BBC Urdu TV

سوہاوہ ہر ماہ لاکھوں کا بجٹ وپڈا تنصیبات کی مینٹیننس پر خرچ ہوتا ہے

سوہاوہ ہر ماہ لاکھوں کا بجٹ وپڈا تنصیبات کی مینٹیننس پر خرچ ہوتا ہے

جو کسی کو نظر بھی نہیں اتا ۔ پورا سال مینٹیننس کے نام پر کئی کئی گھنٹے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ مینٹیننس ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی ۔اس مینٹث بارے واپڈا کا موقف یہ ہوتا ہے کہ بجلی کی تنصیبات کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جبکہ نہ تو پرانی تنصیبات تبدیل ہوئی نظر اتی ہیں اور نہ ہی کوئی نئے ٹرانسفارمر لگے نظر اتے ہیں ۔شہر بھر کی گلیوں میں واپڈا کی درجنوں خطرناک تاریں ایک دوسرے کی ساتھ الجھتے ہوئے واپڈا کی نا اہلی کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں ان تاروں سے کئی حادثات جنم لے چکے ہیں مگر اس کی طرف کوئی توجہجہ نہیں دی جاتی
وولٹیج کا دیرینہ مسئلہ جو کیی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے اس کے نام پر بھی کروڑوں روپے لگائے جو نہ تو اینٹی کرپشن کو نظر آئے اور نہ نیب کے ریڈار پر نظر آئے ۔ گرمیاں شروع ہوتے ہی وولٹیج کا اژدھا پھن پھیلائے ہر سال نمودار ہو جاتا ہے جسے قابو کرنے کے دعوی تو کیے جاتے ہیں مگر اسے جان بوجھ کر قابو نہیں کیا جاتا کیونکہ اگر یہ مسئلہ حل کر دیا جاتا ہے تو پھر سوہاوہ گوجرخان واپڈا کے افسران کے منہ کو لگی کرپشن کا بڑا حصہ ختم ہو سکتا ہے ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ واپڈا کے پاس ٹیکنیکل سیٹوں پر نا اہل ترین بندے بٹھائے گئے ہیں کو سفارش اور پیسے کے زور پر وپڈا میں آ گئے اور ظاہر ہے جب پیسہ دے کر نوکری حاصل کی تو اس کے اخراجات تو پورے کرنے ہیں اسی سیٹ پر ہی بیٹھ کر ۔ ٹینکل سٹاف کی بات کی جائے تو جو گنے چنے تکنیکی مہارت رکھنے والے اہلکار ہیں ان کے پاس نہ تو کوئی نیا سامان پہنچ پاتا ہے اور نہ ہی نئی تاریں ملتی ہیں ۔انہیں کہا جاتا ہے کہ پرانی تاروں کو ہی مرمت کر دیں اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا رہیں ۔ہر سال مینٹیننس کے لیے ملنے والا سامان متعلقہ ڈیپارٹمنٹ تک پہن ہی نہیں پاتا اور حکم ہوتا ہے کہ پرانے سامان سے ہی گزارا کریں ۔

عام تاثر یہ ہے کہ پولیس اور محکمہ مال سب سے کرپٹ ادارے ہیں مگر واپڈا کی ٹیکنیکل کرپشن کے حقائق سامنے آئیں تو عوام پولیس اور محکمہ مال کو پارسا گردانیں گے

شہری اگر دوسرے ماہ بل نہ جمع کرائے تو واپڈا اہلکار اس کا میٹر اتارنے پہنچ جاتے ہیں وہ میٹر جس کی اس نے قیمت ادا کی ہوئی ہے ، اگر آہ نے ٹرانسفارمر لگوانا پے تو اس کے پیسے بھی شہری ہی ادا کرتا ہے ۔اگر آپ کے گھر کے پاس سے بجلی کی خطرناک تنصیبات گزر رہی ہیں اور اپ ان کو ہٹانا چاہتے ہیں تو اس کا بھی خرچہ آپ نے جیب سے ادا کرنا ہے اگر ٹرانسفارمر جل جاتا ہے جس کی قینت اپ نے ادا کی ہے تو اس کی مرمت کا خرچہ بھی آپ کو ہی ادا کرنا ہو گا واپڈا کا کام صرف آپ کو کم وولٹج بجلی اور ہر ماہ باقاعدگی سے اس کا بل بھیجنا ہے جبکہ اوپر زکر کی گئی تنصیبات اور کاموں کا فنڈ واپڈا کے پاس موجود ہوتا ہے اور یہ سب کام کرنا واپڈا کی ذمہ داری ہوتی ہے جو سیدھا افسران کی جیبوں میں جاتا ہے

ایک میٹر لگوانے سے ٹرانسفارمر لگوانے تک کا طویل سفر اگر اپ نے جلدی طے کرنا ہے تو اپ کو نوٹوں کے پہیے لگانے پڑتے ہیں تب اپ کا مہینوں پر محیظ سفر چند دنوں میں طے ہو جاتا ہے
سوہاوہ و گردونواح میں لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا کیونکہ واپڈا کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ یہاں کے شہری اپنا حق مانگنے کے لیے کبھی بھی واپڈا افسران کے سامنے نہیں جائیں گے ۔ دو سال قبل تک ہر ماہ تواتر سے واپڈا کی کھلی کچہریوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں صرف وہی لوگ مدعوکیے جاتے تھے جو ٹاوٹ اور واپڈا کے گن گاتے تھے اصل متاثرین کو ان کھلی کچہریوں کی خبر تک نہیں ہوتی تھی اور جو کوئی پہنچ جاتا تھا ذسے بولنے ہی نہیں دیا جاتا تھا اور اگر کوئی بول بھی پرتا تو اسے گول مول کواب دے کر تسلی دے دی جاتی تھی اور سب اچھا ہے کی رپورٹ اوپر پہنچ جاتی تھی

سوہاوہ کے لیے گرڈ سٹیشن کا کام جاری ہے مگر اس میں بھی بڑے پیمانے پر ٹیکنیکل کرپشن کی جا رہی ہے جس کی ہوا چھوٹے افسران تک کو نہیں لگنے دی جا رہی

اس کرپشن پر سوہاوہ میڈیا کام کر رہا ہے اور بہت جلد ہوش ربا انکشافات سامنے ائیں گے

تحریر ۔یاسر

Exit mobile version