BBC Urdu TV

شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے۔ بعض اوقات، بعض لمحات، بعض راتوں کے لیے حدیثِ شریف میں

شبِ برات
حضرت امیر محمد اکرم اعوان رح
شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے۔ بعض اوقات، بعض لمحات، بعض راتوں کے لیے حدیثِ شریف میں فضائل آئے ہیں، ان کی برکات زیادہ ہیں۔ ان میں عبادت کا اہتمام لوگ کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات یاد رہے، بنیاد فرائض ہیں۔ اگر کوئی فرائض کی پرواہ نہیں کرتا اور صرف شبِ براتیں منا لیتا ہے تو یہ دین نہیں ہے۔

جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے اور شبِ برات بھی ہم پٹاخے چلا کر، خرافات سے مناتے ہیں۔ اگر یہ رات عبادت کی ہے، فیصلوں کی رات ہے، بعض احادیث میں ملتا ہے۔ بعض متقدمین نے تفسیر میں بھی نقل فرمایا ہے کہ دنیا میں کام کرنے والے فرشتوں کو ایک سال کے لیے اس رات میں فیصلے عطا کر دیے جاتے ہیں۔

لیکن کیا اللہ کریم اپنے فیصلوں میں کسی کا محتاج ہے؟ کوئی ایسا فیصلہ ہے جو اللہ پر حاوی ہو اور اللہ کریم مجبور ہو؟ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ وہ جب چاہے، جو چاہے فیصلہ کرے۔ ہر لمحہ اس کی عبادت کا ہے اور ہم نے عبادت کا مفہوم سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے۔

عبادت کا مطلب اطاعتِ الٰہی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ نماز اور نفلیں ہی عبادت ہوں۔ بازار جانا بھی عبادت ہے، روزگار کمانا بھی عبادت ہے، مزدوری کرنا بھی عبادت ہے، بال بچے پالنا بھی عبادت ہے، والدین کی خدمت بھی عبادت ہے، اولاد کی تربیت بھی عبادت ہے۔

زندگی کا ہر کام یا اللہ کی عبادت ہے یا جرم ہے۔ دو حالتوں میں سے زندگی کا کوئی کام خالی نہیں ہے۔ اگر اللہ کے حکم کے مطابق ہے، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اتباع میں ہے، نبی کریم ﷺ کی غلامی میں ہے تو ہر کام عبادت ہے۔ مزدوری عبادت ہے، سفر عبادت ہے، قیام عبادت ہے، سونا عبادت ہے، جاگنا عبادت ہے، بات کرنا عبادت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی حدود کے اندر ہو۔

عبادت کا مطلب اطاعت ہے۔ جو عبادات فرض کی گئی ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، یہ اللہ کا خصوصی انعام ہے۔ یہ حضورِ حق میں حاضری ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں روبرو کھڑے ہونا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ بار بار بارگاہِ عالی میں حاضر ہونے سے بندے کا اللہ سے تعلق بڑھتا ہے، آشنائی بڑھتی ہے، دل اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔

لہٰذا عبادات کا حاصل، یا جسے آپ ثواب کہتے ہیں، ہمیں اس کو سمجھنے میں بھی غلطی لگتی ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ اُدھاری مزدوری ہے، اس کا ثواب مرنے کے بعد ملے گا۔ یہ غلط کہا جاتا ہے۔ ہر شے کا ثواب نقد ملتا ہے۔

عبادات کا ثواب کیا ہے؟
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر
(العنکبوت: 45)

اگر آپ اللہ کی عبادات کرتے ہیں تو اس کا ثواب یہ ہے کہ آپ کا کردار صحیح ہو جاتا ہے۔ بار بار حاضری سے، سجدے کی قربت سے اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ دل پر ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے، ایک حضوری نصیب ہوتی ہے، معیتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔

اگر اللہ کی عبادت بھی کی جا رہی ہے، نمازیں بھی پڑھی جا رہی ہیں، مگر جھوٹ بولا جا رہا ہے، سود کھایا جا رہا ہے، برائیاں کی جا رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ عبادت نہیں ہو رہی۔ کہیں نہ کہیں کمی ہے، یا عقیدہ درست نہیں، یا عمل سنت کے مطابق نہیں۔

یہی حال ان مبارک ساعتوں کا بھی ہے۔ لیلۃ القدر ہو یا شبِ برات۔ اگر ان میں عبادت نصیب ہوتی ہے تو اس کا حاصل یہ ہونا چاہیے کہ آئندہ فرائض قائم ہوں، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی توفیق ملے، اور بندہ اطاعت گزار بن جائے۔

لیکن ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم احکامِ الٰہی اور شریعت کو چھوڑ کر رسومات کے پیروکار بن گئے ہیں۔ ہمیں اس بات کی فکر رہتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، لوگ ہمیں نیک سمجھیں گے یا نہیں۔

حق وہ ہے جو عنداللہ قبول ہو، بارگاہِ رسالت ﷺ میں قبول ہو۔
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ
(آلِ عمران: 3)

شبِ برات ہو یا لیلۃ القدر، یہ ساری نفلی عبادتیں اس زندگی کی سجاوٹ ہیں جو سنت کے مطابق ہو، فرائض پر قائم ہو، حلال و حرام میں تمیز رکھتی ہو۔ اگر اصل ہی موجود نہ ہو تو سجاوٹ کس کام کی؟

عبادت سوداگری نہیں، یہ کاروبار نہیں کہ ایک رات لگائی اور سال بھر کے منافع کی امید رکھی۔ عبادت کا نتیجہ توفیقِ عمل ہے۔ اگر توفیقِ عمل نہیں مل رہی تو سمجھ لیں عبادت قبول نہیں ہوئی۔

Exit mobile version