BBC Urdu TV

اقلیتی کمیونٹیز کو قانونی حقوق سے آگاہی، سندھ میں نمایاں پیشرفت

مثل مشہور ہے کہ لاعلمی متعدد مسائل کو جنم دیتی ہے، پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنتی، اور بنتے کام بگاڑ دیتی ہے، اور پھر ایسے مسائل ذہنی، جسمانی، معاشی اور سماجی تنزلی کا باعث بھی بن جاتے ہیں، ہمارے معاشرتی نظام میں جہاں اور بہت سے مسائل بدرجہ اتم موجود ہیں وہیں سب سے اہم مسئلہ لوگوں کو اپنے قا نونی حقوق سے آگاہی کا نہ ہونا بھی ہے، بدقسمتی سے اکثریت تو حقوق سے لاعلم ہے ہی، اقلیتوں کو بھی آگاہی کے فقدا ن کا سامنا ہے، اقلیتی کمیونٹیز کو قانونی حقوق سے روشناسی کے ضمن میں پچھلے دنوں ایک ” اویرنس کلینک ” میں جانے کا اتفاق ہوا، عام طور پر کلینک کا ذکر آتے ہی صحت سے متعلق کسی جگہ کا خیال ذہن میں آتا ہے لیکن یہ کلینک قانونی حقوق سے آگاہی، رہنمائی اور معاونت کے سلسلے میں منعقد ہوا تھا، مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ایک بڑی تعدادوہاں موجودتھی، قانونی مشاورت اور معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے جانی پہچانی جانے والی لیگل ایڈ سوسائٹی کی جانب سے مزکورہ ا و یرنس کلینک کا انعقاد کیا گیا تھا۔

اکتوبر 2020 میں سندھ کے آٹھ اضلاع بشمول کراچی، حیدرآباد، سانگھڑ، شہید بینظیرآباد، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ اور دادو میں Religious Minority Awareness Program کا آغاز لیگل ایڈ سوسائٹی کی جانب سے ٹیمز تشکیل دے کر کیا گیا، سب سے پہلے میپنگ (Maping) کی بابت اآٹھ اضلاع میں اقلیتی کمیونٹیز اور اُن کے رہائشی علاقوں کی نشاندہی عمل میں لائی گئی، پھر نیڈ بیسڈ اسسمنٹ کے نام سے ہونے والے سروے میں اقلیتی عوام الناس کے حالاتِ زندگی کو (قانونی حقوق سے آگاہی کے ضمن میں) جانچا گیا تھا، پاکستان ہندو کاؤنسل، چرچ آف پاکستان، سکھ اور پارسی کمیونٹیز کے عہدیداران، ممبر نینشل اور صوبائی اسمبلی سے متعلقہ شخصیات کو بھی آن بورڈ لیا گیا تھا، تیسرا مرحلہ متعین شدہ علاقوں میں فوکل پرسن کا چناؤ تھا، ایسے افراد کا انتخاب عمل میں لایا گیا کہ جن کا مثبت اثرو رسوخ علاقوں میں قائم تھا، اقلیتی کمیونٹیز کی ذہن سازی اور اُنہیں موبلائز کرنے میں فوکل پرسن کا اہم کردار تھا، ان تمام اُمور کی انجام دہی کے بعد Awareness Clinic کہلائے جانے والے Sessions کا باقاعدہ آغاز ہو، اُس دن کورنگی کے علاقے کرسچن ٹاؤن میں ہونے والا پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔

لیگل ایڈ سوسائٹی کی جانب سے اکبر حسین درویشی نے ’’ آپ کی شناخت آپکا حق ہے‘‘ کے موضوع پر خواتین سے بات کرتے ہوئے کلینک کا آغاز کیا، خواتین سے شناختی دستاویزات کی اہمیت، افادیت اور حصول کے ضمن میں حائل دشواریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، انہیں لیگل ایڈ سوسائٹی کے مفت مشاورتی کال سینٹر(ٹول فری نمبر 70806-0800) کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی۔

