BBC Urdu TV

راولپنڈی : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شیزاد گھیبہ کا جوڈیشل کمپلیس میں خطاب

راولپنڈی : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شیزاد گھیبہ کا جوڈیشل کمپلیس میں خطاب

عام شکایت ہے جج صاحبان عدالتوں میں وقت پر نہیں بیٹھتے

ججز کی حاضری کے لئے پنجاب میں بائیو میٹرک سسٹم لائے ہیں

جو ججز وقت پر نہیں آئیں گے ان کے خلاف کاروائی ہو گی

راولپنڈی
چند کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتیں ہیں

کچھ جحز اپنے کام ریڈرز سے کروا کر چائے پی کر گھر چلے جاتے ہیں

کمرہ عدالت میں ججز کی موجودگی کو دیکھنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں

جو ججز کمرہ عدالت میں موجود نہیں پائے گئے ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا ہے

مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجہ وکلاء کی ہڑتال تھی

وکلاء کے تعاون سے پنجاب کی عدالتوں میں ہڑتال کلچر کا خاتمہ دیکھنے میں آیا ہے

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

راولپنڈی

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد گھیبہ کا خطاب

8,مارچ 2024 کو فل کورٹ میٹنگ میں تمام ججز نے متفقہ طور پر ہڑتال کلچر کو برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا

فل کورٹ کے فیصلے کو تمام جوڈیشل آفیسر کو بتا دیا گیا

ہڑتال کلچر کے خاتمے کے فل کورٹ کے فیصلے کے بہترین نتائج سامنے آئے

پنجاب کے پروفیشنل وکلاء نے کمال کیا اور وہ ہڑتال کے دن عدالتوں میں بھرپور طور پر پیش ہوتے ہیں

وکلاء کے تعاون سے ہڑتال کلچر کا خاتمہ ہوا

میرے گھر کے باہر آج بھی جسٹس کی نیم پلیٹ نہیں لگی

مجھے وکلاء سے پیار ہے

جن وکلاء نے غیر ضروری ہڑتال کی کال پر ہم سے تعاون کیا ان کا شکر گزار ہوں

*جسٹس وقاص رؤف کا تقریب سے خطاب *

سب سے بڑ ا اس وقت چیلنجز عدالتوں میں موجود کیسز ہیں

ہماری کوشش ہے کہ انھیں جلد از جلد نمٹایا جائے

پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا.. جیسے یہاں ہے

عام تاثر یہ ہے کہ عدالتیں کام نہیں کرتی

مگر حقیقت میں جتنا کام یہاں ہوتا ہے دنیا میں کہیں نہیں ہوتا

ججز صبح سے رات تک انصاف کے جلد فراہمی کے لیئے اپنی پرسنل لائف بھی دے دیتے ہیں

پاکستان میں عدالتوں بارے جو تاثر ہیے وہ غلط ہے

وکلاء اور عدالتیں اپناکام کر رہی ہیں ہماری کیسز نمٹانے کی شرح زیادہ ہے

اے ڈی آر سسٹم۔کے قیام میں جسٹس منصور علی شاہ کا بڑا اہم کردار رہا

بہت زیادہ کیس اس باعث حل ہوئے

بار اور بنچ کی ایفرٹ کے بغیر مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں

راولپنڈی
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا خطاب
وکیل کا کام نہیں کے غیر ضروری طور پر عدالتوں کو تالے لگائیں

اگر آپ کو تالا لگانے کا شوق ہے تو وکالت چھوڑ دیں جوڈیشل عملے کا کام آپ کرلیں تالے لگانے کا شوق پورا کر لیں

بار بار کہتا ہوں وکالت کا شعبہ قابل احترام شعبہ ہے

راولپنڈی

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
ہماری جوڈیشری بغیر کسی ڈر خوف لالچ کے فرائض سر انجام دے رہی ہے

ایک جج سے میری فون پر بات ہوئی جو ان کے ساتھ ہوا وہ سب انہوں نے بتائی

جج صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے خوف نہیں میں اپنا کام ایمانداری سے انجام دوں گا

ججز پر دباو کے حوالے سے شکایات آئی ہیں

اللہ کا خوف رکھنے والے کسی بلیک میلنگ سے نہیں ڈرتے

مجھے پورا یقین ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جوڈیشری میں دخل اندازی جلد ختم ہو گی میرا تجربہ ہے

2007 میں میں عدالتی نظام کی خاطر اکیلا گھر سے نکل پڑا تھا

Exit mobile version