BBC Urdu TV

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے تھانہ رتہ امرال

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے تھانہ رتہ امرال کے علاقے میں ساتویں جماعت کی طالبہ کو چھریوں کے وار کر کے قتل کرنے کے مقدمہ میں نامزد ملزم کو الزام ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر سزائے موت،10سال قید،5لاکھ روپے ہرجانہ اور1لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ہے عدم ادائیگی ہرجانہ پر ملزم کو مزید 6ماہ قید بھگتنا ہو گی تھانہ رتہ امرال پولیس نے رواں سال14فروری کومقتولہ کے والد زاہد نصیر سکنہ ویسٹریج کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302،354 اور پنجاب آرمز ترمیمی آر ڈی نینس 2015کی دفعہ 13-2(a)کے تحت مقدمہ نمبر 143درج کیا تھا مقدمہ کے متن کے مطابق جماعت ہفتم میں زیر تعلیم مدعی کی12سالہ بیٹی بریرہ زاہد اپنے چھوٹی بہن انشرہ کے ہمراہ ٹیوشن پڑھنے گئی چھٹی کے وقت مدعی اپنے بھائی کے ہمراہ بیٹیوں کو لینے گیا اس دوران عادل زیب ان کے دیکھتے ہی ہاتھ میں چھری لے کر ٹیوشن سینتر میں داخل ہوا جہاں پر اس نے اس کی بیٹی پر چھریوں کے پے درپے وار کئے جسے ہم دونوں بھائیوں نے بمشکل قابو کر کے چھری چھین لی وجہ عناد یہ ہے کہ اس کی بیٹی پہلے ملزم کے پاس ٹیوشن پڑھتی تھی جو اس کی بیٹی پر بری نظر رکھتا تھا اور شکوہ کرنے کی پاداش میں اس نے اس کی بیٹی کو قتل کر دیا گزشتہ روز ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے عادل زیب سکنہ چک مدد خان کو دفعہ302کے تحت موت کی سزا سنا دی جبکہ مقتولہ کے ورثا کو 5لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کی جائیداد بیچ کر مقتولہ کے ورثا کو ہرجانہ کی رقم ادا کی جائے عدم ادائیگی ہرجانہ کی صورت میں ملزم کو مزید6ماہ قید بھگتنا ہو گی اسی طرح دفعہ452کے تحت عدالت نے ملزم کو10سال قید اور1لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Exit mobile version