راولپنڈی ٹنچ بھاٹہ کی رہائشی کی طرف سے نامعلوم افراد پر زنا کی fir درج کروائی گئی
جس میں موصوفہ نے درخواست کا مضمون یوں دیا
میں اسٹاپ پر کھڑی تھی نامعلوم بندے نے مجھے گاڑی میں لفٹ دی
میں نے اس کا نمبر لیا اس نے میرا نمبر لیا
کیونکہ موصوفہ کو اپنے بھتیجوں کی شادی کروانی تھی
اس کے لیے اسے سامان درکار تھا
اس نامعلوم شخص کا نام بھی پوچھنا محترمہ نے گوارا نہ کیا
اور تعلق اس حد تک بڑھ گئے
موصوفہ اکیلئے ان کے ساتھ سفر کرنے لگی
پھر وہ ان کو ویرانے میں لے گیا اور اس نامعلوم شخص کے ساتھ ہے اور نا معلوم شخص تھا
دونوں نے مل کر اس کے ساتھ باری باری زنا کیا
اور پھر موصوفہ کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے
موصوفہ ٹینچ سے روات کس کام کے لیے گی
اور ایف آئی آر درج کروانے میں اس کا کوئی فیملی ممبر
تھانے کیوں نہ گیا اس کا شوہر کہاں تھا
اگر اس کا بھائی تھا اور اس کا اگر باپ تھا
وہ اس کے ساتھ تھانے کیوں نہیں گئے
پولیس کو چاہیے ایسا کیس درج کرنے سے پہلے انویسٹیگیشن کرنی چاہیے
جڑواں شہروں میں یہ بلیک میلنگ اور ایک بزنس بنتا جا رہا ہے
ایسے کیسز میں زیادہ تر دونوں طرف سے من مرضی سے معاملات طے پائے جاتے ہیں
اور جلد پیسے وصول کرنے کے بعد معاملات ختم کر دیے جاتے ہیں
یہاں پر بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے اگر من مرضی سے معاملات طے ہوئے ہیں تو اس پر سیکشن کچھ اور لگتا ہے
اس لیے پولیس کو چاہیے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کریں
رپورٹ:افتخار خٹک راولپنڈی
