BBC Urdu TV

سینئر جرنلسٹ کراچی جاوید صدیقی کا آئی جی سندھ اور چیف پولیس سے مطالبہ

*سینئر جرنلسٹ کراچی جاوید صدیقی کا آئی جی سندھ اور چیف پولیس سے مطالبہ*

*آئی جی سندھ اور کراچی چیف پولیس فیصلہ آپ پر ھے*

*محکمہ پولیس سندھ میں کالی بھیڑوں کا قلع قمع ناگزیر بن چکا ھے*

*صحافیوں پر روز روز کے پر تشدت واقعات سے بہتر ھے ایکبار تمام کردو*

*پولیس کا محکمہ جمہوری حکومت میں جمہوریت کا جنازہ نکال رھا ھے*

*نااہل، کرپٹ، ذہنی بیمار ایس ایچ اوز، اہلکاروں کو نوکری سے فوری برخاست کیا جائے*

*اہلکاروں کا رپورٹرز پر حملہ پولیس کی کارکردگی اور ذہنی بیماری کو ظاہر کرتا ھے،*

*تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت اہلکاروں کا ذہنی علاج کرایا جائے*

*صوبہ سندھ اور کراچی کیلئے کراچی پولیس کی اصلاحات ناگزیر ھوچکی ھے*

کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار؛ ممبر کراچی پریس کلب و کراچی یونین آف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے آئی جی سندھ اور کراچی چیف پولیس سے مطالبہ کیا ھے کہ صحافیوں پر پولیس کی جانب سے روز روز کے پر تشدت ہونے والے واقعات سے بہتر ھے کہ ایک ہزار پولیس اہلکاروں سمیت پولیس وین بھیج کر پورے کراچی سے رپورٹرز، اینکرز، ایڈیٹرز، نیوز پروڈیوسرز، ڈائریکٹر نیوز اور صحافی حضرات کیساتھ ساتھ صحافی تنظیموں کے عہدیداران و کارکنان کو پکڑ پکڑ کر دل بھر کے تشدد کا نشانہ بنادیں تاکہ تھانوں میں متعین ایس ایچ اوز اور ایلکاروں کے دل کو سکون مل جائے اور حق و سچ کی ترجمانی کرنے والے رپورٹرز و صحافی اپنے منصب کی ادائیگی کرنے سے باز آجائیں تاکہ محکمہ پولیس جمہوری حکومت میں جمہوریت کا جنازہ نکال سکے۔ گزشتہ روز تین تلوار پر ایک بار پھر ذہنی بیمار ایس ایچ او کی سرپرستی میں اہلکاروں کا رپورٹرز پر حملہ محکمہ پولیس کی کارکردگی اور ذہنی بیماری کو ظاہر کرتا ھے، نااہل، کرپٹ اور ذہنی بیمار کو پولیس محکمہ میں تعینات خود محکمہ کی بربادی اور تباہی کا سب سے بڑا سبب ھے۔ ان تمام نااہل، کرپٹ اور ذہنی بیمار تھانے کے ایس ایچ اوز اور اہلکاروں کو نوکری سے فوری برخاست کریں یا تو پھر تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت اہلکاروں کا ذہنی علاج کرائیں، انکی اخلاقی و دینی تربیت کا اہتمام کریں، انہیں انسان اور انسانیت کا احساس و شرم دلائیں، تھانوں سے سب سے پہلے شراب نوشی و دیگر نشہ نوشی کو مکمل خاتمہ کیلئے آئینی شق اور آرٹیکل کیساتھ احکامات جاری کریں اگر آپ آئی جی اور کراچی چیف پولیس واقعی سنجیدہ اور مخلص ہیں تو اپنے محکمہ جاتی نظام کی خرابی کو سب سے پہلے درست کریں کیونکہ آپکا محکمہ براہ راست عوام اور ریاست سے جڑا ھوتا ھے جس طرح کا برتاؤ پولیس کی جانب سے برآمد ھوگا اسی طرح کا معاشرہ پنپے گا۔ صوبہ سندھ اور کراچی کیلئے

کراچی پولیس کی اصلاحات ناگزیر ھوچکی ھے۔۔۔!!

Exit mobile version