راولپنڈی : عمر ایوب کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر گفتگو8 فروری کو یوم سیاہ منائیں گے صوابی میں احتجاج ہو گا
مجھے بانی پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کے حوالے کہا تھا دوسری جانب فارم 47 کے ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار تھے
مذاکرات کے لئے انسٹالڈ حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے
اس حکومت کے ہاتھ میں تو یہ بھی نہیں کے ہماری اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کھلے ماحول میں بات کروا سکیں
حالات اتنے خراب ہیں کہ بلوچستان میں ایف سی اہلکاروں کی 18 شہادتیں ہوچکی ہیں
حالات اتنے خراب ہے کہ وزیر اعلی پنجاب آئی جی پنجاب یا کوئی بھی وزیر بغیر پروٹول کے باہر نہیں۔نکل سکتا
عوام کو اصل حالات سے آگاہ نہیں کیا جارہا
بلوچستان کے 8 اضلاع میں پاکستان کا جھںڈا نہیں لہرایا جا سکتا
مکمل طور پر 1971 جیسی صورتحال بن چکی ہے
جب بلوچستان میں دفعہ 144 لگائی گئی تو وہاں لاکھوں لوگ سڑکوں پر تھے
مسنگ پرسن بلوچستان سمیت پورے ملک میں بڑا ایشو ہے ہوش کے ناخن لیں ہم کہاں جارہے ہیں
یہ لوگ عیاشیاں کررہے ہیں ایف بی آر 1010 نئی گاڑیاں لے رہا ہے
شہباز شریف اسمبلی میں تقریر نہیں کر سکتا اس میں ہمت نہیں ہے
موجودہ حکومت نے ملک کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے
یہ سب ڈرپوک لوگ ہیں ہم اپنے چرائے گئے مینڈیٹ پر بات کریں گے
پورے ملک کے دلوں کی دھڑکن بانی پی ٹی آئی ہے
ہم نے پیشین اور زیرو پوائنٹ بارڈر پر جلسے کئے وہاں بھی بانی پی ٹی آئی اور پاکستان کے نعرے لگے
جہاں پاکستان کا کوٙی نعرہ نہیں لگا سکا وہاں ہم نے بانی پی ٹی آئی اور پاکستان کے نعرے لگوائے یہ کوئی اور پارٹی نہیں کرسکتی
موجودہ حکومت کے وزراء میرت ساتھ بلوچستان جاکر دکھائیں میرا چیلنج ہے نہیں جاسکتے
