زینب غفار کی سی ائی اے پولیس کے خلاف پریس کانفرنس۔
عورت کی عزت پامال ہو رہی ہیں کسی کو کوئی خیال نہیں ہے۔پریس کانفرنس کے موقع پر گفتگو
بہاولپور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق زینب غفار نے کہا کہ مشہور زمانہ اسلامیہ یونیورسٹی سکینڈل کیسے بنا میجر اعجاز کو کیسے ٹریپ کیاگیا سی آئی اے سٹاف کے ڈی ایس پی جمشید سابق ڈی پی او عباس شاہ نے کس ٹارچر سیل میں رکھا کون سے پولیس افسر نے جنسی طور پر ہراساں کیا۔اب کونسے لوگ اس ھونے والی پریس کانفرنس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ۔زینب غفار نے کہا کہ ہماری زندگیاں اتنی سستی ہیں ہماری عزتیں اتنی سستی ہیں پہلے سی ائی اے سٹاف کھیلتا رہا اب میڈیا کھیل رہا ہے اس پہ لوگ اپنی اپنی سیاست چمکا رہے ہیں اپنے ذاتی مفاد حاصل کر رہے ہیں حقوق العباد کی جہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی گئی عورت کی عزت پامال ہوتی رہیں کسی کو کوئی خیال نہیں ہے خیال ہے تو صرف اپنے ذاتی مفاد کا انہوں نے کہا کہ اخر اس قوم کی بیٹیوں کو کون انصاف دے گا۔پہلے فرمائشی گرفتاریاں کی جاتی ہیں پھر اپنی فرمائش کے بندوں کو ٹریپ کروایا جاتا ہے پھر اپنی ہی فرمائش کے فائدے ان سے اٹھائے جاتے ہیں پھر لڑکیوں کو بیوقوف بنا کے ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے مجھے سمجھ نہیں اتی یہ پولیس تھی یا ریاستی غنڈے یا پھر یہ کیا چاہ رہے تھے کیوں بہاولپور کو یا اسلامی یونیورسٹی کو تباہ کرنا چاہتے تھے میں پورے سی ائی اے سٹاف کو الزام نہیں دوں گی سی ائی اے ڈیپارٹمنٹ کو الزام نہیں دوں گی پورا ادارہ خراب نہیں ہوتا صرف جو اس میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں میں ان کو منظر عام پہ لانا چاہتی ہوں اور جو لوگ اس سکینڈل پہ اپنا بینیفٹ کیش کر رہے ہیں میں ان میں سے کسی ایک چیز کو اون نہیں کرتی یہ ان کا اپنا ذاتی مفاد ہے اور جو لوگ پرنٹ میڈیا پر اپنی مرضی کی بات بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں میں کسی بات کو تسلیم نہیں کرتی حقیقت صرف اتنی ہے جو میں نے پریس کانفرنس میں کہی ۔
