جہلم: ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122جہلم انجینئر سعید احمد نے کہا
کہ ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیموں نے چاروں ڈوبنے والے افراد کی لاشوں کو چار دن کے مسلسل سرچ آپریشن کے بعد دریا سے نکال کر لواحقین کے حوالے کر دیا ھے۔ ڈیڈ باڈیز کو ڈھونڈنے کے لیے ریسکیو 1122 جہلم کے غوطہ خوروں نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔سرچ آپریشن کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ڈوبنے والی جگہ سے 12 کلو میٹر تک کے علاقے کو سرچ کیا گیا۔ڈوبنے والے افراد کی شناخت محمد رضوان(عمر 28 سال)،محمد بلال (عمر 24 سال)،اسد (عمر 29 سال ) اور زاہد(عمر 24 سال)سے ہوئی۔ جبکہ ان میں سے 03 افراد کا تعلق جہلم کے نواحی علاقے چکجمال اور 01 کا جکر سے ہے۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے مزید کہا کہ دریائے جہلم میں نہانے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ دریا میں پانی کی سطح یکساں نہیں ہے جسکی وجہ سے لوگوں کے ڈوبنے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ھے اور اس سے قیمتی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ ڈوبنے کی ایمرجنسیز میں اضافہ اور قیمتی انسانوں جانوں کا ضیاع تشویشناک ہے۔ریسکیو آپکی مدد کو موجود ہے مگر احتیاطی تدابیراجتماعی سماجی ذمہ داری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی دریا میں نہانے پر پابندی عائد ہے۔لیکن شہریوں کی جانب سے لاپرواہی کی وجہ سے لوگوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔لوگوں سے اپیل ہے کہ دریائے جہلم میں نہانے سے پرہیز کریں تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
رپورٹ:چوہدری عابد حسین بیورو چیف جہلم
