BBC Urdu TV

شانگلہ میں سیاسی میدان گرم ہیں روز عوام حالات کو دیکھ کر وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں

شانگلہ میں سیاسی میدان گرم ہیں روز عوام حالات کو دیکھ کر وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں

ایک عیر سیاسی سروے کے مطابق این اے گیارہ سے داکٹر عباد اللہ کی پوزیشن مستحکم ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں راجہ خاندان جو کافی عرصہ سیاست سے باہر رہیں اسکیلے دوبارہ جگہ بنانے میں کافی وقت لگے گا تیسرے امیدوار حاجی سید فرین صاحب کی سیاسی ابتدا کی کوئی بنیاد نہیں جہاں بارش ہوں محترم اس کے سات ھوتے ہیں ابھی تو اس کے بہت قریب لوگوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا َصوبای نشت پہ متوکل خان کی چند معلوم ووٹ ہیں اور وہ اس کو ملنا ہیں، دو صوبائی حلقوں سے انجینئر امیرمقام کا الیکشن لڑنا دور اندیشی ہیں اور عوامی رائے کی مطابق اسکا جیت یقینی بھی ہیں، تحصیل بشام سے رشاد خان اور شوکت یوسف زئی کا مقابلہ کانٹہ دار ھوگا ، ریاض خان کو PTI کا ووٹ ملیگا لیکن جیت مشکل ہیں بلا شبہ شوکت یوسف زئی نے شانگلہ میں کافی چندر خرچ کیا لیکن وہ شانگلہ کی سیاست سے ناواقف تھا زیادہ لوفر لفنگوں نے قومی نقصان بھی کیا اور جو خان کے ساتھ دینے والے نظریاتی کارکنوں نے خاموشی اختیار کی کیونکہ قربانی دینے والے ایگ نور ھوگی اور سیاست کی سمجھ بوج نہ رکھنے والوں نے فایدہ اتھایا ، شاید شوکت صاحب کو پھر یہ موقع نہ مل سکے دوسری اھم علطی پارٹی کے ورکرز کو نزر انداز کر کہ پارٹی کے عہدے اپنے گھروں میں تقسیم کیا ایک حاجی سید فرین کے سارا فیملیPTI کے عہدے دار ھیں کیا کوئی اور سیاسی عہدہ سنبھالنے کا قابل نہیں تھا

Exit mobile version