*سعودی عرب نے اپنا اسلامی قدیمی طرز اتار کر لبرل سیکولر بننے کی طرف تیزی سے گامزن ہوگیا*
*خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں روبوٹ سے آذان، تلاوت قرآن، دعائیں اور فتویٰ شروع کردیئے گئے*
*بیت اللہ کے مشہور خطیب و امام شیخ عبد الرحمن السدیس نے اپنے ہاتھوں سے روبوٹ کا افتتاح کیا*
*تمام اموت سعودی عرب کے ویژن 2030 کے سلسلے کی کڑی ہیں*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب سمیت مدینہ و مدینہ میں جدید طرز کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے نئے انداز کیساتھ نئے دور میں شمولیت اختیار کرلی ھے جسے ویژن دو ہزار تیس کا نام دیا گیا ھے۔ اسکے تحت خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں روبوٹ سے آذان، تلاوت قرآن، دعائیں اور فتویٰ وغیرہ شروع کردیئے گئے ہیں. بیت اللہ کے مشہور خطیب و امام شیخ عبد الرحمن السدیس نے اپنے ہاتھوں سے روبوٹ کا افتتاح کیا. اس روبوٹ میں کیو آر کوڈ موجود بھی ہے، ٹچ اسکرین سے صارفین کمانڈز دے سکتے ہیں اور انہیں سوال پوچھنے ہیں تو یہی روبوٹ جواب میں فتویٰ دیگا، آذان مؤذن اور نماز کے اوقات کی ہفتہ وار معلومات بھی دیگا. اس جمعہ کی امامت کونسا امام کریگا نام بتائے گا. شیخ السدیس نے اپنے خطاب میں بتایا کہ یہ سعودی عرب کے ویژن دو ہزار تیس کے سلسلے کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے. خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں دو مزید روبوٹس متعارف کروائے گئے ہیں جو سینیٹائیزر چھڑکیں گے اور فرش صاف کریں گے۔
