راولپنڈی سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ ظہیر صفدر ملک نے امریکی نژاد پاکستانی خاتون وجیہ فاروق سواتی کے اغوا اور قتل کے مقدمہ میں نامزد مقتولہ کے شوہر اور سسر سمیت تمام ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوادیا ہے گزشتہ روز سماعت کے وقت پولیس نے سخت حفاظتی حصار میں مقدمہ میں نامزد مرکزی ملزم و مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب اس کے والد حریت اللہ خان، گھریلو ملازمین سلطان خان، یوسف مسیح، زاہد یوسف اور زاہدہ یوسف کو عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے دوران تفتیش آلہ قتل، نعش ، گاڑی ، مقتولہ کا سامان بیگ اور ملبوسات برآمد کر لئے گئے ہیں جس کے بعد ملزمان سے مزید کسی تفتیش کی ضرورت نہیں نہ ہی مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے جس پر عدالت نے تمام ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا ہے یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا تاہم بعد ازاں ملزم کی جانب سے قتل کے اعتراف اور لاش کی برآمدگی کے بعد مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ302کا اضافہ بھی کیا گیا مقتولہ کے بیٹے کی مدعیت میں درج مقدمہ کے مطابق اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیداد کی خاطر اغوا کر لیاہے تحقیقاتی اداروں کی نشاندہی پر مقتولہ کی نعش برآمد کرنے کے بعد پہلے سے زیر حراست مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب نے قتل کا اعتراف کر لیا تھا رضوان حبیب کی جانب سے دوران تفتیش مزید انکشافات پر پولیس نے اس کے والد اور ملازمین کو بھی گرفتار کیا تھا
راولپنڈی سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ ظہیر صفدر ملک نے امریکی نژاد پاکستانی خاتون وجیہ
