BBC Urdu TV

سندھ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر- ایک انقلابی قدم

*سندھ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر- ایک انقلابی قدم*

تحریر: محمد موسیٰ گوندل/ ڈائریکٹر انفارمیشن.
سال 2022 میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث سندھ صوبہ شدید متاثر ہوا جس کی وجہ سے لاکھوں گھروں کو نقصان پہنچا اور کروڑوں افراد بے گھر ہوگئے۔ اس پسِ منظر میں صوبائی حکومت نے بڑے پیمانے پر امدادی اقدامات کا آغاز کیا، جس کے تحت کا شتکاروں کو کھاد بیج کی رقم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) نامی خصوصی ادارے کے ذریعے متاثرین کو مستقل رہائش فراہم کرنے کا منصوبہ شروع ہوا۔ یہ اسکیم دنیا کی سب سے بڑی ہاؤسنگ اسکیموں میں سے ایک تصور کی جاتی ہے، جس کا مقصد صوبے میں 21 لاکھ گھروں کی تعمیر تھا، اس منصوبے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں سے تقریباً 2 ارب ڈالرز کے فنڈز جمع کیے گئے، جس میں ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور صوبائی حکومت نے حصہ لیا۔جون 2024 تک 2.1 ملین گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا، جن میں سے تقریباً 525,000 زیرِ تعمیر تھے اور 100,000 مکمل ہوچکے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے اس منصوبے میں خواتین، معذور افراد اور کمزور طبقوں کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا جس سے تقریباً 800,000 خواتین کو فائدہ پہنچایا گیا، جن میں کئی خواتین سرپرستِ خانوادہ بھی شامل تھیں، جنہیں زمین و مکان کے قانونی کاغذات جاری کیے گئے۔ جبکہ معذور افراد میں سے 111,666 کو مستحق قرار دیا گیا۔ اس حکومتی اسکیم میں رہائشیوں کو پانی،صفائی کے انتظامات اور خوراک کی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ تقریباً 264,250 گھروں کو حفظانِ صحت سے منسلک کیا گیا ہے۔ ملکی معیشت میں استحکام لانے کے لیے گھریلو توانائی کے نظرئیے سے 200,000 گھروں میں سولر پینلز نصب کرنے کا منصوبہ شامل ہے، اور مختلف آڈٹ فرموں کو منصوبے کی شفافیت کے لیے تسلیم شدہ آڈٹز کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے خود کئی علاقوں میں جا کر گھروں کے کاغذات تقسیم کیے اور اس دوران متاثرین کے گھروں کے اندر جا کر ان کی حالت دیکھی۔

سندھ حکومت کا یہ ہائوسنگ پروگرام ایک نہایت وسیع اور اہم اقدام ہے، جس نے لاکھوں سیلاب متاثرہ خاندانوں کو مستقل رہائش، زمین کے قانونی حقوق اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ اس بڑے منصوبے نے نہ صرف رہائش بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کے نئے نظام کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری کے آبائی ضلع شہید بینظیرآباد میں بھی خاتون اول اور ایم این اے آصفہ بھٹو زرداری اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ کے لطیف ہال میں ضلع شہید بینظیرآباد سے تعلق رکھنے والی سیلاب متاثرین خواتین میں گھروں کی تعمیر کے بعد ان میں مالکانہ حقوق کی سنعد تقسیم کی ہیں اس موقع پر تقریب سے اپنے خطاب میں خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریب اور لاچار عوام کو ترجیح دی ہے اور یہ سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر اور خواتین کو مالکانہ حقوق فراہم کرنا اس بات کی ایک کڑی ہے اس موقع پر بتایا گیا کہ ضلع شہید بینظیرآباد میں تقریباً ایک لاکھ 11 ہزار خاندانوں کو گھروں کی دوبارہ تعمیر کے لیے منصوبہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سیلاب متاثرین خواتین کی جانب سے گھروں کی تعمیر اور مالکانہ حقوق ملنے پر خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری،۔پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کا شکریہ ادا کیا گیا۔

Exit mobile version