی ماڈلز کے ذریعے کی جارہی ہے۔ یہ جدید سائنسی تحقیق ہمیں خطرات سے بروقت آگاہی فراہم کرتی ہے اور محفوظ مستقبل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ رئیس کلیہ علو م جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں میں خوف و ہراس اور دیگر شہریوں میں انسانی جان و مال کو لاحق خطرات کے باعث اس سیمینار کا انعقاد نہایت بروقت اور موزوں اقدام ہے۔ اس سیمینار میں ممتاز مقررین تحقیقی مقالات پیش کریں گے، جن سے زلزلوں کی سائنسی وجوہات اور عمارتوں کی کمزوریوں سے متعلق فہم میں اضافہ ہوگا۔ مقررین تعمیراتی ضابطوں کی عدم پیروی اور غیر معیاری تعمیراتی سامان کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات پر روشنی ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ زلزلے سے متعلق تحقیق کو فروغ دیا جائے، خاص طور پر ان اقدامات پر توجہ دی جائے جو کراچی کے متاثرہ علاقوں میں مضبوط اور محفوظ عمارتوں کی تعمیر کیلئے ضروری ہیں۔ اس مقصد کیلئے عوامی و نجی اداروں کو تحقیقاتی منصوبوں کیلئے فنڈز فراہم کرنے چاہئیں۔ شعبہ ارضیات جامعہ کراچی کے سابق چیئرمین و سابق رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر وقار حسین نے کہا کہ پاکستان دنیا میں زیر زمین پانی نکالنے والے بڑے ممالک میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے، جس پر ماہرین اور پالیسی سازوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مؤثر ضابطہ سازی اور نگرانی کے اقدامات نہ کئے گئے تو ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ صدر شعبہ ارضیات جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ارم بشیر نے کہا کہ زلزلے قدرتی آفات میں سے ایک ہیں جو عمارتوں، انفراسٹرکچر اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ عمومی طور پر زمینی پرتوں کی حرکت، آتش فشانی سرگرمیوں اور انسانی سرگرمیوں جیسے تیل، گیس یا زیر زمین پانی کے ضرورت سے زیادہ نکالنے یا کیمیکل و جوہری دھماکوں کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا میٹروپولیٹن شہر، کراچی جو لاکھوں افراد کا گھر ہے، ماضی میں ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زلزلوں کے لحاظ سے کم سرگرم رہا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں یہاں معمولی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جس نے عوامی تشویش کو جنم دینے کیساتھ ساتھ کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے، جن میں ارضیاتی صورتحال، بنیادی ڈھانچے کی تیاری اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت شامل ہیں۔

Exit mobile version