BBC Urdu TV

راولپنڈی : ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس مرزا وقاص رؤف

راولپنڈی : ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل 2رکنی بنچ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے

تھانہ سول لائن کے مشہور9سالہ زینب قتل کیس میں سزا یافتہ میاں بیوی سمیت تینوں ملزمان کو مقدمہ سے بری کر دیا ہے سیشن عدالت نے 26اکتوبر2021کو ٹرائل کے بعدبابر مسیح اور عدنان کو سزائے موت اور5،5لاکھ ہرجانہ کی ادائیگی کا حکم دیا تھا جبکہ بابر مسیح کی اہلیہ کویتا عرف انیقہ کودفعہ201کے تحت 7سال قید سخت اور1لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی ملزمان نے چوہدری یاسر محمود چٹھہ ایڈووکیٹ اور راجہ عمار عزیزایڈووکیٹ کے ذریعے سیشن عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا گزشتہ روزسماعت کے دوران ملزمان کے وکلانے حتمی دلائل میں موقف اختیار کیا کہ مدعی کے مطابق جب مقتولہ کے والدین اور اہل محلہ بابر مسیح کے گھر گئے تو لاش اندر پڑی تھی لیکن ملزمان انہیں دیکھ کر فرار ہو گئے حالانکہ اس گھر کے عقب میں کوئی راستہ نہ تھا اور داخلی دروازے پر اہل محلہ بڑی تعداد میں موجود تھے جس سے ملزمان کے بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ اتنی بڑی تعداد میں اہل علاقہ کی موجودگی کے باوجود کوئی بھی عینی شاہدف بطور گواہ پیش نہیں ہوا عدالت نے ملزمان کے وکلا کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر تینوں ملزمان کو بری کر دیا یاد رہے کہ تھانہ سول لائن پولیس نے22مارچ2021کو مقتولہ کے والد عمران کی مدعیت میں قتل اور زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ ملزمان نے9سالہ زینب کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیامقدمہ کے متن کے مطابق9سالہ زینب 22مارچ کی شام گلی سے اچانک غائب ہوگئی جس کو تلاش کرنے کے دوران محلے کے بچوں نے بتایا کہ زینب کی جوتی بابر مسیح کے گھر سے ملی ہے جب بچی کے والدین اور اہلیان علاقہ نے بابر مسیح کے گھر جا کر دیکھا تو زینب کی لاش چارپائی کے نیچے چھپا کر رکھی گئی تھی جو نیم برہنہ تھی اور اس کے چہرے اورجسم پر دانتوں کئے نشان تھے جس پرپولیس نے 26مارچ کو ملزمان کوباضابطہ گرفتارکیا تھا۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Exit mobile version