BBC Urdu TV

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے ضلع کچہری

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے ضلع کچہری میں معزز جج صاحبان کے نام سے جعلی دستخط اور مہریں استعمال کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ کے فوری اندراج کا حکم دے دیا ہے عدالت نے یہ حکم تھانہ کلر سیداں کے مقدمہ قتل میں مقتول کی اشیا کی سپرداری کے لئے غلط دستاویزات جمع کرانے اور جعلی دستخط و مہر استعمال کرنے کے انکشاف پر کیا عدالت نے درخواست گزار کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا حکم دیتے ہوئے سپرداری کے لئے دائر درخواست بھی خارج کر دی ہے مرزا ناصرپرویز نے تھانہ کلر سیداں میں گزشتہ سال تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302،201،109،34کے تحت درج مقدمہ نمبر 554میں 8جون کودرخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ رواں سال22مارچ کو اس مقدمہ کافیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا مقتول کے زیر استعمال موبائل فون گلیکسی ایس5،موبائل اوپو ایف7،پانوریمک کمپنی کا ہیڈن کیمرہ، بلب،ایس ڈی کارڈ اور صوفہ سپرداری پر درخواست گزار کے حوالے کیا جائے جو کہ یہ اشیا تھانہ کلر سیداں کے احاطہ میں موجود ہیں اور ان کے ٹوٹنے و خراب ہونے کا خدشہ ہے جبکہ پولیس کو اب ان اشیا کی کوئی ضرورت بھی نہ ہے عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے درخواست پر بحث اور پیروی کے لئے کوئی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا فیصلے میں کہا گیا کہ سپرداری پٹیشن پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کے دستخطوں کے ساتھ مہر ثبت تھی لیکن سپرنٹنڈنٹ کے نام کی جگہ سٹاف افسر تحریر تھامعاملہ مشکوک جاننے پر نقل برانچ سے اس کی نقل منگوائی گئی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ نقل برانچ نے اس حوالے کوئی مصدقہ نقل جاری نہیں کی جس کے بعد درخواست گزار کے وکیل کی استدعا پر معاملے کی پڑتال کی مہلت دی گئی لیکن2دن گزرنے کے باوجود کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہواجس پر عدالت نے اہلمد کو حکم دیا کہ مرزا ناصر پرویز کے خلاف تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کروایا جائے۔

رپورٹ : راولپنڈی افتخار خٹک سے

Exit mobile version