BBC Urdu TV

شرح سود میں ایک فیصد کمی آٹے میں نمک کے برابر ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

شرح سود میں ایک فیصد کمی آٹے میں نمک کے برابر ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

سود کی شرح میں کمی صرف صنعتی اور کاروباری حلقوں کیلئے نہیں عام آدمی کیلئے بھی فائدہ مند ہوتی ہے:گفتگو

مارچ میں افراط زر کی شرح 0.7 فیصد اپریل میں 0.3 کی کم ترین سطح پر آگئی، مزید کمی کی گنجائش ہے:چیئرمین

پاک بھارت کشیدگی کے معاشی اثرات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا،ملکی معیشت پر مضر اثرات مرتب ہوں گے

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ شرح سود میں ایک فیصد کمی آٹے میں نمک کے برابر ہے،شرح سود میں کمی صرف صنعتی اور کاروباری حلقوں کیلئے نہیں عام آدمی کے لیے بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے خاص طور پر ان کیلئے جن کے پاس کاروباری منصوبے ہیں مگر سرمایہ نہیں ہے دوسری جانب شرح سود ملک میں افراط زر سے منسلک ہوتی ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں افراط زر کی شرح مارچ میں 0.7 فیصد تھی جو اپریل میں کم ہوکر 0.3 کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اس حساب سے نہ صرف شرح سود میں مزید کمی گنجائش ہے بلکہ اسے سنگل ڈیجٹ پر لایا جاسکتا مگر ایسا کرنے کی بجائے حکومت نے 12 سے 11 فیصد مقرر کرکے قوم کو ریلیف سے محروم کردیا ہے۔ان خیالات کا اظہار شرح سود میں ایک فیصد کمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت خطہ کے دیگر ممالک میں شرح سود کم ہے حکومت اگر ترقی کے سفر میں آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اسے معاشی اصلاحات کرتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہوگا کیونکہ جب تک عوام خوشحال نہیں ہوں گے ملکی ترقی تو دور کی بات اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے معاشی اثرات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا یقینا اس کے مضر اثرات ملکی معیشت پر پڑیں گے تاہم حکومت کو اس حوالے سے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
06-05-2025

Exit mobile version