"زندگی موت کی امانت ھے”
تحریر- امبرین بلوچ
اگر آپ تنہاہی میں بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کیا ہیں تو آپ کو اپنے ہی اندر سے آواز آئیگی کہ کچھ بھی نہیں دنیا میں سکندراعظم جیسے لوگوں نے جنم لیا اور پھر اپنی زندگی کا ٹائم ختم ہونے پر اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے یہ تو ہم سب کا یقین کامل ہے کہ جو آیا وہ ایک دن جائیگا ہر چرند۔پرند نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ہر جاندار خواہ وہ انسان ہو یا جانور صبح اپنی روٹی روزی کی تلاش میں نکلتا ہے اور رات کو اپنے آشیانہ کی طرف لوٹ جاتا ہے اس دوران اگر اس نے اچھا کیا تو وہ بھی اپنے لیئے اور اگر برا کیا تو وہ بھی اپنے لیئے اگر کسی کے ساتھ نیکی کی تو اس کا اجر اس دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی دنیا میں اس کو عزت کی نگاہوں سے دیکھا جائیگا اور آخرت میں اعلی مقام حاصل ہوگا اور اگر غلط کیا تو اس دنیا میں بھی رسوائی اس کا مقدر بنے گی اور آخرت میں سزا اس کی منتظر ہے لہذا نیک کام کریں ہر ممکن کوشش کریں کے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو آپ کی گفتگو ایسی ہونی چاہیۓ کے الفاظ سے مہک آئے جیسے گلاب کے پھولوں سے آتی ہے وہ کہتے ہیں کہ دو طرح کے انسان کبھی نہیں بھولتے جو بہت اچھے ہو یا بہت برے ہو اگر آپ مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو سوچ لیں کہ لوگ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں یا برے الفاظ میں فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
