☜ کراچی یونیورسٹی شام کی طالبات لٹنے لگیں،
☜ روزانہ کی بنیاد پر کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی کے طلبہ و طالبات ڈاکو اور رہزن سرعام لوٹنے لگے،
☜ کراچی یونیورسٹی سے متصل تمام تھانوں نے تحفظ دینے سے انکار کردیا،
☜ کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ حالات سے غافل اور بے پروا
☜ کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی کے طلبہ و طالبات نے حکومت سندھ اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ڈاکوؤں رہزنوں کے حملوں سے مستقل بنیاد پر محفوظ بنایا جائے۔
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) گزشتہ روز بھی کراچی یونیورسٹی کے گولڈن جوبلی گیٹ پر چھ ڈاکو سرے عام بھاری اسلحہ کیساتھ شام کی طالبات کو لوٹنے کیلئے حمل آور ہوئے، چند ایک این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب بھاگ نکلیں اور کچھ بیگ چھوڑ کر دور بھاگیں اور کسی نے فوری رکشہ پکڑ کر راہ فرار اختیار کی۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ نے نئے روڈ کیلئے سڑک ادھیڑ کر رکھ دی ھے جس سے رہزنوں کیلئے مواقع وسیع ھوچکے ھیں۔ کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی کے احاطے میں کئی تھانوں کی حدود واقع ھوتی ہیں جب ان کے ایس ایچ اوز سے اس بابت رابطہ کیا تو انھوں نے نفری کمی کا رونا رویا اور تحفظ فراہم کرنے کا انکار کردیا۔ سوال تو یہ بھی پیدا ھوتا ھے کہ کراچی سب سے زیادہ ٹیکس و دیگر محصولات اسی لئے دیتا ھے کہ انہیں ڈاکوؤں رہزنوں کے ہاتھوں لٹنا پڑے اور انکی فائرنگ سے ہلاک ھوتے رہیں۔ اس بابت سیکیورٹی ادارے تسلیم کرلیں کہ وہ ناکام اور نااہل ہوچکے ہیں ریاست کو ایسے ادارے پالنے کی پھر کیا ضرورت ھے جو شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ھیں۔
