BBC Urdu TV

راولپنڈی ہولی فیملی ہوسپٹل . نومولود بچے کا اغوا راولپنڈی میں گورنمنٹ کا واحد ہاسپٹل ہے

راولپنڈی : ہولی فیملی ہوسپٹل . نومولود بچے کا اغوا راولپنڈی میں گورنمنٹ کا واحد ہاسپٹل ہے

جہاں گائنی ٹریٹمنٹ کے حوالے سے بڑے پیمانے پر
علاج بھی کیا جاتا ہے اور راولپنڈی کا سب سے بڑا گائنی وارڈ بھی تصور کیا جاتا ہے
اس کے باوجود وہاں پر سہولیات ناپید ہونے کے ساتھ ساتھ
گائنی ڈاکٹر سے لے کر نرسنگ سٹاف اور سکیورٹی گارڈ تک کا عملا
انتہائی بدتمیز ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی غیر ذمہ دار ہے
جس کے بارے میں کئی دفعہ ہاسپٹل کے انچارج ایم ایس کو شکایات بھی کی جاچکی ہیں
مگر چونکہ یہاں پر ہر چیز گورنمنٹ کے خزانے سے آتی ہے
اور گورنمنٹ نے ہر صورت ان کو سہولیات دینی ہیں
جس کی وجہ سے ان کی شکایات کے حوالے سے کہیں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی
گائنی ڈپارٹمنٹ کے اندر لیبر روم میں
لیبر روم کا ڈیپارٹمنٹ بچے کی پیدائش کے فورا بعد
فیملی سے مٹھائی کی فرمائش شروع کر دیتا ہے
مٹھائی بھی نند کیش کی صورت میں وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں
اگر نقد اور کیش نہ دی جائے تو سارا سٹاف انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے
جس کی زندہ مثال آج ہولی فیملی اسپتال سے
ایک نومولود بچے کو اغوا کر لیا گیا اور اس کے بدلے میں ایک گڑیا رکھ دی گئی
یہاں پر آپ کو سیکورٹی گارڈ سے لے کے لیبر روم تک
تمام اسٹاف کی غیر ذمہ داری کا حال تو معلوم ہوگیا
ایک ماں سے اس کا جگر جدا کر لیا گیا
ماں کس مشکلات سے اس کو نو ماہ میں اپنے پیٹ میں رکھا
اور جب ایک ماں کا خوشیاں دیکھنے کا وہ لمحہ آیا
جس کا انتظار ہر ماں کو ہوتا ہے تو ماں پر قیامت ٹوٹ پڑی
اس کے جگر کا ٹکڑا غائب تھا اور وہاں پر پلاسٹک کا ایک بہت دکھ دیا گیا تھا ماں کو مطمئن کرنے کے لئے
نومولود بچے کا اگوا ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہوا
جس میں ہاسپٹل کے اسٹاف کے ساتھ ساتھ لیبر روم کا سٹاف بھی ملوث ہے
اسپتال انتظامیہ کےساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کو ایسے گھناؤنے جرم میں جو بھی ملوث ہے
اس کو قانون کے شکنجے میں لانا ہوگا
اور سخت سے سخت سزا دینا ہوگی تاکہ دوبارہ کوئی بھی شخص ایسے گھناؤنے فعل کا مرتکب نہ ہو سکے
راولپنڈی کے اتنے بڑے ہوسپٹل کے اندر
چیک اینڈ بیلنس کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے
جہاں مریض پریشان حال ہیں اس کے علاوہ ان کی خوشیاں بھی چھینی جا رہی ہیں
گورنمنٹ ہسپتال کے اندر پرچی مافیا کے ہاتھوں
مریض اور ان کے لواحقین سے پریشان ہیں
آج تک ان کا بھی سدباب نہیں کیا گیا
حالانکہ گورنمنٹ ہسپتال کے اندر پرائیویٹ پرچی مافیا
عوام کو صرف لوٹنے میں مصروف ہے
ایک طرف گورنمنٹ آف پاکستان گورنمنٹ اسپتال میں عوام کو سہولیات
فراہم کرنے کا جو ناٹک کر رہی ہے وہ ایک طرف
پرچی مافیا اس ناٹک کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے
اس کے علاوہ ہاسپٹل کے اندر بنی ہوئی کینٹین کے
غیر معیاری کھانے جو کہ عام ہوٹل سے ریٹ
کئی گناہ زیادہ چارج کر رہے ہیں جن کا کسی بھی قسم کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے

رپورٹ:افتخار خٹک راولپنڈی

Exit mobile version