BBC Urdu TV

راولپنڈی : یسینئر سول جج راولپنڈی غلام اکبر نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے مقدمہ میں وفاقی

راولپنڈی : یسینئر سول جج راولپنڈی غلام اکبر نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے مقدمہ میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ کی گرفتاری کے لئے جاری وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کے لئے دائر درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی ہے اورفریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمہ کے تفتیشی کو 13اکتوبر کو طلب کر لیا ہے منگل کے روزرانا ثنا ء اللہ کی قانونی ٹیم میں شامل وکلا نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو مذکورہ مقدمہ میں بے گناہ ملوث کیا گیا ہے جس رپورٹ کی بنیاد پرعدالت میں وارنٹ جاری کئے وہ رپورٹ درست نہ ہے اس طرح غلط بیانی کر کے عدالت سے وارنٹ حاصل کئے گئے درخواست گزار ملک کا وفاقی وزیر داخلہ ہے اور قطعی طور پر روپوش نہ ہے اور نہ عدالت سے غائب ہونا چاہتا ہے عدالت مقدمہ کے تفتیشی کو ہدائیت کرے کہ وہ اس حوالے سے شورٹی بانڈ لے سکتا ہے جبکہ درخواست گزار عدالت میں شورٹی بانڈ دینے کو بھی تیار ہے اور عدالت کے حکم پر عدالت میں بھی حاضر ہونے کو تیار ہے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مذکورہ مقدمہ میں جاری وارنٹ گرفتاری منسوخ کیا جائے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے رضوان نامی شخص کی مدعیت میں 3اکتوبر2019کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 420، 468، 467، 471 اور109کے علاوہ اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5/2/47کے تحت مقدمہ نمبر 20درج کیا تھاتحفظ ماحولیات ایجنسی (انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی)کے سابق و موجودہ ڈی جی کے علاوہ محکمہ ماحولیات چکوال، ضلع کونسل چکوال کے افسران اور کلر کہارکے سابق سب رجسٹرار، رجسٹری محرراور سوسائٹی مالکان سمیت 11سے زائدافراد کے خلاف درج مقدمہ کے متن کے مطابق کلر کہار کے نزدیک شالیمار ہلز فارم، فالکن ٹاؤن فارم ہاؤس اور بسم اللہ فارم ہاؤس کے نام پر زیر تعمیر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان نے محکمہ ماحولیات سے این او سی اور ضلع کونسل چکوال سے نقشہ منظور کروائے بغیرخوبصورت پہاڑوں کی کٹائی کر کے کام شروع کر دیاجس سے ماحول بہت آلودہ ہو رہا ہے جبکہ سوسائٹیوں کے مالکان نے محکمہ ماحولیات اور ضلع کونسل چکوال کے افسران سے ملی بھگت کر کے غیر قانونی طور پر کام شروع کر رکھا ہے اور سرکاری خزانے میں نقشہ کی مد میں فیس بھی جمع نہیں کروائی گئی 2رکنی انکوائری ٹیم نے تمام ریکارڈ طلب کر کے تحقیقات کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ سابق ڈی جی ای پی اے لاہور نے شالیمار ہل فارم کو قواعدو ضوابط کی خلاف کرتے ہوئے این او سی جاری کیا جس سے علاقے کے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچایا اسی طرح ڈی جی ای پی اے عرفان نذیر نے شالیمار ہل فارم کو قواعدو ضوابط کے برعکس جاری این او سی پر نہ تو سوسائٹی کے خلاف کوئی کاروائی کی اور نہ ہی این او سی منسوخ کیا،محکمہ ماحولیات چکوال کے سٹیٹ ڈائریکٹر فواد علی نے بطور فیلڈ افسر کبھی بھی شالیمار ہل فارم کے بے ضابطگیوں اور این او سی کی منسوخی سے متعلق اپنے متعلقہ اعلیٰ حکام کو آگاہ نہ کیا،ضلع کونسل چکوال کے ڈی او پلاننگ طارق عزیز،ایم او پی شہباز احمد اورانفورسمنٹ انسپکٹرشیر علی نے شالیمار ہلز فارم، فالکن ٹاؤن فارم ہاؤس اور بسم اللہ فارم ہاؤس کے ایل او پی نامنظور ہونے کے باوجود موقع پر ہونے والی تعمیرات اور سوسائٹیوں کی تشہیری مہم رکوانے کے لئے کوئی کاروائی نہ کی اسی طرح سابق سب رجسٹرار کلر کہار مقبول حسین نے بسم اللہ فارم ہاؤس کی رجسٹریاں منظور کیں،رجسٹری محرر کلر کہار نے سال2017میں بسم اللہ فارم ہاؤس کی ہونے والی رجسٹریوں کے متعلقہ کاغذات کی جانچ پڑتال نہ کی اور انہیں سب رجسٹرار سے منظور کروایا جبکہ اس وقت متعلقہ سوسائٹی کو این او سی بھی جاری نہ ہوا تھا،بسم اللہ فارم ہاؤس کے مالک اخلاق احمد،شالیمار ہلز فارم کے مالک نثار احمدفالکن ٹاؤن کلر کہار کے مالک سید ابراہیم جان نے پنجاب پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم لینڈ سب ڈویژن رولز2010کی دانستہ خلاف ورزی کی اور سوسائٹیوں کی تشہیر کرتے

رپورٹ : افتخار خٹک سے راولپنڈی

Exit mobile version