پھر خواتین کو گروپس میں تقسیم کرکے، ایک دائرے کی شکل میں بٹھا کر، کاغذی شیٹ اور قلم دے کر اُن سے ایک مختصر سی ایکٹیوٹی کروائی گئی، عورتوں نے باہمی گُفت وشنید کے عمل کو اپناتے ہوئے موضوع سے متعلق اپنے خیالات کے اظہار کو خوبصورتی سے قلمبند کیا اور پھر یوں انٹرایکٹیو سیشن مزید آگے بڑھتا چلا گیا۔ موقع پر موجود پروگرام آفیسر محبوب علی سے بات کرنے کا موقع ملا تو باور ہوا کہ ’’ آپکی شناخت آپکا حق ہے‘‘ اُن پانچ موضوعات میں سے ایک ہے کہ جن پر ان سیشنز میں بات کی جاتی ہے، یہ سیشنز سندھ کے مزکورہ بالا اضلاع میں تواتر سے انجام پا رہے ہیں کراچی میں ابتک 57 سیشنز ہو چُکے ہیں، کتابچے کی صورت میں موجود IEC مٹیریل میں موضوعات سے متعلق تمام تر تفصیلات عام فہم انداز میں درج ہیں، ان تفصیلات کو نہ صرف عملی طور پر سمجھایا جاتا ہے بلکہ کلینک میں آنے والے لوگوں میں یہ تقسیم بھی کیے جاتے ہیں تاکہ دیرپا رہنمائی میں معاون ثابت ہوں۔

محبوب علی نے وہاں موجود خواتین میں IEC مٹیریل تقسیم کیا، اقلیتوں کو حاصل قانونی حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے سمجھایا کہ وہ اپنے مسائل کا قانونی حل کیسے تلاش کر سکتے ہیں، اُنکی زندگیوں میں آگاہی کے فقدان سے رونما ہونے والے مسائل کا سدِباب کیسے ممکن ہے۔

ایڈوکیٹ زاہد حسین لیگل ایڈ سوسائٹی کے اقلیتی پروگرام میں کمیونٹی لائر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، کرسچن ٹاؤن کے چرچ میں ایڈوکیٹ زاہد کی موجودگی اویرنس کلینک کی افادیت کو تکنیکی بنیادوں پر بھی موثر بنا رہی تھی، ایڈوکیٹ زاہد کو خواتین سے بات کرتے، اُنکے مسائل کو ایک ڈائری میں درج کرتے دیکھا۔

محبوب علی نے وہاں موجود خواتین میں IEC مٹیریل تقسیم کیا، اقلیتوں کو حاصل قانونی حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے سمجھایا کہ وہ اپنے مسائل کا قانونی حل کیسے تلاش کر سکتے ہیں، اُنکی زندگیوں میں آگاہی کے فقدان سے رونما ہونے والے مسائل کا سدِباب کیسے ممکن ہے۔

ایڈوکیٹ زاہد حسین لیگل ایڈ سوسائٹی کے اقلیتی پروگرام میں کمیونٹی لائر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، کرسچن ٹاؤن کے چرچ میں ایڈوکیٹ زاہد کی موجودگی اویرنس کلینک کی افادیت کو تکنیکی بنیادوں پر بھی موثر بنا رہی تھی، ایڈوکیٹ زاہد کو خواتین سے بات کرتے، اُنکے مسائل کو ایک ڈائری میں درج کرتے دیکھا۔

تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ان سیشنز میں جو حل طلب مسائل سامنے آتے ہیں انہیں متعلقہ اداروں تک مروجہ طریقہ کار کے تحت بہ احسن و خوبی پہنچا دیا جاتا ہے، فالو اپ مکینزم کے ذریعے دونوں اطراف یعنی مسائل پیش کرنے والے لوگ، اور اُن مسائل کا حل فراہم کرتے اداروں سے رابطے میں رہا جاتا ہے، نیز قانونی مقدمات کی صورت میں بھی اقلیتی کمیونٹیز کو اوّل تا آخر معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

پھر پروگرام کے اختتام پر فوکل پرسن سیریفین نوبی سے سامنا ہوا، سیریفین کا شمار علاقے کی معزز شخصیات میں ہوتا ہے، خواتین کواویرنس کلینکس کے حوالے سے موبلائز کرنے میں انہوں نے کافی محنت کی تھی، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نوبی کا کہنا تھا کہ ان سیشنز کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ عورتوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو چکی ہیں، اب وہ پہلے کی نسبت زیادہ خوداعتماد نظر آتی ہیں، بات چیت کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں مثبت سوچ اور طرزِعمل کو اپناتے ہوئے ہر آنے والے دن کو اپنے لیے آسان بنا رہی ہیں، خواتین اپنے مسائل کو بہتر انداز میں بیان کرنا جان چکی ہیں، سیریفین نے لیگل ایڈ سوسائٹی کے کردار کو سراہا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، پھر پروگرام کا باقاعدہ اختتام ہوا، ہال نما کمرے سے یکے بعد دیگرے جانے والی خواتین کے چہروں پر آئی مسکرا ہٹ بتا رہی تھی کہ وہ مطمئن ہیں، انکے حوصلے بلند اور ارادے پختہ ہیں، وہ آنے والے اچھے وقتوں کے لیے پُراُمید بھی ہیں اور پُرعزم بھی۔

سندھ
اقلیتی کمیونٹیز
قانونی حقوق

Exit mobile version