BBC Urdu TV

راولپنڈی : تھانہ سول لائن پولیس نے راولپنڈی کی عدالت میں جوڈیشل افسران کی جعلی مہریں

راولپنڈی : تھانہ سول لائن پولیس نے راولپنڈی کی عدالت میں جوڈیشل افسران کی جعلی مہریں اور دستخط ثبت کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت کے اہلمد فیضان خلیل کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 420،468اور471کے تحت مقدمہ نمبر651کے مطابق 8جون کو مرزا ناصر پرویز نے نے اپنے وکیل کے ذریعے تھانہ کلر سیداں کے مقدمہ قتل میں سپرداری کے لئے درخواست دائر کی جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کے دستخط اور مہر ثبت تھے حالانکہ سپرنٹنڈنٹ کا عہدہ پہلے ہی سٹاف افسر میں تبدیل ہو چکا ہے جس پر نقل ایجنسی سے رپورٹ طلب کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ نقل ایجنسی نے یہ رپورٹ جاری نہیں کی درخواست گزار نے معاملے کی وضاحت کے لئے مہلت طلب کی لیکن2تاریخیں گزرنے کے باوجود کوئی بھی عدالت حاضر نہ ہوا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ درخواست گزار کے پاس اپنے دفاع میں کہنے یا پیش کرنے کو کچھ نہیں ہے لہٰذا ناصر پرویز کے خلاف جعلی مصدقہ نقل پیش کرنے پر مقدمہ درج کیا جائے یاد رہے کہ مرزا ناصرپرویز نے تھانہ کلر سیداں میں گزشتہ سال تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302،201،109،34کے تحت درج مقدمہ نمبر 554میں 8جون کودرخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ رواں سال22مارچ کو اس مقدمہ کافیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا مقتول کے زیر استعمال موبائل فون گلیکسی ایس5،موبائل اوپو ایف7،پانوریمک کمپنی کا ہیڈن کیمرہ، بلب،ایس ڈی کارڈ اور صوفہ سپرداری پر درخواست گزار کے حوالے کیا جائے جو کہ یہ اشیا تھانہ کلر سیداں کے احاطہ میں موجود ہیں اور ان کے ٹوٹنے و خراب ہونے کا خدشہ ہے جبکہ پولیس کو اب ان اشیا کی کوئی ضرورت بھی نہ ہے جس پر عدالت نے مشکوک معاملے کی پڑتال کے بعد اہلمد کو حکم دیاتھا کہ مرزا ناصر پرویز کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Exit mobile version