BBC Urdu TV

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نتاشہ نسیم سپرا نے تھانہ وارث خان

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نتاشہ نسیم سپرا نے تھانہ وارث خان کے مقدمہ قتل میں نامزدملزم کو الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنا دی ہے عدالت نے مقتول کے ورثا کو3لاکھ روپے بطور ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے تھانہ صادق آبادمیں ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل کے 2ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر مقدمہ سے بری کر دیا ہے تھانہ وارث خان پولیس نے مقتول کی اہلیہ ثمینہ محمود کی مدعیت میں گزشتہ سال6جولائی کو خواجہ طیب کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ ملزم نے بیٹی سے چھیڑ خانی سے منع کرنے پر فائرنگ کر کے اس کے شوہر محمود اصغرکو قتل کر دیا تھا گزشتہ روز ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے ملزم کو موت کی سزا سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کی موت واقع ہونے تک اسے پھانسی پر لٹکایا جائے عدالت نے ضابطہ فوجادی کی دفعہ544-Aکے تحت مقتولہ کے قانونی ورثا کو3لاکھ روپے بطور ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے ہدائیت کی کہ ہرجانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کی جائیداد فروخت کر کے رقم وصول کی جائے جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید 6ماہ قید بھی بھگتنا ہو گی ادھر تھانہ صادق آباد پولیس نے گزشتہ سال 5ستمبر کو مقتول کے بیٹے عمیر عباسی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ302کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے اس کے والدکو قتل کر دیا تھا اس مقدمہ میں بعد ازاں پولیس نے طاہر پرویز اور یاور پرویز کو گرفتار کیا تھا گزشتہ روز دوران سماعت ملزمان کے وکلا چوہدری نوید شہزاد،ملک عثمان گھیبہ اور سید الماس حسین شاہ نے حتمی دلائل دیئے عدالت نے ملزمان کے وکلا کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ناکافی شہادتوں کی بنیاد پرشک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Exit mobile version