BBC Urdu TV

سردی کی شدت میں اضافہ، ماجد اور ایاز نے کانپتے ہاتھوں کو تھام لیا، شہید بینظیر آباد میں گرم کمبلوں کی تقسیم

نواب شاہ (اسٹاف رپورٹر) سردی کی شدت میں روز، بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے تمام کام ختم کر کے سَرے شام ہی گھروں کو واپس لوٹ آئیں، اور پھر وقفے، وقفے سے گرما گرم چائے، کافی، قہوہ، مونگ پھلی وغیرہ سے لُطف اندوز ہوتے ہوئے خود کو ٹھنڈک سے محفوظ ر کھنے کی کوشش بھی کی جاتی رہے ۔ ۔ ۔ لیکن اُن لوگوں کا کیا، جن کے سر پر نہ چھت ہے نہ کھانے کو روٹی، نہ اوڑھنے کو لحاف، کمبل اور نہ ہی پینے کو چائے، کافی!! ایسے لوگ یخ بستہ ہواؤں کا سامنا کرتے ہوئے، کُھلے آسماں تلِے راتیں بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، خالی پیٹ نیند نہیں آتی اس لیے بس ایک دوسرے سے باتیں کرکے رات بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ باتیں محض باتیں نہیں ہوتیں، اُن باتوں میں ایک دوسرے کے لیے حوصلہ ہوتا ہے، ہمت افزائی ہوتی ہے، ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ سردی کی شدت کو کم کرنے کے لیے بہت پُر امید ہوتے ہیں، اور پھر جب اُن ہاتھوں کو "دوسرے ہاتھ” بھی تھام لیتے ہیں توٹھنڈک کا اثریکسر ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔ ایڈوکیٹ ماجد آرائیں اور ایاز حسین نے بھی ہاتھوں کو تھام رکھا ہے۔ ۔ ۔ شہید بینظیر آباد کے سیلاب متاثرہ خاندانوں کے ہاتھوں کو!! اُن لوگوں کے ہاتھوں کو، جن کے کانپتے جسموں کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار، اور ہر دل غمزدہ ہے۔

لیگل ایڈ سوسائٹی کی ٹیمیں کانپتے جسموں کی اذیت سے بخوبی واقف ہیں،اُس تکلیف کو سمجھتی ہیں جسکا سامنا سیلاب متاثرین سرد ترین موسم میں کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آرگنائزیشن کی جانب سے خشک راشن کی فراہمی کے بعد اب سیلاب متاثرین میں گرم کمبل بھی تقسیم کیے جارہے ہیں، سندھ کے سات اضلاع جن میں حیدرآباد، سانگھڑ، دادو، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، خیرپور اور سکھر شامل ہیں، میں بلینکٹس کی تقسیم کا عمل پورے جوش اور جذبے سے جاری ہے۔

آج، بیس جنوری،بروز جمعہ، ایڈوکیٹ ماجد اور ایاز نے بینظیر آباد میں 83بلینکٹس تقسیم کیے جبکہ حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، سندھ کے ساتوں اضلاع میں مجموعی طور پر اب تک 3500کمبل تقسیم کیے جا چُکے ہیں۔

Exit mobile version