راولپنڈی : سینئرسول جج (فیملی ڈویژن)وقار احمد سدھو نے سانحہ9 مئی کے ملزمان سے گرفتاری کے دوران لی گئی
قیمتی اشیا فروخت کرنے کے مقدمہ میں گرفتار پولیس کانسٹیبل کوعارضی طور پر جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیاہے گزشتہ روز تھانہ نیوٹاؤن کے سب انسپکٹر عمر صدیق نے صداقت احمد سواتی کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ چونکہ ملزم مقدمہ مذکورہ میں نامزد ہے جسے30جون کو گرفتار کیاگیا تھا جسے یک جولائی کوجسمانی ریمانڈ کے لئے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھاجہاں پر عدالت نے ملزم کے خلاف عائد دفعہ406حذف کر کے 409عائد کرنے کا حکم دیا تھا اس طرح یک جولائی کو ملزم کو سپیشل کورٹ میں پیش کر کے 2روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا لیکن اب چونکہ مقدمہ میں دفعہ409شامل کر دی گئی ہے جو اینٹی کرپشن کا شیڈول جرم ہے لہٰذا اینٹی کرپشن کو تفتیش کی منتقلی تک ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جائے تاکہ تفتیش منتقل کی جا سکے عدالت نے پولیس کی استدعا پر ملزم کو8جولائی تک اڈیالہ جیل بھجوا دیا ہے یاد رہے کہ 9مئی کے واقعات میں نامزد ملزمان نے ضمانت پر رہائی کے بعد اپنی اشیا کی واپسی کے لئے پولیس سے رابطہ کیا جہاں سے انکار پر ملزمان نے عدالت سے رجوع کیا اورانسداد دہشت گردی راولپنڈی کی عدالت نے ملزمان کی درخواست پر پولیس حکام کو معاملہ کی انکوائری کا حکم دیا انکوائری میں مال مقدمہ کے طور پر لی گئی ملزمان کی قیمتی اشیامارکیٹ میں فروخت کرنے کا الزام ثابت ہو گیا جس پر تھانہ نیوٹاؤن پولیس نے پولیس کانسٹیبل صداقت کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ406اور155-Cکے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا تھا تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے 9 مئی کے واقعہ کے بعدمقدمہ نمبر 2106 میں 33 ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن سے جمع کی گئی قیمتی اشیاء میں موبائل فونز، پاسپورٹ، گاڑیوں کی رجسٹریشن بکس، اے ٹی ایم کارڈز، قیمتی گھڑیاں، سونے کی چینز وغیرہ شامل تھیں۔
