سوھاوہ : پھلڑے سیداں (ضلع جہلم ) :کم عمری شادیوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار کے تربیتی اجلاس میں شرکاء نے اس بات کا متفقہ اعادہ کیا کہ وہ کم عمری شادیوں کی روک تھام میں اپنا کردار موثر انداز میں سر انجام دیں گے
مورخہ 22 مئی 2023 بروز سوموار کو ادارہ PODA پاکستان کے زیر اہتمام یونین کونسل پھلڑے سیداں ضلع جہلم کے آفس میں نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار کے کردار اور ذمہ داریوں پر مبنی ایک ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا جس میں یونین کونسل پھلڑے سیداں کے تمام گائوں سے نکاح خواں نکاح رجسٹرار کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی
خواجہ زاہد نسیم ایڈوکیٹ نے کہا کہ
معاشرے میں کم عمری شادیوں کی روک تھام کے لیے نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار کا کردار انتہائی اہم ہے
دوران تربیت شرکاء کو پنجاب میں کم عمری شادیوں کی روک تھام کے قانون 2015میں درج قانون کی خلاف ورزی کی سزائو ں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ 16سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ کئی معاشی سماجی مسائل کو جہنم دیتی ہیں اور اس سے ان کی تولیدی صحت پر منفی اثرات ہوتے ہیں
نبیلہ اسلم نمائندہ PODA پاکستان نے کہا کہ شادی عاقل اور بالغ فریقین کے درمیان ایک معاشرتی اور معاشی معاہدہ ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ لڑکیوں کی کم از کم عمر 18 سال ہو اس کے ساتھ ہمارے ملکی قوانین بھی زور دیتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر فرد بچی یا بچہ کہلا سکتے ہیں 18سال سے کم بچہ، بچی جب ووٹ نہیں ڈال سکتے قانون کے تحت گاڑی نہیں چلا سکتے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک کمزور فریق ایک کنبے کی ذمہ داریاں سنبھالیں
نمائندہ پودا سہیل یوسف نے کہا کہ پاکستان میں دیگر دو صوبوں سندھ اور بلوچستان کی طرح پنجاب میں بھی لڑکی کی کم سے کم عمر 18سال تک مقرر کی جائے جو کہ شناختی کارڈ سے مشروط ہو۔
اس موقع پر عظمت سلطانہ لیڈی ہیلتھ ورکر نے اپنی کہانی بتائی کہ میری 13 سال کی عمر میں شادی ہوئی جس سے مجھے اپنی زندگی میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہمارا دور اور تھا ہم نے اپنی زندگی گزار لی لیکن میرا پیغام یہ ہے کہ آج کے دور میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کرنا کسی صورت بھی درست نہیں اس کا فائدہ کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔
اجلاس کے شرکاء کا یہ ماننا تھا کہ پنجاب میں موجودہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2015کے نفاذ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کے بھی خواہاں ہیں کہ لڑکیوں کی شادی شناختی کارڈ سے مشروط ہو تا کہ بچیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ہر ممکنہ خاتمہ ہو
اجلاس کے اختتام میں تمام شرکاء کو تربیتی مواد برائے نکاح رجسٹریشن فراہم کیا گیا تا کہ نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار نکاح فارم بھرتے وقت اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی احسن طریقے سے ادا کر سکیں۔
